حلقہ این اے 243 اہم ترین قرار، کانٹے کا مقابلہ متوقع

کراچی کا حلقہ این اے 243 کو اہم ترین حلقہ قرار دے دیا گیا ہے، حلقے میں پیپلز پارٹی رہنما شہلارضا، پی ٹی آئی چیئرمین عمران ، متحدہ مجلس عمل کے رہنما اسامہ رضی اور ملی مسلم لیگ کے نائب صدر مزمل اقبال ہاشمی  مدمقابل ہوں گے جس کی وجہ سے کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے ۔ حلقے میں متحدہ پاکستان کی پوزیشن کمزور ہے جبکہ ووٹرز کی اکثریت اردو بولنے والوں کی ہے۔ اسی حلقے میں دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں سمیت 14 امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

na-243-karachi

حلقے کی خاص بات  یہ کراچی کے ان حلقوں میں سے ایک ہے جہاں شرح تعلیم 80فیصدہے۔این اے 243 کی کل آبادی 6 لاکھ 95 ہزار5 سو 88 ہے۔جس میں سے اکثریت اردو اور گجراتی بولنے والوں کی ہے۔اس حلقے میں 4 لاکھ 1 ہزار 8 سو 33 ووٹر رجسٹرڈ ہیں۔جن میں سے مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 11 ہزار 1 سو68 جبکہ خواتین ووڑز کی تعداد 1لاکھ 90 ہزار 6 سو 25 ہے۔حلقہ این اے 243کی حدود میں بہادرآباد، شرف آباد، لیاقت نیشنل اسپتال، آغا خان اسپتال، فیضان مدینہ، ایکسپو سینٹر، حسن اسکوائر، پاناما سینٹر، بیت المکرم مسجد، شانتی نگر، مجاہد کالونی، الہ دین پارک، گلشن اقبال تمام بلاکس، میٹروول تھری، کراچی یونی ورسٹی، گلستان جوہر شامل ہیں۔کراچی کا حلقہ این 243 بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔یہ حلقہ پہلے این اے 253 ہوا کرتا تھا۔تاہم نئی حلقہ بندیوں کے بعد این اے 253 کے اکثر علاقوں اور این اے 252 کے کچھ علاقوں کو ملاکر حلقہ این اے 243 تشکیل دیا گیا ہے۔تاہم 90 فیصد علاقے وہی ہیں جو این اے 253 میں شامل تھے۔

ماضی کی بات کریں تو 2013 کے الیکشن میں سابقہ این اے 253 اور موجودہ این اے 243 سے ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر مزمل قریشی نے ایک لاکھ 1 ہزار 385ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ دوسرے نمبر پر محمد اشرف جبار قریشی نے 61 ہزار913ووٹ حاصل کئے۔جماعت اسلامی کے اسداللہ بھٹو نے 12 ہزار 651 ووٹ لیکر تیسری جبکہ پیپلزپارٹی کے محمد مراد بلوچ نے 10ہزار 127ووٹ لیکر چوتھی پوزیشن لی تھی۔یہاں یہ بات قابل زکر ہے کہ جماعت اسلامی نے دن ایک بجے ہی بائیکاٹ کردیا تھا۔جبکہ 2008 کے الیکشن میں ایم کیو ایم کے حیدرعباس رضوی 2008 میں 96 ہزار سے زائد ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ پیپلزپارٹی کے سید فیصل رضا عابدی 47 ہزار 1سو1 ووٹ لیکر دوسرے مسلم لیگ ن کے سبوخ الدین 4 ہزار 1سو60 ووٹ لیکر تیسرے اور جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالکریم 2 ہزار 7 سو 47 ووٹ لیکر چوتھے نمبر پر رہے۔2008 کے الیکشن میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کردیا تھا اور الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا۔

2002 کے الیکشن میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے جماعت اسلامی کے امیدوار اسداللہ بھٹو نے 28 ہزار 8 سو 40 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فہیم الدین 25 ہزار 9 سو 60ووٹ لیکر دوسرے، پیپلزپارٹی کے شفیع محمد شاہ 13ہزار 9سو47 ووٹ لیکر تیسرے اور تحریک انصاف کے علی حیدر سلیم 4 ہزار 3 سو 74 ووٹ لیکر چوتھے نمبر پر رہے۔گزشتہ انتخابی نتائج کو مدنظررکھا جائے تو ایم کیو ایم پاکستان انتہائی مضبوط پوزیشن کی حامل نظر آتی ہے اور بظاہر ایم کیو ایم کو جیتنے میں خاص مشکل پیش نہیں آنی چاہیے۔مگرالیکشن 2013 میں ایم کیو ایم کے فاتح امیدوار مزمل قریشی پی ایس پی کو پیارے ہوچکے ہیں اور اب اسی حلقے سے پی ایس پی کے امیدوار ہیں۔تاہم ایم کیو ایم کے حیدرعباس رضوی 2008 میں 96 ہزار سے زائد ووٹ لیکر جیت چکے ہیں۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزمل قریشی شخصی ووٹ نہیں رکھتے بلکہ اس حلقے میں ووٹ ایم کیو ایم کا ہے۔

