مذہبی جماعتوں کی سیاست

religious politicalفاروق اعظم…… سیاسی ڈائری
پاکستان کی سیاست میں مذہبی جماعتوں کا کردار اہمیت کا حامل رہا ہے۔ انتخابات کے علاوہ بعض قومی سطح کے معاملات میں بھی متعدد مواقعوں پر مذہبی جماعتوں نے رائے عامہ کو ہموار کرنے اور حکومت کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے۔ ماضی کے عام انتخابات میں پہلا اور موثر ترین مذہبی اتحاد 1977ء میں ”پاکستان قومی اتحاد“ کے نام سے قائم ہوا تھا۔ اگرچہ پی این اے کے 9 جماعتی اتحاد میں دیگر سیاسی جماعتیں بھی شامل تھیں، تاہم سرکردہ جماعتیں مذہبی تھیں، جن میں جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان، جماعت اسلامی و دیگر سرفہرست تھیں۔ پی این اے نے 77ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کا مقابلہ کیا، لیکن قومی اسمبلی کی 200 نشستوں میں سے صرف 36 ان کے حصے میں آئیں اور 155 نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں۔ پی این اے نے ان غیر متوقع نتائج کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع کی اور دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اس مطالبے کو ماننے پر آمادہ نہیں تھے، لیکن جب پاکستان قومی اتحاد نے ”تحریک نظام مصطفی“ کی شکل اختیار کرلی تو حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہوگئی۔ جس کے نتیجے میں انتخابات کے دوبارہ انعقاد پر معاہدہ طے پاگیا تھا، تاہم دستخط سے قبل جنرل ضیاءالحق نے حکومت کو برطرف کرتے ہوئے مارشل لاءنافذ کردیا۔ اسی طرح 1988ء کے انتخابات میں ”اسلامی جمہوری اتحاد“ تشکیل پایا تھا، لیکن انتخابات کے نتیجے میں معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی اور بے نظیر بھٹو وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ 1990ء کے انتخابات میں آئی جے آئی نے پیپلز پارٹی کے 6 جماعتی اتحاد پیپلز ڈیموکریٹک الائنس (پی ڈی اے) پر برتری حاصل کی اور نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ یہ وہی انتخابات ہیں جو قریباََ تین عشرے گزرنے کے باوجود اصغر خان کیس کی صورت میں کبھی بھلائے نہیں جاسکے۔
پرویز مشرف کے مارشل لاءکے بعد مذہبی جماعتوں کا بڑا انتخابی اتحاد 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ جس میں مولانا شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق جیسے نام شامل تھے۔ علاوہ ازیں جمعیت اہل حدیث اور تحریک جعفریہ کو ایم ایم اے کی صف میں شامل کرکے تمام مسالک کی نمائندگی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مجلس عمل نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف زبردست تحریک چلائی تھی، تاہم الیکشن کے نتیجے میں ایم ایم اے 342 کے ایوان میں 63 نشستیں حاصل کرسکی، جس کی وجہ سے وہ مرکز میں حکومت نہیں بنا سکی، البتہ خیبر پختون خوا میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔ مجلس عمل کا آغاز جس طرح شاندار تھا، اس کا انجام اتنا ہی افسوسناک ہوا۔ پرویز مشرف ایم ایم اے کی اتحادی جماعتوں سے خوب کھیلے اور اپنے فیصلے منواکر رہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف ایم ایم اے تحلیل ہوگئی بلکہ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام میں دوریاں بھی پیدا ہوئیں۔
