ایمپریس مارکیٹ کے ٹھگ ( عبد الرحمن چوہان )

empres-marketایمپریس مارکیٹ صدر ٹاؤن میں واقع مشہور بازار ، خریداری کے لئے سب سے زیادہ مقبول اور مصروف جگہوں کے درمیان ہے ۔ یہ شہر کے چند تاریخی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاںآپ کو کیا نہ ملے گا! مصالحہ جات، پھل، سبزیاں ، گوشت اسٹیشنری مواد، ٹیکسٹائل…. یہاں تک کہ پالتو جانوربھی بِکتے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسرے شہروں سے آنے والوں کی خریداری کے لیے پہلی ترجیح ایمپریس مارکیٹ ہی ہوتی ہے۔ ایمپریس مارکیٹ کو شہر کا جنکشن کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ شہر کے کسی بھی حصے میں جانے کے لیے یہاں سے سواری آپ کو باآسانی مل جائے گی۔ یہاں ہر وقت ایک چہل پہل سی لگی رہتی ہے۔ کہیں خریداروں کا رش ہے تو کہیں کوئی بس میں سوار ہونے کے لیے تیز تیز قدم اٹھاتا نظر آتا ہے۔ ا یسے عوامی ہجوم میں ’شکرے‘ بھی اپنے شکار کی تاک میں رہتے ہیں اور جیسے ہی کسی کو سوچوں میں گم دیکھتے ہیں ، فوراً اس پر حملہ کردیتے ہیں۔

empres-market-50

رکیے بھائی صاحب! آپ کے چہرے پر کچھ لگا ہے۔“
” سنیے گا !ایک کام تھا آپ سے، ارے ارے بھائی یہ کیا ہے۔“
یہ وہ الفاظ ہیں جو ایک اجنبی شخص کو ایمپریس مارکیٹ اور اس کے اطراف میں موجود مارکیٹوں میں اکثر واسطہ پڑتا ہے۔ ان الفاظ کا مقصد ایک سادہ سے آدمی کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے۔ نا تو چہرے پر کچھ لگا ہوتا ہے اور نہ ان کو کائی کام ہوتا ہے۔ جب کوئی ان کی طرف متوجہ ہوجائے تو وہ شخص کھڑے کھڑے نا جانے بے شمار بیماریاں اس شخص میں نکال کر اسے فوری طور پر لاغر بنا کر ’ہی ‘چھوڑتا ہے۔ نوسرباز شکاریوں کے ہاتھوں لٹنے والے شہریو ں کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں میں ہے،ان ہی لٹنے والوں میں سے چند لوگوں سے کراچی اپ ڈیٹس نے ملاقات کی،ان کی کہانی ان ہی لوگوں کی زبانی سنیں۔

empres-market-3

میرانام محمد عمران ہے میں لیاقت آبادنمبر4 کارہائشی ہوں ،میرے قریبی رشتہ دار کی بیٹی سول ہسپتا ل میں زیر علاج تھی میں اس کی عیادت کے بعدایمپریس مارکیٹ پہنچا کہ دو چار موٹی بنیان خرید لوں آگے سردی کا موسم آرہا ہے ، میں نے ایک ٹھیلے والے سے بنیا ن کا ریٹ پوچھا، ٹھیلے والا 15سے 20 سال کا نوجوان تھا بولا”100روپے کی 5بنیانیں ۔“
اتنی کم قیمت سنتے ہی میں نے فوراً 5 بنیانیں خرید لیں کہ اتنی مہنگائی کے دور میں بھی اتنی سستی بنیانیں،میں ابھی بقیہ 400سو روپے اپنی جیب میں ڈال ہی رہاتھا کہ وہ نوجوان بولا ”بھائی آپ کی آنکھ کر گرد سیاہ حلقے پڑے ہوئے ہیں۔“
میں2نوکریاں کرتاہوں، صبح7بجے اٹھ کر بچوں کو اسکول چھوڑنا اور پھر خودجلدی جلدی تیاری کرکے آفس جانے کے لیے نکل پڑتا، کبھی آئینے میں خود کو اتنے غور سے دیکھا ہی نہیں ،اس نوجوان کی بات سے میں فکرمند سا ہوا ،نوجوان کو فکرمند دیکھ کر فورابولا ”بھائی!40 روپے کانسخہ ہے۔“

