انتخابات پر خونی سائے

Political Dairyفاروق اعظم….. سیاسی ڈائری
ملک بھر میں عام انتخابات 2018ءکی مہم کا آغاز پرامن طور پر ہوا، لیکن انتخاب کا دن قریب آتے ہی دہشت گردی کے پے درپے واقعات سے خوف کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔ تین دن کے دوران تین مختلف سانحات میں 155 کے قریب جنازے اٹھائے گئے، جب کہ دو سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ سب سے زیادہ ہولناک حادثہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پیش آیا، جہاں ایک بڑے جلسے کے دوران خود کش حملے کے نتیجے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما و حلقہ پی بی 35 سے امیدوار نواب زادہ سراج رئیسانی سمیت 130 افراد شہید اور 120 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ دوسری جانب اسی روز 13 جولائی کی صبح بنوں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اور حلقہ این اے 35 سے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار اکرم خان درانی کے قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم حملہ کیا گیا، جس میں درانی خود محفوظ رہے، تاہم 5 افراد شہید اور 35 زخمی ہوگئے۔ ان دونوں واقعات سے صرف دو دن قبل پشاور میں خونی کھیل کھیلا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور پی کے 78 سے امیدوار بیرسٹر ہارون بلور پر کارنر میٹنگ کے دوران خودکش حملہ کیا گیا، جس میں 21 افراد شہید اور 60 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ بم دھماکوں کے علاوہ بعض حلقوں میں انتخابی ریلیوں پر فائرنگ کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ حلقہ این اے 7 اپر دیر میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی ریلی پر فائرنگ اور پتھراﺅ کے باعث 5 افراد زخمی ہوئے۔ اسی طرح راولپنڈی میں ایم ایم اے کی ریلی پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ کراچی سمیت بعض دیگر اضلاع میں بھی سیاسی مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے مناظر سامنے آئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو لیاری میں سخت مزاہمت کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی کے حلقہ این اے 246 میں جب بلاول بھٹو اپنی انتخابی مہم کے آغاز کے لیے قافلے کی صورت میں پہنچے تو مشتعل مظاہرین نے لاٹھیوں اور پتھروں سے ان کے قافلے پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

بم دھماکوں کے واقعات دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیاں ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے پشاور، جب کہ داعش نے مستونگ واقعے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ دوسری جانب اپر دیر میں فائرنگ کا الزام جماعت اسلامی نے عوامی نیشنل پارٹی پر عائد کیا۔ گویا کہ امیدوار انتخابی مہم کے دوران دہشت گردوں کے علاوہ سیاسی مخالفین کے حملوں کا بھی نشانہ بن رہے ہیں۔ دو ماہ قبل ماہ مئی میں سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اپنے انتخابی حلقے نارووال میں ایک کارنر میٹنگ کے دوران فائرنگ کے باعث زخمی ہوئے تھے۔ اُس وقت یہ تشویش ظاہر کی گئی تھی کہ انتخابات میں امیدوار پرتشدد واقعات اور قاتلانہ حملوں کا سامنا کرسکتے ہیں۔ ویسے انتخابی مہم کے دوران دہشت گردی کے واقعات اور سیاسی مخالفین پر حملے نئی بات نہیں۔ 2013ءکے عام انتخابات میں بھی سیاسی جماعتیں دہشت گردی کی زد میں تھی۔ اُس وقت کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو دھمکیاں بھی ملی تھی۔ سندھ، بلوچستان، خیبر پختون خوا اور فاٹا میں امیدواروں کو متعدد حملوں کا سامنا کرنے کی وجہ سے تمام جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم انتہائی سہمے ہوئے انداز میں چلائی تھی۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق 2013ءکے عام انتخابات میں سیاسی سرگرمیوں کے دوران تشدد کے 77 واقعات پیش آئے تھے، جن میں کم از کم 110 افراد ہلاک اور 370 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق تشدد کے ان واقعات میں سے 56 دہشت گردی اور 21 سیاسی مخالفین کی جانب سے تشدد پر مبنی تھے۔ رپورٹ میں خیبر پختونخوا، فاٹا اور کراچی میں دہشت گردی کے واقعات کا ذمے دار کالعدم تحریک طالبان پاکستان، جب کہ بلوچستان میں بلوچ مزاحمت کاروں کو ٹھہرایا گیا۔

اگرچہ گزشتہ برسوں میں آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے باعث سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے، تاہم اس کے باوجود بھی حالات کلی طور پر مستحکم نہیں۔ دراصل دہشت گرد موقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور عدم استحکام پیدا کرنے کی خاطر آسان اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پہلے ٹی ٹی پی کو بڑا خطرہ تصور کیا جاتا تھا۔ فوجی آپریشنز کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کی قوت سکڑنے سے داعش کو توجہ ملی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ کون نہیں جانتا کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں دی گئی تھیں۔ اب یہی کردار عراق و شام میں جنم لینے والی دہشت گرد تنظیم داعش کو افغانستان میں بساکر سونپ دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات سے ہمیں بہت کچھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ عوام کو بھی ذمے داری نبھانی ہوگی۔ سیاسی مخالفین تشدد کی راہ اپنانے کی بجائے سیاسی میدان میں مقابلے کو ترجیح دیں۔ کہیں ایسا نہ ہو دہشت گرد گروہ موجودہ صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لیاقت باغ جیسا سانحہ دہرا دے اور انتخابات کا عمل 2008ءکی طرح التوا کا شکار ہوجائے۔

Top