آگہی حقیقت

23-March-1940-Photos-Imagesتحریر : عالیہ ذوالقرنین
احسن سیٹی کی دھن پر دل تو بچہ ہے جی۔ تھوڑا کچا ہے جی گنگناتا اسکیٹنگ شوز پہنے ہوا میں لہراتا ہوا گزرا کہ سسکیوں کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔ وہ گھوما، غور کیا اور اس کی نظر قریب موجود منتشر بالوں، ملگجے بوسیدہ لبادے میں ملبوس سر جھکائے ایک بوڑھے پر ٹک گئی۔
بڑے میاں! یہ آپ رو رہے ہیں نا کیا ہوا آپ کو؟ کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟
بوڑھے نے جھکا ہوا سر اٹھایا ہاتھوں کا چھجہ بنا کر آنسو بھری سرخ آنکھوں سے احسن کو دیکھا اور طنزیہ انداز میں گویا ہوا۔
ہاں یہ رونا میری ہی قسمت میں لکھا ہے ۔
کیا میں آپ سے وجہ پوچھ سکتا ہوں؟ احسن نے استفسار کیا ۔
وجہ!
وجہ کیا پوچھتے ہو۔ وجہ سے تو اس تاریخ کو سارے اخبارات بھر جاتے ہیں مگر نتیجہ بے سود۔ میں کون سی نئی وجہ بتاو¿ں گا؟ بوڑھے نے کہا ۔
آپ پہلیاں کیوں بجھوا رہے ہیں؟ احسن اب شاید کچھ چڑ کر بولا ۔
پہلیاں میں کیوں بھجوانے لگا! پہیلی تو میری ہی بن چکی ہے ۔
یہ دیکھ رہے ہو نا! بوڑھے نے سامنے مینار پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
یہ 76سال پہلے اس سنہری یاد کی نشاندہی ہے جب مسلمان صرف مسلمان تھے ۔ ان میں مسلک اور فرقے تو تھے مگر وہ فرقوں میں بٹے ہوئے نہیں تھے ۔ یہ اس عظیم وقت کی یاد تازہ کرتا ہے جب شیر بنگال نے مولوی فضل الحق نے قراد داد پیش کی تھی کہ مسلمان ایک الگ نظریاتی قوم ہیں اس لیے ان کو رہنے کے لیے بھی ایک الگ وطن ہی چاہیے اور بھلا تم ہی بتاو انگریزوں سے آزادی کے بعد اس قوم کے ساتھ کیسے کیسے رہا جا سکتا تھا جو مسلمانوں کو ملیچھ کہتے تھے ۔ بوڑھے نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا ۔
بزرگو! میں نے آپ کے رونے کی وجہ پوچھی تھی آپ مجھے تاریخ سنانے لگ گئے احسن نے کچھ بیزاری سے کہا ۔
تاریخ نہیں سنا رہا اپنے رونے کی وجہ بتا رہا ہوں اب یہ میری بد قسمتی کہ میرے رونے کی وجہ ہی تاریخ ِ پاکستان ہے
کہ ہم نے اس عہد کو بھلا دیا ہے جس کو پورا کرنے کی خاطر ہمارے آباو اجداد نے پاکستان کے قیام کی جدوجہد کی تھی۔ جس کی خاطر لاکھوں مسلمانوں نے اپنے گھر، کاروبار اور جانیں تک قربان کردی تھیں۔ اس وقت کسی نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہوگا کہ سیکولر؟ کسی نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ فیڈریشن ہونا چاہیئے کہ کنفیڈریشن؟ کسی نے اپنے برانڈ کے اسلام کی نفاذ کی بات نہیں کی تھی۔ یہ سارے سوال ہی بے محل اور غیر ضروری تھے۔ ان کے سامنے تو ایک ہی مقصد اور منزل تھی، اور وہ منزل تھی، ”مسلمانان ہند کے لئے الگ مملکت کا قیام۔ سیکولر اور اسلامی ریاست کے بحث سے قطع نظر، ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کسی سیاسی نعرے کی حیثیت نہیں رکھتا تھا بلکہ ایک واضح اور متعین نصب العین تھا کہ ایسی جگہ جہاں پر وہ اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اگر صرف نماز، روزہ ہی کافی تھا، تو اس کی اجازت تو متحدہ ہندوستان میں بھی تھی۔
