محض فلاحی نہیں اسلامی فلاحی ریاست (حافظ عاکف سعید)

tanzem islamiالحمد للہ، حالیہ انتخابات کے پولنگ والے دن گزشتہ انتخابات کی طرح کوئی لڑائی جھگڑا اور جانی و مالی نقصانات نہ ہونے کے برابر تھے۔تاہم بدقسمتی سے اس کے نتائج متنازعہ بن گئے۔ہم اس بحث نہیں تو نہیں پڑتے کہ دھاندلی ہوئی یا نہیں ، یا اگر ہوئی تو کس پیمانے پر اور اس میں قصور وارکون تھا، البتہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں نہ تو پہلے کسی نے ہار تسلیم کی ہے اور نہ اب کررہا ہے۔بہرحال عمران خان کی جماعت مرکز، پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں حکومت بناتی نظر آرہی ہے۔مجھے اس وقت عمران خان کی اس تقریر کے حوالے سے کچھ عرض کرنا ہے جوانتخابات میں کامیابی کے بعدانہوںنے کی ہے۔جو باتیں انہوں نے کی ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ پاکستان میں غربت اور جہالت کے خلاف بھرپور کام کرنے کی ضرورت ہے جس میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی۔

ہمارے ہا ں بیروزگاری کا جو عالم ہے اور لو گ جس تیزی سے خط غربت سے نیچے جارہے ہیں اس کو پیش نظر رکھاجائے تو ہمیں عمران خان کی اس بات سے اتفاق کرنا پڑے گا ۔اس پر تو کام لازماً ہونا چاہئے۔عوام کو جلد اور سستا انصاف درکار ہے اور ایک دیانتدار قیادت کی بھی ضرورت ہے۔ان کے خطاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کا تہیہ کرلیا ہے لیکن ہم اسے ایک اور زاویے سے بھی دیکھ رہے ہیں۔پاکستان کو محض ایک فلاحی ریاست بنانا تو مقصود نہیں ۔ویسے یہ بھی اپنی جگہ ایک کار خیر ہے۔ فلاحی ریاست کا تصور جواسکینیڈین ممالک ہے،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسی قسم کی فلاحی ریاست کا تصور عمران خان کے ذہن میں ہے۔ہماری رائے میں ہمیں محض فلاحی ریاست نہیں چاہئے بلکہ اسلامی فلاحی ریاست ہمارا مقصود ہے۔ ہمارے پاس یہ گنجائش نہیں کہ اسلام کی محض چند باتوں کو لے لیں اورباقی باتوں کو چھوڑ دیں۔ہم قرآن حکیم کی اس آیت کی مسلسل تکرار کرتے رہتے ہیں کہ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ہم اسلام کی کچھ باتیں مانیںاورکچھ کا انکار کریں تو یہ طرز عمل اللہ کو اس قدر ناپسند ہے کہ وہ دنیا میں بھی ایسے کام کرنے والوں کو ذلیل و خوار کرے گا اور آخرت میں انہیں شدید ترین عذاب سے دو چار کرے گا۔اسلام ایک وحدت ہے۔اس کے حصے بخرے نہیں کئے جاسکتے ۔عمران خان جب ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو ان کی مراد سوشل جسٹس ہوتی ہے یقینا یہ اسلامی نظام کا ایک جز ہے بلکہ اسلام کا کیچ ورڈ ہی عدل ہے۔

عمران خان اسلام کے معاشرتی نظام کے احکامات پر کچھ اقدام کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔بلکہ ان کے رجحانات بتارہے ہیں کہ وہ اسلام کے معاشرتی نظام کے احکامات کے برعکس راستوں پر چل رہے ہیں۔حالانکہ قرآن حکیم نے انسانی زندگی کے اجتماعی گوشوں میں سب سے زیادہ زور معاشرتی اور سماجی نظام پر دیا ہے۔اگر آپ اسلام کو اسکینیڈین ممالک جیسی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وہاں سے عریانی، فحاشی اور بے حیائی بھی ساتھ آئے گی۔اگرچہ بدقسمتی سے ہم پہلے ہی عریانی فحاشی کے سیلاب کی زد میں ہیں تاہم اگر ہم نے یورپی ممالک کی پیروی شروع کردی تو ہمارے معاشرے کو ایک بھیانک صورتحال کا سامنا کرنے پڑے گا۔ہمیں اسلام کے پورے نظام کو اپنانا ہوگا۔ مسلمانوں کو اسلام کے نظام میںکوئی کتر وبیونت قابل قبول نہیں۔اگر ایسا کیا گیا تو اس کا کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو، نقصان ضرور ہوگا۔

ایک چھوٹا سا معاملہ مملکت پاکستان کواور بھی درپیش ہے اور وہ یہ کہ امریکہ نے اعلان کردیا ہے کہ وہ پاکستان کی حکومت کو آئی ایم ایف سے کوئی پیکیج لینے نہیں دے گا۔بہرحال اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ شاید یہ امریکی رویہ پاکستان کے لئے ایک نعمت ہی ثابت ہو۔ آج ہم جس بدترین معاشی بحران کا سامنا کررہے ہیں وہ ماضی کے حکمرانوںکی قرضہ لینے والی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ہم جو ہر وقت دنیا کے سامنے کشکول پھیلائے رہتے ہیں ، اسی نے ہمیں ذلیل و خوار کیا ہوا ہے۔ہم اپنے وسائل پر انحصار کریں ۔اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں بے پناہ وسائل عطا کررکھے ہیں ۔اپنے پاﺅ ں پر کھڑے ہوں۔مغربی قوتیں اس معاملے میںہمارا بائیکاٹ کریں تو ان شاءاللہ وہ ہمارے لئے خیر کا موجب ہو گا۔ہماری دعا ہے کہ اللہ ہمیں سودی قرض کی لعنت سے نجات دلائے تاکہ ہم آئی ایم ایف اور دوسری عالمی مالیاتی اداروں سے گریز پر کاربند ہوسکیں۔ہمارا یہ اقدام اللہ ، اس کے دین اور رسول ﷺ کے ساتھ وفاداری کا سبب بنے گا۔اس حوالے سے راقم قوم کے سامنے ایک سے زیادہ مرتبہ قرآنی آیات رکھ چکا ہے جن کا خلاصہ یہ ہے اگرہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے وفادار بنیں گے تو دنیا میں بھی غالب اور سربلند ہوںگے ۔یہ اللہ کا وعدہ ہے۔لیکن ہم ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں۔نجات کا راستہ یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس راستے پر چلنے اور اس پر آگے سے آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین

Top