دس سال بعد حالیہ عام انتخابات میں ایک بار پھر متحدہ مجلس عمل اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ الیکشن میں حصہ لے رہی ہے، لیکن اس حال میں کہ شاہ احمد نورانی اور قاضی حسین احمد آسودہ خاک ہیں اور مولانا سمیع الحق روٹھ چکے ہیں۔ گویا کہ اس پانچ جماعتی مذہبی اتحاد میں صرف جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی قابل ذکر ہیں، بقیہ اتحادی بطور برکت ساتھ موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ انتخابات میں ایم ایم اے اس انداز سے سامنے نہیں آسکی، جس طرح اپنے پہلے جنم میں جلوہ گر ہوئی تھی۔ اس مرتبہ مجلس عمل کی ساری توجہ خیبر پختون خوا حکومت پر مرکوز ہے۔ دوسرے معنوں میں ایم ایم اے کا اصل مقابلہ تحریک انصاف سے ہے۔ یہ امر بھی اس پر دلالت کرتا ہے کہ ایم ایم اے کی تمام جماعتیں کسی نہ کسی صورت میں مسلم لیگ ن کی اتحادی ہیں۔
متحدہ مجلس عمل کے علاوہ بعض بڑی مذہبی جماعتیں انفرادی طور پر الیکشن لڑ رہی ہیں، جن میں تحریک لبیک پاکستان اور ملی مسلم لیگ قابل ذکر ہیں۔ گوکہ 2018ء کے عام انتخابات ان دونوں جماعتوں کے لیے پہلا تجربہ ہے، تاہم اس سے قبل ضمنی الیکشن میں دونوں جماعتیں بڑی تعداد میں ووٹ لے کر اپنی موجودگی کا احساس دلاچکی ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان اپنے انتخابی نشان پر الیکشن لڑ رہی ہے، لیکن ملی مسلم لیگ بیرونی دباﺅ کے سبب الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہ ہوسکی۔ جس کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ پہلے سے رجسٹرڈ اللہ اکبر تحریک کی حمایت کرکے ان کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے کے لیے میدان میں اتر گئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا کہ تمام مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم جمع کیوں نہیں ہوسکیں؟ اس کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں سے کچھ سیاسی بھی ہیں۔ مثلاََ مولانا سمیع الحق ایم ایم اے میں مولانا فضل الرحمن کی وجہ سے شامل نہیں ہوئے۔ دوسری جانب صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر شاہ اویس نورانی کی وجہ سے دور رہے۔ اسی طرح ملی مسلم لیگ کو مولانا فضل الرحمن نے بیرونی دباﺅ کے خدشے کے پیش نظر قبول کرنے سے انکار کیا۔ تحریک لبیک پاکستان اور راہ راحق پارٹی نے سولو فلائٹ کو ترجیح دی۔ اس دوران مجلس عمل کا حصہ نہ بننے والی مذہبی جماعتوں کے علیحدہ اتحاد کی باز گشت بھی سنائی دی تھی۔ اسی طرح ن لیگ کے علاوہ تمام مسلم لیگی دھڑوں کے اتحاد کا بھی امکان تھا، لیکن انتخابات کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال اور وقت کی کمی کے باعث ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔
بہرحال اب منظر نامہ یہ ہے کہ مذہبی ووٹ واضح طور پر تقسیم ہے، جس کے اثرات سے مذہبی جماعتیں شدید متاثر ہوں گی۔ اس صورت حال کے پیش نظر یہ سوال پھر جنم لے گا کہ اسلامی ریاست میں مذہبی جماعتیں خاطر خواہ کامیابی کیوں حاصل نہیں کرسکیں؟ یہ بات درست ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور یہاں کی مذہبی جماعتیں معاشرے میں اثر ورسوخ رکھتی ہیں، تاہم ہر مذہبی جماعت ایک مخصوص طرز فکر کے ساتھ جی رہی ہے۔ مکاتب فکر کی تقسیم اور سیاسی اختلافات کی وجہ سے ایک جماعت کے ووٹرز دوسری جماعت کے امیدوار کو پسند نہیں کرتے، جس کے سبب عام ووٹرز بھی مذہبی جماعتوں کی طرف راغب نہیں ہوتے۔ بطور اختصار یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں مذہبی طرز فکر کے تحت جینے والے بہت ہیں، لیکن تقسیم در تقسیم سے ان کی قوت منتشر ہوکر رہ گئی ہے۔

Top