این اے 256 سروے رپورٹ

Karachi-Central-District-Area
(رپوٹ: سجاد علی)
کراچی ، این اے۔ 256 کراچی سینٹرل (4) پی ایس ۔129 اور پی ایس ۔130  کے دو صوبائی اسمبلی کے حلقوں پر مشتمل قومی اسمبلی کا حلقہ این اے ۔256 کی نئی حلقہ بندی میں پاپوش نگر،سر حدکالون ی،انٹربورڈآفس،کٹی پہاڑی،ابوذرکالونی،عثمان غنی کالونی ،بمبئے ٹائون ،بلال آباد، نارتھ ناظم آباد کے بلاک اے، بی، سی ،ڈی، ای، ایف، جی، ایچ، کے ، ایم، این، ایس، ٹی ، حیدری،ضیاالدین اسپتال،کوثر نیازی کالونی،پیپلز کالونی،،نصرت بھٹوکالونی،سیکٹر11-سی،11 -ای،11 -ایچ،7- سی،7-ڈی،14- اے اور سیکٹر 10،سخی حسن چوک،سرینا موبائل مال ، سیکٹر15-اے، سیکٹر15-بی، سیکٹر16-اے، بروہی گوٹھ، بفرزون،آدم ٹائون،سرسیدٹائون، لتیف نگر شامل ہیں۔ دو صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس ۔ 129کراچی سینٹرل (7) اور پی ایس ۔ 130کراچی سینٹرل (8) قومی اسمبلی کے اس حلقے کا حصہ ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حالیہ راعداد و شمار کے مطابق این اے۔256کراچی سینٹرل (4) میں کُل رجسٹرڈ ووٹرز چار لاکھ اُناسی ہزارچھ سو پیسنٹھ (489665) ہے، جن میں مرد ووٹرز دو لاکھ باسٹھ ہزار چار سو پچیس (262425) اور خواتین ووٹرز دو لاکھ ستائیس ہزار دو سو چالیس (227240) ہے۔ اس حلقہ انتخاب کی اکثریت اردو بولنے والوں پر مشتمل ہےجو ماضی میں ایک خاص جماعت کو سپوٹ کرتے رہے ہیں۔ 2018ء کے انتخاب اس حلقے سے جو اہم سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں ان میں(پاکستان مسلم لیگ(ن) ،شیر) کے دوست محمد فیضی،(پی پی پی پی،تیر) سید ساجد حسن،(اے این پی ،لالٹین) کی صوفیہ ےیعقوب،(متحدہ قومی مومینٹ،پتنگ)عامرولی الدین چشتی،(پی ایس پی،ڈولفن)محمدعادل صدیقی،(پی ٹی آئی،بلا)محمدنجیب ہارون،(ایم ایم اے،کتاب)معراج الہدیٰ صدیقی شامل ہیں۔ اس حلقے میں ایک بڑی اکثریت کی انتخابات میں عدم دلچسپی کے باعث معراج الہدیٰ صدیقی،سید ساجدحسن،دوست محمد فیضی بھی عامر ولی الدین چشتی کو ٹف ٹائم دیتے نظر آرہے ہیںجبکہ اس حلقے میں (تبدیلی )کے کوئی آثا ر نظر نہیں آتے ۔ تبدیلی کا مطلب تو اب سب ہی جانتے ہیں۔
men voters
پی ایس ۔ 129کراچی سینٹرل (7)
پی ایس ۔129 پاپوش نگر،سرحدکالونی،انٹربورڈآفس،کٹی پہاڑی،ابوذرکالونی،عثمان غنی کالونی، نارتھ ناظم آباد کے بلاک نارتھ ناظم آباد کے بلاک اے، بی، سی ،ڈی، ای، ایف، جی، ایچ، کے ، ایم، این، حیدری،ضیاالدین اسپتال،کوثر نیازی کالونی،پیپلز کالونی اور ملحقہ علاقوں پر مشتمل ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق پی ایس ۔ 