کراچی میں امن کے لیے پرعزم شاہی سید کا خصوصی انٹرویو

shahi syed final 5انٹرویو: الفت اکرم، عارف جتوئی
عوامی نیشنل پارٹی کا زیادہ اثر و رسوخ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پشتون علاقوں میں ہے۔ اس کے علاوہ یہ جماعت صوبہ سندھ اور پنجاب میں بھی چھوٹے پیمانے پر اپنا اثر رکھتی ہے۔ یہ جماعت ماضی میں قائم کی گئی نیشنل عوامی پارٹی کی تبدیل شدہ شکل ہےجنہوں نے  برطانوی دور حکومت میں تحریک میں حصہ لیا تھا۔

1988 ء میں عوامی نیشنل پارٹی نے مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کیا۔  1998ء میں احاد ختم ہوا ور  متحدہ جمہوری اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی ۔  9/11 کے واقعے میں  اتحاد کے طالبان کی حمایت کے اعلان کی وجہ سے الگ ہو نا پڑا۔  2002ء کے انتخابات میں اے این پی نے  پیپلز پارٹی سے اتحاد قائم کیا لیکن صوبہ خیبر پختونخوا میں تب متحدہ مجلس عمل کے نام سے قائم مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے ہاتھوں اس اتحاد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
2008ء کے الیکشن میں اے این پی نے  کراچی میں پہلی بار  نشتیں جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔   انتخابات جیتنے کے بعد اے این پی نے پھر سے  پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا اور صوبے اور وفاق میں حکومت قائم کی۔عوامی نیشنل پارٹی سیاسی طور پر خیبر پختونخوا اور خاص طور پر پشتون علاقوں میں انتہائی مضبوط جماعت تصور کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس جماعت کو قوم پرست جماعت بھی گردانا جاتا ہے۔
الیکشن 2018ء میں ایک بار پھر عوامی نیشنل پارٹی کراچی میں سیٹیں جیتنے کے لیے پر عزم ہے۔ مگر اس سے کہیں زیادہ عوامی نیشنل پارٹی کراچی کے صدر شاہی سید کراچی میں امن چاہتے ہیں۔اس کے لیے شاہی سید نے ایم کیو ایم سے اتحاد کرنے کے ارادے کا بھی اظہار کیا ہے۔شاہی سید سے مزید کیا  باتیں ہوئیں آئیے کراچی اپ ڈیٹس کی جانب سے کیے گئے انٹرویو میں جانتے ہیں۔

shahi syed final 3سوال: الیکشن 2018ءکیسے دیکھ رہے ہیں؟
شاہی سید: ماضی کے تمام الیکشن میں دھاندلی کی گئی۔ کراچی کی تاریخ میں پہلی بار میں آزاد اور شفاف الیکشن دیکھ رہا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کراچی میں اب امن و امان بحال ہوچکا ہے اور اس کی بنیادی وجہ فوج کا آپریشن ہے۔

کراچی کی کراچی میں الیکشن کی پہلے گہما گہمی جیسی ہونی چاہیے تو ویسی نہیں ، اس کی کیا وجہ ہے؟
شاہی سید: ماضی میں ایک سیاسی جماعت نے کراچی کو مفلوج کر کے رکھا ہوا تھا۔ جب ایم کیو ایم کے بانی پر پابندی لگی اور ایم کیو ایم نے خود کو اس سے الگ کیا ہے اب کراچی کا امن بحال ہوچکا ہے۔ اس کے بعد کراچی میں حالیہ الیکشن میں گہما گہمی ویسی ہے البتہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ضابطہ اخلاق سخت ہے۔ جس کی وجہ سے کسی بھی جماعت کو کھلی چھوٹ نہیں دی جارہی اور ان کے لگائے اشتہارات کو اتارا بھی اسی وجہ سے جارہا ہے اور یہ سب بلاامتیاز ہورہا ہے۔ پہلے الیکشن کا خرچہ زیادہ تھا لیکن اب کم ہیں۔ اب سب کچھ اچھا ہورہا ہے صرف پابندیوں کے تحفظات زیادہ ہے۔