تو پھر۔ کیا وجہ تھی جو اس طرح وطن کی خواہش نے جنم لیا؟ احسن نے حیرانگی سے استفسار کیا ۔
ہاں یہ خواہش ہی تو بن گئی تھی شدید ترین خواہش۔۔ اس وقت ایک جذبہ تھا، ایک لگن تھی، ایک آرزو تھی، کہ کسی طرح مسلمانوں کو آزادی مل جائے اور وہ اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس جدوجہد میں علماء بھی تھے، انگریزی تعلیمی اداروں سے پڑھے ہوئے لوگ بھی تھے، نوکر پیشہ لوگ بھی تھے اور کھیتوں میں کام کرنے والے بھی۔ ان سب نے مل کر اپنا کل، ہمارے آج پر قربان کردیا، تا کہ ہم ایک آزاد وطن میں سانس لے سکیں۔ پتا نہیں کیوں 23 مارچ 1940ءکی تصاویر دیکھتے ہوئے مجھے 16 دسمبر 1971ء یاد آجاتا ہے، اور وہ تصویر جس میں پاک فوج کے کمانڈر ہندوستانی فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر دستخط کرتے ہیں۔ ہندوستانی فوجیوں کے چہروں پر معنی خیز مسکراہٹ ہے، اور ہمارے جوانوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ جس دوقومی نظریہ کی بات ہم نے 23 مارچ 1940ء کو کی تھی، اس کا بدلہ انہوں نے ہم سے لے لیا۔ کتنی جلدی ہم نے اپنے آباو¿اجداد کی محنت پر پانی پھیر دیا؟ کتنی آسانی سے ہم نے ادھر تم، ادھر ہم کے نعرے میں آدھے پاکستان کو کھو دیا اور پھر اس سے بھی سبق حاصل نہ کر سکے۔
بوڑھے نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا اب احسن چہرے پر دکھ کے تاثرات با آسانی دیکھے جا سکتے تھے۔ اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہ تھا ۔ بوڑھا شخص ٹھنڈی آہ بھر کر دوبارہ گویا ہوا۔
ہم نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر سب سے پہلے پاکستان ہی کو داو پر لگا دیا کیونکہ ہم بطورِ قوم، سیاسی طور پر بالغ نہ ہوسکے۔ آج کل کی نوزائیدہ جمہوریت کی بچکانہ حرکتیں بھی انہیں آمریتوں کا شاخسانہ ہیں۔
رہی موجودہ حالات کی بات، تو جہاں پر یہ معلوم نہ ہو کہ دشمن کون ہے اور دوست کون؟ اس سے ابتر صورت حال کیا ہوسکتی ہے؟ کل تک جو دشمن تھے، ان کے لئے امن کی آشائیں ہیں اور جو واقعی بلا معاوضہ سپاہی اور دوست تھے، ان کی لاشوں پر بیٹھ کر ہم اپنے ملک کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ آج ہماری نسل ہم سے سوال کرتی ہے کہ ہم نے پاکستان کیوں بنایا؟ اور میرے پاس ان آنسوو¿ں کے علاوہ اس کا کوئی جواب نہیں، کوئی جواب نہیں ۔۔
بوڑھے نے ایک سسکی لی اور آٹھ کھڑا ہوا۔
مگر آپ نے اپنے بارے میں نہیں بتایا؟
میں 23 مارچ ہوں ۔ تم یہ سمجھ ہی نہ سکے کہ نظریہ پاکستان ہی اساس پاکستان ہے۔
جھکی ہوئی کمر اور لرزتے جسم والا بوڑھا بغیر مڑے گویا ہوا اور اپنے آنسو پونچھتا آگے بڑھتا چلا گیا ۔

Top