12108717_1701793470056039_1460430333275883503_n-e1444772650541

میں نے سوچا کہ چالیس روپے تو زیادہ نہیں چلو خرید لیتے ہیں، نوجوان نے ٹھیلے کو ایسے ہی چھوڑا اور میرا ہاتھ پکڑکر اس پنساری یا حکیم کی دکان پر لے گیا،میں اتنی دیر پریشان رہا کہ سیاہ حلقے کیوں پڑگئے ابھی تو میری عمر ہی کیا ہے،اتنے میں نوجوان نے پنساری کو مخاطب کرکے شاہی فروٹ اور مقلہ مرجان نامی دوائی طلب کی،پنساری نے دکان پر کام کرنے والے لڑکے کو دونوں ادویہ لانے کو کہا ،میں نے قیمت پوچھی تو واقعی ہی40روپے تھی،ٹھیلے والا لڑکا بولا” بھائی !اس میں ایک سفوف بھی ڈلوالیںوہ دوسری دکان سے ملے گا اصل میں سارا کام اسی سفوف نے ہی کرنا ہے ۔“
میں نے کہا ”چلو وہ بھی ڈلوالیتے ہیں۔“
اس دکان پر پہنچتے ہی پہلے میں نے قیمت پوچھی اس نے بھی 40روپے بتایا،میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دوائی لانے کو کہا،ٹھیلے والے نوجوان نے کہا ”حکیم صاحب!20خوراک بنادو۔“
حکیم صاحب نے آرڈر سنتے ہی ایک ڈبے سے سفوف نکالا اور شاہی فروٹ میں شامل کرکے اس کی چھوٹی چھوٹی 20ڈبیہ بنادی میں نے چالیس روپے اسے تھمادیے ۔
حکیم بولا ”بھائی صاحب600روپے ہوگئے ہیں ۔“
”600روپے ….؟؟؟کیوں بھائی ابھی تو40روپے بتائے تھے ۔“
حکیم بولا ”40روپے ایک خوراک کے ہیں۔“
”تو بھائی ایک ہی خوراک دے دو۔“میں نے بے بسی سے جواب دیا ۔
حکیم بولا ”جی نہیں ،اب یہ دوائی بن چکی ہے اسے کون خریدے گا….؟یہ تو آ پ نے آرڈر دے کر بنوائی ہے لہٰذا رقم ادا کریں۔“پورے ایک ہفتے کا خرچہ اس حکیم کے حوالے کیا اور بوجھل قدموں سے گھر کی راہ لی۔

empres-market-4

میرانام عبدالحق ہے میں کورنگی ٹاون کا رہائشی ہوں۔ بس جیسے ہی ایمپریس مارکیٹ آکر رُکی، ایک اخبار والا ادھیڑ عمر شخص اخبار فروخت کرنے آیا غالبا ًکسے حادثے کی خبر مین اسٹوری کے طور پر لگی ہوئی تھی۔ میں نے اخبار والے کو ہاتھ کے اشارے سے قریب بلایااخبار مانگا اور 50کا نوٹ اس کے حوالے کردیا ،اس نے بقیہ رقم دیتے ہوئے کہا ”بھائی آپ کی اتنی عمر تو نہیں ہے بال کیوں سفید ہوگئے….؟“
ابھی میں کچھ بول بھی نہ پایا تھا کہ اخبار والا شخص بولا ”لگتا ہے ابھی تو شادی بھی نہیں ہوئی۔“
میں نے کہا ”کوئی بات نہیں ،بال سفید ہوں یا کالے اس سے شادی کا کیا تعلق۔“
وہ شخص پھر بولا ”بھائی صاحب60روپے کا نسخہ ہے ،میں آپ کو دوائی لادوں، میرے چھوٹے بھائی کے بھی جلد بال سفید ہوگئے تھے، ایک مہینے کا کورس کیا اور دوبارہ کالے ہوگئے۔“
میں نے تجسس سے پوچھا ”صرف 60روپے کا نسخہ….؟“
” جی ہاں صرف،60روپے کا۔“

گاڑی سے اتر کر میں اس کے ساتھ چلا گیا اور پورے مہینے کی خوراک بنوالی۔
حکیم صاجب نے1200روپے کا بل میرے ہاتھ میں تھمادیا گیا جسے دیکھتے ہی لگ رہا تھا کہ سر کے باقی بال بھی سفید ہوگئے ہوں گے ۔بڑی مشکل سے500روپے دے کر جان جھڑائی۔

hair-e1448421354887

گودھرا کے رہائشی شوکت کو آنکھ کا رنگ پیلا ہوگیا۔ ،نیوکراچی سے مصور صاحب کو بالوں کاگرنا،مجاہد کالونی سے اسلم کو بھی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، ناظم آباد سے ساجد کو پیٹ بڑھنے کی بابت پھنسایا گیا اور ایسے سینکڑوں لوگ ہوں گے جو روزانہ کی بنیاد پر پھنس جاتے ہوں گے۔ ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھی جائے کہ جب تک ہم احساس کمتری کا شکار ہوں گے تو ایسے شکاریوں یا نوسر بازوں کے ہاتھ لٹتے رہیں گے ،ان شکاریوں سے بچنے کاایک ہی حل ہے کہ ہر وقت پراعتماد اور اپنے حواس کو بحال رکھیں،بال سفید ہونا، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑنا۔ آنکھوں کا رنگ پیلا ہونا یا پیٹ بڑھنا اس سے اپنے اندر احساس کمتری پیدا نہ ہونے دیں ۔کسی اچھے معالج اور طیب سے رجوع کریں ناکہ ان نوسر بازوں کے جھانسے میں آئیں۔ سامنے والے شخص کی بات کو اطمینان سے سنیں اور جلد بازی اور فکر مند ہوئے بغیر اسے اپنے اللہ کی منشا قرار دے کر آگے نکل جائیں۔
anfalrabel@gmail.com

About abdur rahman

Biographical Info

Top