یہاں یہ بات قابل زکر ہے کہ ایم کیو ایم کے صف اول کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے اسی حلقے سے امیدوار تھے بعدازاں ان کے کاغذات نامزدگی اس لئے مسترد کردئے گئے تھے کہ انہوں نے این اے 243 کے ریٹرننگ افسر کے بجائے این اے 242 جے ریٹرننگ افسر کے پاس کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔تاہم خواجہ اظہار نے اپلیٹ ٹریبونل میں اپیل کی اور اپلیٹ ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی تھی۔مگر اس کے بعد ایم کیو ایم نے یوٹرن لیتے ہوئے حیران کن طور پر خواجہ اظہار کو اس حلقے سے الیکشن نہ لڑانے کا فیصلہ کیا اور ان کی جگہ علی رضا عابدی کو امیدوار نامزد کردیا۔حالانکہ سیاسی پنڈتوں نے خواجہ اظہار کے قدکاٹھ اور ایم کیو ایم کے تنظیمی نیٹ ورک کے پیش نظر عمران خان کی خواجہ اظہار کے ہاتھوں ممکنہ شکست کی پیش گوئی بھی کردی تھی۔ایم کیو ایم کے پیچھے ہٹنے کا سبب اندرونی اختلافات بنے۔ایم کیو ایم بانی متحدہ سے علیحدگی کے بعد تنظیمی خلفشار کا شکار رہی ہے جس کا اثر اس حلقے کے تنظیمی نیٹ ورک پر بھی ہوا ہے اسی لئے ایم کیو ایم نے خواجہ اظہار کو کھڑا کرنے کا رسک نہیں لیا ہار کی صورت میں ایم کیو ایم کو سبکی کاسامنا کرنا پڑتا۔

ایم کیو ایم نے علی رضاعابدی کو نامزد کر کے اہل تشیع ووٹ بینک کو کوور کرنے کی کوشش کی ہے اس حلقے میں اہل تشیع مکتب فکر کا اچھا خاصہ ووٹ بینک ہے۔علی رضاہ عابدی اس سے قبل بھی ایم این اے رہے ہیں تاہم عوامی لحاظ سے وہ اس قدر معروف نہیں ہیں۔یہ الیکشن ایم کیو ایم کیساتھ ساتھ ان کیلئے بھی ٹیسٹ کیس ہوگا۔خواجہ اظہار کے بعد سب سے مضبوط امیدوار پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ہیں۔جن کی مقبولیت عروج پر ہے اور ان کی جماعت 2002 کے ووٹ کو 2013 میں 15گنا تک بڑھا چکی ہے۔گزشتہ الیکشن کے 61 ہزار 9 سے زائد ووٹوں کو مدنظر رکھا جائے تو عمران خان کا شخصی ووٹ بینک انہیں 20 سے 30 ہزار اضافی ووٹ دلاسکتا ہے۔جبکہ عمران خان کو پی ٹی آئی کراچی کی قیادت کے باعث التشیع اور اسماعیلی مکتب فکر کے ووٹ ملنے کی بھی قوی امید ہے۔اردو اسپیکنگ ووٹ جو اس حلقے کی سیاست کا رخ متعین کرتا ہے۔اس بار ایم کیو ایم کی تقسیم کے باعث تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کی طرف رخ کرسکتا ہے۔جس سے پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔

گزشتہ انتخابات کی طرح اس بار ذیادہ ٹرن آوٹ نظر آنے کا امکان کم ہی ہے۔80 سے 90 ہزار ووٹ حاصل کرنے والا امیدوارکامیابی حاصل کرلے گا۔متحدہ مجلس عمل کے اسامہ رضی بھی اس حلقے سے مضبوط امیدوار ہیں۔اسامہ رضی دیگر امیدواران کے مقابلے میں تعلیمی لحاظ سے کافی آگے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سےپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔2002 میں گوکہ ایم اے ایم یہاں سے کامیاب ہوئی تھی تاہم عمران خان کے مقابلے پر ایم ایم اے کیا کارکردگی دکھاتی ہے یہ 25 جولائی کو ہی معلوم ہوسکے گا مگر اسامہ رضی اپ سیٹ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ایم ایم اے میں شامل جماعت اسلامی اردو اسپیکنگ ووٹ بینک رکھتی ہے جبکہ ایم ایم اے کے باعث اسامہ رضی کو اہل تشیع مکتب فکر کا ووٹ ملنے کی امید بھی ہے جبکہ اس حلقے میں آباد دیوبندی و دیگر مکاتب فکر کا مذہبی ووٹ بھی اسامہ رضی کو مل سکتا ہے۔ان کی کامیابی کے امکانات عمران خان کی نسبت کم ہیں تاہم اسامہ رضی اپ سیٹ کرسکتے ہیں۔پیپلزپارٹی نے یہاں سے سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلارضا کو امیدوار نامزد کیا ہے۔

شہلارضا کو بھی اہل تشیع مکتب فکر کا ووٹ پڑے گا ماضی میں فیصل رضا عابدی کے 47 ہزار ووٹوں کو دیکھا جائے تو شہلارضا بھی اچھے خاصے ووٹ لیں گی تاہم ان کی کامیابی کا تعین بھی 25 جولائی کو ہی۔ہوسکے گا۔شہلارضا کا بھی ذیادہ انخصارالتشیع ووٹ بینک پر ہوگا۔اور التشیع ووٹ تقسیم ہونے سے ایم ایم اے کو فائدہ ہوسکتا ہے۔پی ایس پی کے امیدوار سابق ایم این اے مزمل قریشی ہیں۔جو ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے تاہم ان کی۔کامیابی کے زیادہ۔امکانات نظر نہیں آتے انہیں اردو اسپیکنگ ووٹ مل سکتا ہے مگرمصطفیٰ کمال کا فلسفہ ووٹرز پر کتنا اثر انداز ہوا ہے یہ 25 جولائی کو ہی سامنے آئے گا۔دیگر امیدواروں میں تحریک لبیک پاکستان کے سید نوازہدیٰ ،مسلم لیگ ن کے شاہجہان اور مہاجر قومی موومنٹ کے سید علی رضا قابل زکر ہیں۔جو 4 سے 10 ہزار تک ووٹ لے سکتے ہیں۔

Top