این اے253 سروے رپورٹ

رپوٹ: سجاد علی
253
قومی اسمبلی کے حلقہ 253 میں دو صوبائی حلقے پی ایس ۔ 123اور پی ایس ۔ 124امل ہیں۔ وفاقی سطح پر اس حلقے میں سیکٹر 7-بی، 11-اے، 11-بی، رشید آباد، خواجہ اجمیر نگری، گوٹھ غلام محمد، al-ahmad town، سیکٹر 5-اے، 5-بی، سیکٹر 3، 4، 8،9، سیکٹر 5 – ڈی، 5 -ای، 5- ایف، 5 -جی، 5 – ایچ، 5 -جے، 5 -ایل، 5 -ایم، سیکٹر 11 -ڈی، لال مارکیٹ، خمیسوگوٹھ، محمد بن قاسم اسٹیڈیم،مدینہ کالونی،ہارون ویو وغیرہ شامل ہیں۔ اس حلقےکی آبادی لوئر مڈ ل کلاس اور مزدور طبقہ سے تعلق رکھتی ہے۔ نئی حلقہ بندی کے بعد این اے ۔ 253 میں مرد رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو لاکھ تیس ہزار آٹھ سو چھبیس (230826) اور خواتین رجسٹرڈ کی تعداد ایک لاکھ تہتر ہزار دو سو ستائیس (173227) ہے اس طرح اس حلقے میں کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد چار لاکھ چار ہزار تریپن (404053) بنتی ہے ۔یہ اعداد وشمار الیکشن کمیشن آف پاکستان کےمطابق ہیں۔ اس وفاقی حلقے سے جو امید وار میدان میں اترے ہیں ان میںاسامہ قادری (متحدہ قومی مومینٹ پاکستان،پتنگ)، چوہدری محمد جاویداسحاق (پی پی پی پی،تیر)، خالد ممتاز (پی ایم ایل ۔ن،شیر)،سید مصطفیٰ کمال ( پی ایس پی، ڈولفن)، محمد اشرف جبار (پی ٹی آئی،بلا)، محمد فاروق خان (مہاجر قومی مومینٹ،موم بتی) اور منعم ظفر خان(ایم ایم اے،کتاب) شامل ہیں۔ ماضی میں ان خاص اردو بولنے والے علاقوں سے کراچی کی ایک جماعت کلین سویپ کرتی رہی ہے مگر 2018 ء کے الیکشن میں اس حلقے سے متحدہ قومی مومنٹ کا جیتنا کسی معجزہ سے کم نہ ہو گا کیوں کہ اردو بولنے والوں کی ایک بڑی اکثریت ووٹ ڈالنے کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔ یہ حلقہ تمام سیاسی جماعتوں کے لئے کھلا ہےخاص طور پر اس حلقے میں منعم ظفر خان، چوہدری جاوید محمد اسحاق، محمد اشرف جباراور اسامہ قادری میں سخت مقابلہ ہونے کی توقع ہے۔
پی ایس ۔ 123 کراچی سینٹرل (1)
سندھ، صوبائی اسمبلی کا حلقہ123 میں کُل ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ ستانوے ہزار آٹھ سو اُناسی (197879) ہے جن میں مرد ووٹرز ایک لاکھ دس ہزار دو سو تیتالیس (110243) جب کہ خواتین ووٹرز ستاسی ہزار چھ سو چھتیس (87636) ہیں۔ پی ایس ۔ 123 سیکٹر 7-بی، 11-اے، 11-بی، رشید آباد، خواجہ اجمیر نگری، گوٹھ غلام محمد، al-ahmad town، سیکٹر 5-اے، 5-بی، سیکٹر 3، 4، 8،9 اور دیگر علاقے اس حلقے میں شامل ہیں۔ اس حلقے سے جو قومی اور مذہبی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں ان میں ریحانہ انجم (پی پی پی پی ،تیر)، سید کامران علی رضوی (مہاجر قومی موومنٹ، موم بتی)، عمیر فیاض (پی ایم ایل۔