سوال: مردم شماری پر کراچی کی دیگر جماعتوں کو تحفظات ہیں، آپ کیا کہتے ہیں؟
شاہی سید: لوگوں کو حالیہ مردم شماری پر اعتراجات ہیں مگر ہمیں کوئی اعتراج نہیں ہے۔ آبادی کی کمی کی شکایت غلط ہے۔ مردم شماری بالکل ٹھیک ہوئی ہے پہلے کی مردم شماری درست نہیں تھی ، ووٹروں کی تعداد زیادہ رکھی جاتی تھی۔ اس بار مردم شماری کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکشن شفاف ہوں گے۔

سوال: متحدہ سے آپ نے اتحاد کی بات کی، دشمن تھے تو اب دوست کیسے؟
شاہی سید: متحدہ پاکستان سے ہماری کوئی لڑائی نہیں ہے۔ متحدہ جب لندن چلا کرتی تھی تب ہماری اس سے لڑائی بھی تھی۔ ہماری لڑائی دہشت گردوں سے تھی۔ وہ دہشت گرد مافیہ تھے جو اب ختم ہوگئے ہیں۔ مجید کا لونی اور لانڈھی میں نعشوں کا کوئی ڈھیر نہیں تھا۔وہاں کوئی لوگ نہیں مرے ہاں البتہ کراچی کے حالات ایسے تھے پٹھان اور اردو والے لڑرہے تھے ۔ بہت سے بے گناہ لوگ مارے گئے۔لیکن ہماری جنگ اردو بولنے والوں سے نہیں تھی ۔ ہماری جنگ دہشتگردوں سے تھی اور دہشتگردوں کی ٹیموں کا وہاں سے خاتمہ ہوا۔اب دہشتگر د نہیں ہیں تو ہم ان سے کیوں ٹکراﺅ کرے۔ اب کراچی میں امن ہیں بس اب روشنیاں بحال کرنی ہیں۔ کراچی کو روزگار دینا ہے، کراچی کی ہیلتھ کو دیکھنا ہے، کراچی کی تعلیم کو دیکھنا ہے۔ تو اسکے لیے ہمیں مل کر رہنا ہے یہ ہماری ضرورت ہے۔یہ لڑائی ہماری نہیں تھی یہ کروائی گئی جو کہ غلط تھا ۔ اب یہ سازشیں ختم ہو گئی ہے تو اب ہمارے دروازے کھلے ہیں لیکن ابھی تک ہمارا ان سے کوئی اتحاد نہیں ہوا ہے۔ابھی صرف بات ہوئی ہے بیٹھ جائیں اتحاد ہوجاہیں تو یہ خبر پریس میں آئے گئی۔

سوال: جس حلقہ سے آپ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیںاسی حلقہ سے پہلے بھی اے این پی کے امیدوار جیت چکے ہیںلیکن اس حلقہ میں کوئی کام نہیں ہوا ۔ پہلے کی طرح اب بھی کیا صرف باتیں ہیں یا پھر واقعی اپنے وعدوں پر پورا اترے گئی؟
شاہی سید: 2008 میں ہم نے ایک ایم پی اے کی سیٹ لانڈھی سے اور ایک سائٹ سے جیتی تھی اور یہاں حکومت پیپلزپارٹی کی تھی اکژیت انہی کی تھی اور ہم ان کے حمایتی تھے اور ہمیں سپورٹ تھی ہی نہیں ۔ اب ہمارا ایم پی اے جیب سے پیسہ تو لگائے گا نہیں ۔میں مانتا ہوں کام نہیں ہوا ہوگا لیکن مجھے یہ بتاﺅ پی ایس 128کے علاوہ اور کہاں کام ہوا ہے۔اسکو چھوڑے زرداری صاحب کے لاڑکا نہ میں کوئی کام ہوا ہے۔دو ایم پی اے کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں مجھے حکومت دو میں آپ کو کر کے دیکھاتا ہوں ۔

