چار صوبے چار وزرائے اعلیٰ (حافظ خرم رشید)

1ایس ایم لاء کالج کے ابتدائی دور میں ایک انتہائی شفیق اور طنز و مزاح سے بھرپور شخصیت کے حامل استاد جسٹس (ر) جمیل صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، اور اُن کے پُرلُطف لیکچرز سننے کا موقع بھی ملا۔ اُن کی دوستانہ طبیعت میں یہ جُز بھی شامل تھا کہ نصاب کے علاوہ روزمرہ زندگی سے متعلق بھی سوالات کیے جا سکتے تھے اور اگر طالب علم نصابی سوال کر بھی لے تو وہ اِس کا جواب قانونی ہی دیا کرتے تھے۔ ایک روز دورانِ لیکچر میں نے محترم جمیل صاحب سے سوال کیا کہ سر جج کیسے بنتے ہیں اور وکیل اور جج میں کیا فرق ہوتا ہے؟ تو استادِ محترم نے جواب دیا کہ انسان خود ہی اپنی غلطیوں کا سب سے بڑا وکیل اور دوسرے لوگوں کی کوتاہیوں کا سب سے بڑا جج ہوتا ہے۔ میں اِس جواب سے مطمئن تو نہ ہوا لیکن یہ جملہ میرے دل میں تیر کی طرح پیوست اور ذہن میں نقش ہو گیا۔ گزشتہ 10 سالوں سے مختلف ٹی وی چینلز پر سیکڑوں پروگرامز میں سیاسی اکھاڑے سجائے گئے، تقریباً تمام وفاقی و صوبائی وزراء حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے ترجمان چینلز کی زینت بنے رہے اور موضوعِ بحث ملکی حالات، توانائی بحران، گیس لوڈشیڈنگ، بدامنی و دہشت گردی، بے روزگاری، کرپشن، اداروں اور معیشت کی تباہی و بدحالی رہا۔
اِن تمام مسائل کی وجوہات جب اقتدار میں رہنے والوں سے پوچھی گئی تو اُن کے مطابق قتل و غارت گری کو دراصل سیاسی اور فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا، بڑے سانحات یعنی بم دھماکوں کو کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان و افغانستان کے سر تھوپا گیا، توانائی بحران اور اداروں کی ڈوبتی نیا کو نکالنے کے بجائے گزشتہ حکومت کی ناقص حکمتِ عملی کو قرار دیا گیا، گو کہ یہ تمہید ہے کہ 5 سال کے دورِ اقتدار کو قلیل وقت قرار دے کر تمام مسائل کا جواز پیش کر دیا جائے۔
2
الغرض حکومتِ وقت، خاطر خواہ جواب سے قاصر رہتی ہے اور مسائل جوں کے توں ہی رہتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملکی معیشت تنزلی کا شکار ہے، قومی قرضوں میں تقریباً 8 ہزار ارب روپے بڑھے، عام ضرورت زندگی بشمول اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا، پاکستانی روپے کی قدر شرمناک حد تک گر چکی ہے جبکہ کرپشن نے قومی اداروں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ہر دور کی طرح اِس دور میں بھی من پسند افراد کو اہم عہدوں پر فائز کیا گیا جس سے اداروں کی بنیادیں ہِل کر رہ گئیں۔ پی آئی اے، اسٹیل مل اِس کی زندہ مثالیں ہیں۔ اب مجھے مرحوم جمیل صاحب کا یہ جملہ شدت سے یاد اورسمجھ آتا ہے کہ انسان واقعی اپنی غلطیوں کا سب سے بڑا وکیل اور دوسروں کی کوتاہیوں کا سب سے بڑا جج ہوتا ہے۔
جمہوریت کا راگ الاپنے والے سیاستدان گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی رونا روتے ہیں کہ پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ آمریت ہے اور آمر ہی جمہوریت پر قابض ہو کر عوام کے حق پر ڈاکہ ڈال دیتا ہے لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار گزشتہ حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اِس دور حکومت میں آئینی ترامیم کر کے آمرانہ شقوں کو بھی ختم کر دیا گیا۔ اب پیپلز پارٹی کے 5 سالہ دور اقتدار کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت بھی بخیر و عافیت اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی جانب کامیابی سے رواں دواں ہے، یعنی اقتدار کے ایوانوں میں جمہوریت نے اب تک 9 سال کا عرصہ بلا خوف اور آمریت کی مداخلت کے بغیر پورا کر لیا ہے اور اُمید ہے کہ باقی ماندہ ایک سال بھی کسی نہ کسی طرح جمہوریت قائم ہی رہے گی۔
3
جمہوری حکومتوں کے 9 سالہ طویل عرصے میں 108 ماہ یعنی 3240 دن گزر چکے ہیں اور اب تک کراچی کا کچرا، پشاور کے چوہے، لاہور کے مچھر اور کوئٹہ کے دہشت گرد ختم نہ ہو سکے۔ پاکستان کے 4 صوبوں کے پاس اپنے اپنے 4 وزرائے اعلیٰ ہیں اور اگر چاروں وزرائے اعلیٰ ایک ایک شہر کو ایک سال کے بڑے عرصے میں بہتر بنانے کا ہدف بنا لیتے تو آج پاکستان کے 36 شہر ناصرف صاف ستھرے اور پُرامن ہوتے بلکہ اِن شہروں کا ذکر دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں ہوتا۔ لیکن صاحب! اگر یہ تمام کام ہو جاتے اور اگر تمام مسائل حل ہو چکے ہوتے تو پھر یہ سیاستدان آئندہ الیکشن میں کس کام کو پورا کرنے کا وعدہ کر کے ووٹ مانگتے؟
یہ المیہ ہے کہ ہماری عوام نشان کو ووٹ دیتے ہیں اور انسان کو پسِ پشت ڈال کر ووٹ مانگنے والوں سے ماضی میں ہونے والی ناانصافیوں کا ذکر تک نہیں کرتے۔ اب ملک کے طاقتور سیاستدانوں کو یہ رائے دینا تو ممکن نہیں لیکن عوام کو ضرور سوچنا ہو گا کہ ہم کب تک سیاستدانوں کی شعلہ بیانی سے متاثر ہو کر اور بار بار وعدے وفا نہ کرنے کے باوجود بھی انہی روایتی سیاستدانوں کا چناؤ کرتے رہیں گے۔ آخر کب تک انہیں اپنے ووٹ بخش کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچاتے رہیں گے اور پھراِن کامیاب سیاستدانوں کا منہ دیکھنے کو ترسنے والے عوام کے ساتھ اِن کے منتخب کردہ امیدوار نہیں بلکہ جوں کے توں رہنے والے مسائل ہی ارد گرد گھومتے رہیں گے۔

Top