ن،شیر)، محمد علی طارق (جی ڈی اے،ستارہ)، فیضان مسلم (پی ٹی آئی،بلا)، محمد یوسف (ایم ایم اے،کتاب)،ملک مطلوب علی اعوان(سنی تحریک،ٹیبل لیمپ)، نائلہ منیر(پی ایس پی، ڈولفن) اور وسیم الدین قریشی (متحدہ قومی مومینٹ، پتنگ) شامل ہیں۔ماضی میں یہ علاقے بھی متحدہ قومی مومینٹ کا گڑھ رہے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں اس حلقے میں کافی سخت مقابل کی امید ہے۔
پی ایس ۔ 124 کراچی سینٹرل (2)
سندھ ،صوبائی اسمبلی کا حلقہ 124 میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو لاکھ چھ ہزار ایک سو چوہتر (206174)ہے جن میں رجسٹرڈ مرد ووٹرز ایک لاکھ بیس ہزار پانچ سو تراسی (120583) جب کہ خواتین رجسٹرڈ ووٹرز پچاسی ہزار پانچ سو اکیانوے (85191) ہے۔ پی ایس ۔ 124 میں سیکٹر 5 – ڈی، 5 -ای، 5- ایف، 5 -جی، 5 – ایچ، 5 -جے، 5 -ایل، 5 -ایم، سیکٹر 11 -ڈی، لال مارکیٹ، خمیسوگوٹھ، محمد بن قاسم اسٹیڈیم،مدینہ کالونی،ہارون ویو وغیرہ شامل ہیں۔ اس حلقے سے خواجہ اظہارالحسن (پتنگ)، سراج احمد (لالٹین)، سید عمر محمد سمیع (ٹیبل لیمپ)، سید مصطفیٰ کمال (ڈولفن)، شمیم ممتاز (تیر)، عامراختر(موم بتی)، محمد خالد صدیقی (کتاب)، اور مدثر رحیم (شیر) کے امیدوار اپنی اپنی سیاسی و مذہبی جماعتوں کی نمائندگی کے لئے میدان میں ہیں۔ اس حلقے کے ووٹرز میں خواجہ اظہارالحسن کے لئے ہمدردی کے جذبات پائے جاتے ہیںاب دیکھنا یہ ہے کہ 25 جولائی 2018 ء کے انتخابات میں یہ ہمدردی کا ووٹ خواجہ اظہارالحسن کے سر جیت کا سہراسجاتاہے یا نہیں۔
حلقے کے مسائل
پی ایم ایل (ن) کی وفاقی حکومت نے ٹرانسپوٹ کامسئلہ حل کرنے کے لئے گرین لائن منصوبہ شروع کیا تھا ،اب تک یہ منصوبہ تو مکمل نہ ہوسکالیکن اب یہ گرین لائن کا منصوبہ ہی حلقے کے عوام کے لئے سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے جو کہ ٹریفک کے جام ہونے کاسبب ہے۔ اس کے علاوہ پانی کی بندش، نکاسی آب کا نظام کا ناکس نظام جس کی وجہ سے گٹر کے پانی کا گلیوں اور سڑکوںپر کھڑا ہونا،جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، صحت اور علاج معالجے کی سہولیات، تجاوزات ،بےروزگاری، چور ی و رہزنی قابل ذکر ہیں۔
سروے رپوٹ
کراچی اپ ڈیٹس کے سروے کے دوران حلقے کے لوگوں سے سوال کیا گیا کہ وہ کس کو ووٹ دیں گےکے جواب میں لوگوں کی رائے کچھ اس طرح سامنے آئی۔ متحدہ قومی موومنٹ18 فیصد، پی ایم ایل(ن) 16فیصد، پی پی پی پی12فیصد، پی ٹی آئی 6 فیصد، دیگرجماعتیں 16فیصداور 32فیصد لوگوں نے پولنگ والے دن گھروں میں آرام کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔ یہ سروے 7جولائی 2018ء تک کا ہے۔

About abdur rahman

Biographical Info

Top