129میں کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو لاکھ بتیس ہزار ایک سو باسٹھ (232162) ہے جن میں مرد ووٹرز ایک لاکھ چوبیس ہزار تین سو اُناسی (124379) جب کہ خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ سات ہزارچھ سو سرسٹھ (107667) ہے۔ اس حلقے میں جن سیاسی جماعتوں کے اُمیدوار مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں ان میں دل محمد ۔پی پی پی پی، اویس زاہد رانا۔ جی ڈی اے ، سید عمران علی شاہ۔ پی ٹی آی، فیصل معیزخان۔ پی ایس پی، محمد توقیر رندھاوا ۔پی ایم ایل (ن)، محمد سیلمان۔ اللہ و اکبر تحریک، معاذمقدم ۔متحدہ قومی مومیٹ ، نعیم۔ ایم ایم اے، نیاز محمد۔اے این پی شامل ہیں۔ اس حلقے کے ووٹرز کی انتخابات میں عدم دلچسپی کےسبب متحدہ قومی مومینٹ اس نشست سے ہاتھ دھوتی دکھائی دے رہی ہے۔
women voters
پی ایس ۔ 130کراچی سینٹرل (8)
پی ایس ۔130 بمبئےٹائون،بلال آباد،بلاک نارتھ ناظم آباد کے بلاک ایس، بلاک ٹی، نصرت بھٹو کالونی، سیکٹر11-سی،11 -ای،11 -ایچ،7-سی،7-ڈی،14-اے اور سیکٹر 10سخی حسن چوک،سرینا موبائل مال، ،سیکٹر15 -اے،،سیکٹر15-بی، ،سیکٹر16-اے، بروہی گوٹھ، بفرزون، آدم ٹائون ،سرسیدٹائون، لتیف نگر ااور ملحقہ علاقےشامل ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے رکاڈ کے مطابق پی ایس ۔ 130میں کُل رجسٹرڈووٹرز کی تعداددو لاکھ ستاون ہزار پانچ سو تین (257503) ہے جن میں مرد ووٹرز ایک لاکھ ارتیس ہزار چھتیس (138026) جب کہ خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ انیس ہزار چار سو سرسٹھ (119467) ہے۔ پی ایس ۔ 130سے جو امید وارمقابلہ کر رہے ہیں ان میں آصف بخش ۔ متحدہ قومی موومنٹ، خرم فیاض ۔ پی ایس پی، عاطف مشتاق ۔ پی پی پی پی، محمد جہاںزیب عالم۔ پی ایم ایل (ن)، محمد نسیم صدیقی ۔ ایم ایم اے، محمد ریاض حیدر ۔ پی ٹی آئی، نعمت خان ۔ اے این پی شامل ہیں۔ اس حلقے سے پی پی پی پی کی کامیابی کے کافی روشن امکانات ہیں۔
حلقے کے مسائل
حلقے کے متعدد علاقوں میں پینے کے پانی کی عدم فراہمی،بجلی کی غیر اعلانیہ بندش، کے الیکٹرک کی اوور بلنگ،گیس کی لوڈشیڈنگ اور گیس کے پریشر میں کمی،کوڑے کے ڈھیر،چوری،ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتیں، پبلک ٹرانس پورٹس کی کمی، سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور دیگر مسائل شامل ہیں۔
سروے رپوٹ
حلقے کے عوام سے جب پوچھاکہ وہ کس کو کامیاب کرائیں گے تو جواب کچھ اس طرح آیا۔ متحدہ قومی مومنٹ 20فیصد، پی پی پی پی 12فیصد، پی ایم ایل(ن) 8 فیصد،ایم ایم اے16فیصد، پی ٹی آئی 4 فیصد، دیگر جماعتیں 10فیصد اور 30فیصد وہ لوگ ہیں جو ووٹ ڈال کر کیا کریں گے۔ یہ سروے 6 جولائی 2018ء تک ہے۔

About abdur rahman

Biographical Info

Top