سوال: اے این پی لسانیت کی سیاست کررہی ہے یا عوامی؟
شاہی سید: یہ بات ٹھیک ہیں زرداری سندھ کا ہوگیا ، نواز شریف پنجاب اور ہم خیبر پختون خوا۔یہ دشمن کی سازش ہے۔ باچا خان کی پارٹی احترام انسانیت کا سبق دیتی ہے ۔ ہم کہتے ہیں پہلے انسان تو بنو پھر مرضی ہے ہندو بنو یا مسلمان ۔ ہم تو ہندو اور سکھ کے ساتھ بھی ظلم نہیں چاہتے ۔ہماری پارٹی قومیت کی نہیں ہے یہ مظلوم قومیت کی ہے ۔یہ مظلوموں کی پارٹی ہے وسائل ہمارے پاس نہیں ہے، وڈیرے ہمارے پاس ہیں ہے ، جاگیردار ہمارے پاس نہیں ہے، پیسے والے ہمارے پاس نہیں ہیں ۔ باچا خان نے بنیادی جنگ انسانی حقوق کے لیے لڑی ہیں ۔اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ یہ پٹھانوں کی پارٹی ہے۔کراچی میں ہم نے ایک ٹکٹ کرسچن کو اور ایک اردو بولنے والی کو بھی دیا ہوا ہے۔مختلف الزام لگتے ہیں لیکن کچھ ملک کا سینیریو ہی تبدیل ہو رہا ہے نواز شریف پنجاب میں سکڑتا ہے، زرداری سندھ میں تو میں کہاں جاﺅں گا میں پٹھانوں میں ہی جاﺅں گا نا۔

سوال: آپ اپنی پارٹی کی طرف سے نوجوان نسل کے لیے کیا پیغام دینا چاہیے گئے؟
شاہی سید: بنیادی طور پراس ملک میں ہم ابھی تک پاکستانی نہیں بنے۔ ہم پنجابی ، سندھی ، بلوچ بنے ہیں یا ہم اے این پی ، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن) بنے ہیں ۔بنیادی طوا پر بچوں کو تعلیم کی ضرورت ہیں ۔ ہماری تعلیم تباہ ہوگئی ہے۔ پنجابی اور پاٹھان تو بہت محنتی ہیں روڈ بناتا ہے، پتھر توڑتا ہے لیکن ترقی یافتہ لوگوں کی طرح اپنا ایسڈ تعلیم کو نہیں بنا تا۔نوجوانوں کے لیے پیغام تعلیم ، تعلیم اور تعلیم ہیں ۔

سوال: کیا آگے چل کر آپ کا پی ٹی آئی سے اتحاد ممکن ہے؟
شاہی سید: پی ٹی آئی سے اتحاد مشکل ہے کیونکہ وہ ڈلیور کچھ نہیں کررہا ہے صرف آسمان پر اڑرہا ہے۔پی ٹی آئی صرف فیس بک کی مجاہدین ہیںاور فیس بک پر چلتے ہیں۔ان کی پندرہ یونیورسٹی بنی ہے فیس بک کے اندر۔350ڈیم بنے ہیں وہ بھی فیس بک کے اندر۔

سوال: آپ نے نوجوانوں کے لیے تعلیم کا پیغام دیا کیا آپ الیکشن جیتنے کے بعداپنے علاقے کے بند اسکول کھلوادے گئے؟
شاہی سید: اگر میں الیکشن جیت گیا اور حکومت کو میری ضرورت ہوئی توپہلی تقریر میری پارلیمینٹ میں یہی ہوگی کہ کراچی کی کچی آبادیوں کو اسپیشل پیکج دیا جائے۔ جیسا کہ بلوچستان اور فاٹہ کو دیا گیا ہے۔اور یہ اسپیشل پیکج لا کر پھر اس علاقہ کے سارے کام کروں گا۔پھر پانچ سال بعد میں ووٹ مانگنے نہیں جاﺅں گا لوگ خودآکر مجھے ووٹ دیںگے۔

سوال: کراچی اپ ڈیٹ کے پلیٹ فارم سے عوام کے لیے کوئی پیغام دینا چاہیے گئے؟
شاہی سید: کراچی کی عوام کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ہے یہاں روزانہ نعشیں گرتی تھیں ۔ اب کراچی میں امن ہیں اب کراچی کو روشنیوں کی ضرورت ہیں۔کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے ا سے حل کرنا ہے۔

Top