راہ حق پارٹی کے امیدوار مولانا اورنگزیب فاروقی کا خصوصی انٹرویو

Ourangzeb farooqiانٹرویو: الفت اکرم
اہلسنت والجماعت کے مرکزی صدر اور ملیر کے حلقے این اے 238 سے راہ حق پارٹی کے امیدوار مولانا اورنگزیب فاروقی کراچی میں پیدا ہوئے اور بنوری ٹاو¿ن سے اپنی تعلیم مکمل کی۔ 22 جون 2014ءمیں انہیں جھنگ میں ایک تنظیمی اجلاس میں اہل سنت و الجماعت کا صدر نامزد کردیا گیا اور احمد لدھیانوی جو کہ صدر تھے انہیں سرپرست اعلی کا عہدہ دے دیا گیا۔ کراچی کی سیاست میں اہل سنت و الجماعت کا اہم کردار رہا ہے اور حالیہ الیکشن میں بھی بھرپور طریقے سے مہم چلائی جارہی ہے۔ دیوبند ووٹ بینک اگرچے جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے پاس بھی جائے گا مگر زیادہ تر ووٹ اہلسنت و الجماعت کے پاس ہی آئے گا۔ مرکزی صدر اور پارٹی کی جانب سے آئندہ کیا لائحہ عمل طے کیا گیا اور موجودہ پارٹی کی صورت میں منشور کیا ہے؟ کراچی اپ ڈیٹس کی ٹیم کی جانب سے کیا گیا مولانا اورنگزیب فاروقی کا خصوصی انٹرویو قارئین کی نذر کیا جارہا ہے۔ پڑھ کر اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیے گا۔
سوال: سے پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ آپ کی الیکشن مہم کیسی جارہی ہیں؟
مولانا اورنگزیب فاروقی: الحمداللہ ہماری الیکشن مہم بہت اچھی جارہی ہیں۔ ہم کارنرمیٹنگز کررہے ہیں، جلسے بھی منعقد کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے کئی بڑی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں سے اتحاد بھی ہورہے ہیں اور آئندہ بھی ممکن ہے ہم مزید اتحاد کریں گے۔ ہماری سیاست کا مقصد ہی عوام کی خدمت اور فلاح کے لیے کام کرنا ہے اور ہم اپنی مہم کو اسی طرح سے چلا رہے ہیں۔
سوال: آپ اسلامی جماعت ہیں، تو سیاست میں آنے کا مقصد اور وجہ؟
مولانا اورنگزیب فاروقی: میں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز اسلامی جماعت سے کیا ہے اور ہم مذہبی طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پاکستان میں اسلامی نفاذقا ئم کرنے کی کو شش کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ 2013 کے الیکشن میں پی ایس128 سے کامیابی بھی حاصل کی لیکن کچھ بیرونی قوتوں نے ہرایا۔ اس وقت ایم کیو ایم زوروں پر تھی اور اس کا اپنا ایک طریقہ کار تھا۔ اس نے عدالتوں میں زور ڈلواکر، ٹھپہ لگواکر اور عملے کو یرغمال بناکر 14پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ بدل دیا۔ 72 میں سے 14 پولنگ اسٹیشن نکال کر باقی سب سے میں جیتا ہوں۔ اس کے بعد 5سال میں عوام میں رہا ہوں میں نے عوام کی خدمت کی ہے۔ لوگ مجھے جانتے ہیں۔ لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں اسی لیے لوگ میرے ساتھ ہیں۔ میرے ساتھ ایک نہیں کئی پارٹیوں کے لوگ ہیں۔ مجھے دوسرے پارٹیوں کے لوگ بھی ووٹ دیتے ہیں۔ عوام کا مجھ پر اعتماد ہے۔ اسی اعتماد کی وجہ سے میں نے 2018ءکے الیکشن میں اپنے لیے حلقے NA 243کا انتخاب کیا۔ میں ےہیں رہتا ہوں اور لوگ مجھے بچپن سے جانتے ہیںاور ہم محنت کر رہے ہیں اور ہماری الیکشن کی مہم بہت اچھی جارہی ہے۔

سوال: آپ نے کہا 2013ءدھاندلی ہوئی تو اب کے بار الیکشن کو کیسا دیکھ رہے ہیں؟
مولانا اورنگزیب فاروقی: اس وقت کی جو صورتحال ہے وہ تو بہت اچھی ہے اور ہم لوگ پرامن طریقے سے اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ تمام علاقوں میں جارہے ہیں ۔ کوئی علاقہ نو گو ایریا نہیں بنا ہوا اور نہیں کوئی پریشانی ہورہی ہے۔ کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ پینا فلیکس کی بھرمار ہوتی تھی اس میں بھی بہت کمی آئی ہے۔ ابھی تک الیکشن کا ماحول بہت پرامن ہے۔ ہم بہت پرامن طریقے سے الیکشن میں مصروف ہیں اور اگر ایسا ہی رہا تو یقینا الیکشن پرامن اور شفاف ہوں گے۔اب تک دور دور تک کوئی دھاندلی ہوتی دیکھائی نہیں دے رہی۔

