تبدیلی کیسے ممکن ہے؟ (عارف جتوئی)

protestors 1کراچی کے مختلف علاقوں میں ہلکی بوندا باندی سے موسم خوشگوار ہوگیا۔ مگر اس خوشگوار موسم نے پان اور گٹگے سے لال سڑکوں کو گیلا کردیا تھا، جس کی وجہ سے جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا یعنی موٹر سائیکل سوار درجنوں کی تعداد میں پھسلنا شروع ہوگئے۔ ان کے پھسلنے کا منظر میں دیکھ ہی رہا تھا کہ اتنے میں پاس کھڑے دو افراد نے بارش کے موسم پر تبصرہ کرنا شروع کردیا۔ دونوں افراد شکل و صورت سے پڑھے لکھے اور اندرون کراچی کے رہائشی لگتے تھے ، جو کہ بارش پر انتہائی فکرمندانہ تبصرہ کر رہے تھے۔ ایک نے کہا کراچی کے گٹر تو پہلے ہی سے خود ساختہ چشمے بن چکے ہیں مزید رہی سہی کسر آج کی بارش پوری کردے گی۔ بلدیاتی حکومت کے دفاتر میں کئی بار شکایات درجہ کراچکے ہیں مگر تاحال کسی نے بے حال شہریوں سے حال دل نہیں پوچھا۔
دوسرے نے جواباً کہا شاید آپ یہاں رہتے ہی نہیں ہیں، باتیں تو ایسے معصومانہ کر رہے ہیں، آپ کو نہیں معلوم کراچی کے ابلتے گٹروں اور سیوریج کی ابتر صورتحال کے پس پشت انہیں بلدیاتی امیدواروں کے خفیہ ہاتھ ہیں۔ یہ امیدوار جان بوجھ کر ان میں صفائی کی بجائے گندی کے ڈھیر لگا رہے ہیں تاکہ معمولات زندگی تنگ ہو اور پھر یہ عوام سڑکوں پر نکل کر ان کی صفائی کے لئے احتجاجی طریقہ اختیار کریں۔کیوں کہ سب ہی جان چکے ہیں کہ اب حکومت کو سمجھانے کے لئے احتجاج، دھرنے اور لانگ مارچ کیا جائے تو حکومت ضرور متوجہ ہوتی ہے۔
پہلے نے بڑی حیرت اور تعجب سے پوچھا یہ کیسے ممکن ہے کہ بلدیاتی امیدوار خود اپنے ہاتھوں یہ سب کرائیں۔ دوسرے شخص نے اس کی حیرت کو بھانپتے ہوئے بڑی تیکھی نظروں سے دیکھا اور کہا یہ سب بلدیاتی فنڈز کی کمی کی وجہ سے کیا جارہا ہے۔ فنڈز ختم ہوچکے ہیں اور اب امیدوار کوئی بھی ترقی کی راہ دیکھنے کے بجائے پارٹی پر متوجہ ہیں۔ناجانے کب قوم کے لیے کوئی کچھ کرے گا۔آپ نے دیکھا نہیں شہر کی مصروف ترین شاہراہوں پر گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، اسٹریٹ لائٹس بھی خراب پڑی ہوئی ہیں۔ سرکاری خرچے پر چلنے والے پارکوں کی صورت تک بگڑ چکی ہے۔ خیر بارش کے بعد موسم خوشگوار ہوا اور ساتھ میں موٹرسائیکل سواروں کی تیزی میں بھی خاطر خواہ آہستگی آئی مگر اس کے باوجود کتنے ہی موٹر سائیکل سوار اپنی سواری کی رفتار کو برقرا ر نہ رکھ پائے اور گرتے رہے۔
گزشتہ روز علی الصبح میں روڈ کے کنارے ایک ہوٹل پر چائے پینے کے لئے بیٹھا آنے جانے والوں کو دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں ایک موٹر سائیکل سوار نے دوسرے کو انتہائی تیزی سے کراس کیا۔ پہلے والے نے ہلکی سے بریک لگائی مگر اس دوران ایک کار سوار نے پیچھے سے کار دے ماری اور وہ گر گیا۔ کار والا بڑی تیزی سے نیچے اترا اور بجائے اس شخص کو اٹھانے کے وہ اپنی کار کی جانب بڑھا اور موٹر سائیکل سے ٹکرانے کی جگہ کا بغور جائزہ لینے لگا۔ تاہم اتنے میں وہ شخص بھی ایک دو افراد کی مدد سے اٹھ کھڑا ہوا۔ جب کار سوار نے اطمنان کرلیا کہ اس کی کار کو کوئی خراش نہیں آئی تو اپنی کار میں بیٹھ کر چلا گیا۔
اس واقعے کے بعد میں سوچ رہا تھا کہ کیا ہم اب بھی ترقی کر سکتے ہیں؟ جہاں ایک انسان کی قدر بے جان گاڑی سے بھی کم تر ہے۔ کہی لوگ کچرا پھینکتے دیکھائے دیتے ہیں۔ کہیں خود ہی سڑکیں کھود ڈالتے ہیں۔ کہیں اپنی گٹر لائن کو درست نہیں کرتے تو کہیں دوسروں کی گندگی پر لڑائی کرتے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کی ذمے داریاں یقینا اپنی جگہ اہم ہیں مگر گلی محلے تو ہمارے اپنے ہیں۔ ہم سے جو کچھ ہوسکتا تھا کیا ہم وہ کر رہے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم بلدیاتی اداروں کے انتظار میں بیٹھ کر اپنی ذمے داریاں ادا نہ کریں۔ جب تک ہم فرداً فرداً اپنی اصلاح نہیں کریں گے ملک میں کبھی بھی انقلاب یا تبدیلی نہیں آسکتی۔ کبھی بھی ہم نئے پاکستان کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ اگر شہری حکومت کے فنڈز ملنے کے انتظار میں بیٹھا جائے تو شاید ہمارے گٹر ابلتے رہیں اور ہم کچھ نہ کر سکیں۔ روڈ گندگی کا ڈھیر بن جائیں اور ہم اس پر گزرتے رہیں۔ بات صرف اپنی ذمے داری ادا کرنے کی ہے۔ تبدیلی تو خود سے شروع ہوگی جو گھر، گلی ، محلے سے ہوتے ہوئے شہر صوبے اور ملک تک پہنچ جائے گی۔ انشاءاللہ

Top