سوال: آپ کی پارٹی کا منشور کیا ہے؟
مولانا اورنگزیب فاروقی: سب سے پہلی بات ہماری پارٹی کے منشور میں تعلیم ہیں ۔ قوم کو جب تک آپ تعلیم نہیں دیں گئے تو قوم باشعور نہیں ہو گئی اور قومیں ترقی نہیں کریں گئی۔ ہمارے علاقوں میں جو اسکول کی کیفیت ہیں اور جو یہاں کالج یونیورسٹیاں نہ ہونے کے برابر ہیںیہاں بچیوں کی تعلیم کا کوئی مضبوط سلسلہ نہیں ہیںعلاقہ سے بہت دور جانا پڑتا ہے تو ہماری سب سے پہلی اور بنیادی ترجیح تعلیم ہیں۔تعلیم کے بعد ہماری دوسری چیز صحت ہیں۔یہاں کے اسپتال، بہت گنجان آبادی ہے یہاں بہت زےادہ بیماری ہے کچرے کے ڈھیر یہاں لگے ہوئے ہیں۔ پانی ٹھیک نہیں مل رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں ان کی صحت کا خیال رکھا جائے اچھے اسپتال یہاں بنائے جائے اچھے ڈاکٹر یہاں لائیں جائیں تاکہ لوگوں کو دور جانا نہ پڑے۔یہاں سے اسپتال بہت دور ہے جناح اسپتال جاتے جاتے انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ا سکے علاوہ ہم لوگوں کے لیے روزگار چاہتے ہیں اس سے معاشرے میں چوری ، ڈکیتی جیسے مسائل کم ہوگئے۔لوگ آسانی سے اپنی زندگی گزارسکے گئے۔چوتھی چیز پرامن اور مستحکم پاکستان اس میں جتنے اختلاف انتشار ہیںوہ قانون کے ذریعے حل کیے جائیں، روڈوں، چوکوں پر انہیں زور طاقت نہ روکا جائیںبلکہ قانون کا سہارالیا جائے اس سے ہمارا ملک مضبوط بھی ہوگا اور ہم ترقی بھی کرے گئے۔یہ ہمارے منشور کی بنیادی چیزیں ہیں۔ اس کے علاوہ سڑکوں کی مرمت، کچرا کونڈیوں کی صفائی، لوگوں کے مسائل کے حل ۔

سوال: آپ کے سیاسی منشور میںخواتین کی حفاظت کے لیے کوئی نقطہ نظر ہیں؟
مولانا اورنگزیب فاروقی: ہمارے یہاں تو خواتین الحمداللہ خواتین محفوظ ہیں اور رہنی بھی چاہیے اور خواتین معاشرے ایک بہت اہم اور بنیادی حصہ ہے۔ مردوںسے زیادہ اکثریت خواتین کی ہے اور ان سب کا تحفظ ہم سب کی ضرورت ہیں۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ اپنی ماں بہنوں کا تحفظ کرے۔ پاکستان کی ہر ماں ہماری ماں ہے اور ہر بیٹی ہماری بیٹی ہیںاور ان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہیں۔

سوال: آپ کے مد مقابل بڑی شخصیات ہیں اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہیں؟
مولانا اورنگزیب فاروقی: جتنی بڑی شخصےات ہوگئی مقابلہ بھی اتنا ہی سخت ہوگا اور بڑی شخصیات کو ہم نے ہرادیا تو ہماری شخصیت بھی بڑی ہوجائے گی۔

سوال: پہلے انتخابی نشان سیڑھی تھا اب استری کیوں؟
مولانا اورنگزیب فاروقی: اس وقت ہم متحدہ دینی محاذ کے اتحاد میں شامل تھے اور سیڑھی اتحاد کا انتخابی نشان تھی اور اس وقت ہم اتحاد میں نہیں ہیں۔ اس وقت میں ایک پارٹی کی طرف سے ہوں اور وہ راہ حق پارٹی ہیں اس کا انتخابی نشان استری ہے۔

سوال: کراچی اپ ڈیٹس کے پلیٹ فارم سے اپنے حلقہ کے عوام کے لیے کیا پیغام دینگے؟
مولانا اورنگزیب فاروقی: میں اپنے حلقہ اور پاکستان کو یہ پیغام دینا چاہوں گاکہ دیکھے آپ کے پاس یہ وقت 5سال آئے گااور پھر 5سال بعد آئے گا ابھی آپ کے پاس وقت ہیںقوت ہیں۔ اس قوت کا نام ووٹ کی پر چی ہیں۔اس کے لیے لوگ آپ کے پیچھے آپ کے گھر تک آرہے ہیں لیکن 25 جولائی کو آپ جب یہ قوت کسی اور کو منتقل کر دیں گے توپھر آپ کے گھر کوئی نہیں آئے گا تو پھر آپ ان کے گھروں میں چکر لگائیں پھر وہ آپ کو نہیں ملیں گے۔ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ معا شرے میں لوگ آپ کے پیچھے آتے ہیںاور الیکشن جیتنے کے بعد پانچ سال تک آپ کو نظر نہیں آتے۔میں تو اپنے حلقہ کے امیدوار کو چلینج کرتا ہوں کہ کوئی ویڈےو کلپ دیکھا دیں کہ جیتنے والے امیدوار نے کبھی عوام کے بیچ بیٹھ کر کوئی بات کی ہے کیا۔ یہ سب عوام کو پیسوں سے خریدنا چاہتے ہیں۔ نوجوانوںکو یہیں کہوں گا کہ تمہیں سوچنا ہے کہ یہ ہمدردی ابھی ہی کیوں ہے تم سے۔ پہلے یہ محبت کیوں نہیں جاگی تھی۔ ابھی یہ تمہیں دھوکا دینے آگئے ہیں۔ پارٹیوں اور برادریوں کے چکر میں اپنے ووٹ کو خراب نہ کریں ۔جو بھی شخص آپ کو مخلص لگے اس کو ووٹ دیں۔

Top