عبد الستار ایدھی کی پہلی برسی (حفیظ خٹک)

2شہر قائدکے باسیوں ، پاکستان کی عوام اور ان سے بھی بڑھ کیلئے پوری انسانیت کیلئے قابل فخر عبدالستار ایدھی کی اآج پہلی برسی ہے ۔ گذشتہ برس آج ہی کے دن وہ وفات پاگئے تھے ۔ان کی نماز جنازہ نیشنل اسٹیڈیم میں ادا کی گئی۔نماز میںاس وقت کے سپہ سالار راحیل شریف سمیت ہزاروں شہریوں نے شرکت کی ۔ اس وقت ہر فرد کے جذبات عروج پہ تھے ، ہر پاکستانی جو اس شہر میں ہے اس کی اور اس سمیت جو بھی اس شہر سے کم یا زیادہ دور تھا اس کی یہ شدید خواہش تھی کہ اس عظیم انسان کی نماز جنازہ میں وہ شریک ہو۔ نماز جنازہ میں اس کی شرکت اس کیلئے ہی اک اعزاز کا درجہ تھااور یہ ا عزا ز ان کو حاصل ہوا جنہوں نے آکر نماز جنازہ اداکی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی کہ ملک کے سپہ سالار نے انہیں سیلوٹ کیا اور اس کے ساتھ انہیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی ۔ ملک کی سطح پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا جبکہ صوبہ سندھ و خیبر پختونخواہ میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا۔
شہر قائد میں ہی مزدوروں ، تاجروں ، مظلوموں ، معصوموں، خواتین و خضرات ، طلبہ و طالبات سمیت محتلف سبھی شعبہ زندگی سے متعلق شہریوں کا چہرہ و دل ڈوبا نظر آیا ۔لوگوں کے الفاظ نہ تھے ، جملے نہ تھے اگر کچھ تھا جو نظر آتا تھا جو محسوس ہورہا تھا وہ جذبات تھے و احساسات تھے۔ اسٹڈیم جہاں عوام جب بھی جمع ہوئی کھیل کود و تفریح کیلئے جمع ہوئی تاہم اس بار سپہ سالار ، صدر پاکستان، چیئرمین سینٹ، وزیر اعلی سندھ و پنجاب،تمام سیاسی مذہبی جماعتوں کے رہنما ، تاجر سربراہان سمیت عوام کی بڑی تعداد اسٹیڈیم میں ایک ایسے فرد کی نماز جنازہ کیلئے جمع ہوئی جس کے جانے کا افسوس ان کے دلوں میں موجود تھا۔ جو اس دنیا سے تو چلا گیا وہاں چلا گیا جہاں پر سب کو جانا ہے تاہم اس نے جاتے ہوئے بھی وہ کام کیا جو وہ پوری زندگی کرتا رہا ہے اس نے اپنی آنکھیں عطیہ کردیں۔ اس کے چہرے پر جاتے ہوئے بھی وہ مسکراہٹ سی نمایاں تھی جو اس کی عمر بھر رہی۔
وہ عبد الستا ر ایدھی کہنے کو اور سمجھنے کو تو چلا گیا لیکن یقین اب بھی دل کو نہیں آتا کہ وہ انسانیت کا داعی اس دنیا سے چلا گیا ۔ ہاں آج ایسا لگتا ہے کہ وہ تو چلا گیا لیکن وہ زندہ رہے گا ، اپنے کارناموں کے ذریعے ، اپنے کرداروں کے ذریعے اپنے بنائے اور بتائے ہوئے راستوں کے ذریعے زندہ رہے گا۔ ہر فرد کا سر، چہرہ ان کے احترام میں نیم خم تھا ۔وہ سبھی آج تلک اسے نہ بھول پائے اور نہ ہی بھول پائیں گے ۔ اس کی شان و شوکت کو ہی دیکھئے کہ وہ جاتے جاتے اپنی آنکھیں عطیہ کر گیا ۔
9جولائی کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کا انتقال ہوا تھا ، ملک تاریخ میں اس دن کی بھی اہمیت ہے ایدھی صاحب کا انتقال 8جولائی کو ہوا اور نماز جنازہ 9جولائی کو اداکیا گیا جس سے اس د ن کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ 5جولائی کو 1977کو سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی اس دن سے آج تلک پیپلز پارٹی اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتی ہے جبکہ اسی تاریخ کو 1999میں کارگل کے محاظ پر ملک فوج کے ایک بہادر کرنل شیر خان کو شہادت ملی جس کے بعد انہیں نشان حید ر سے نوازا گیا ۔ ملک کی تاریخ میں 9جولائی کا دن ملک تاریخ کے اہمیت کے حامل دنوں کی طرح اب یاد رکھا جائیگا۔
قوم کو اس برس یہ دن اس طرح سے بھی یاد رہے گا کہ اسی دن گذشتہ برس مقبوضہ کشمیر میں برہان مظفر وانی کو بھارتی فوج نے شہید کیا ۔ ان کی شہادت کے بعد برسوں سے جاری آزادی کی تحریک آج عروج پر پہنچ چکی ہے ۔ اسی برہان وانی کے راستے پر آج کشمیر کا ہر فرد رواں دواں ہے ۔ سبھی کو بس اب بھارت کی قید سے نکلنا ہے اور آزاد ہونا ہے اس وطن عزیز سے ملنا ہے اور پھر برہان وانی سمیت دیگر شہدا ء کے سفر کو نہ صرف جاری رکھنا ہے بلکہ ان اعراض و مقاصد کو پورا کرنا ہے کہ جن کیلئے انہوں نے اپنی زندگیا ں راہ میں قربان کر دی تھیں ۔
1138173-Funeralfinal-1468065482-302-640x480تحریک انصاف کے عمران خان نے ایک جگہ پر ایدھی مرحوم کے متعلق لکھا کہ جب میں نے اپنے ہسپتال کیلئے چندہ جمع کرنے کیلئے ایدھی صاحب سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہ تو بہت آسان کام ہے آؤ میرے ساتھ چلو ، اس کے بعد مجھے لے کر ایک چوک پر گئے اور گذرتی گاڑیاں کے سامنے اپنا دامن پھیلاتے ہوئے کہنے لگے کہ میں عمران خان کے ساتھ ایک کینسر کے ہسپتا ل کیلئے چندہ جمع کر رہا ہوں ، لہذا مجھ چندہ دو۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ اس وقت سے آج تک میں اس لمحے کو نہیں بھلا پایا ہوں ۔ ان کے اس اقدام سے مجھے اپنے ہسپتال کیلئے چندہ جمع کرنے کا بہت حوصلہ ملا اور آج دیکھئے کہ اسی عمران خان نے وطن عزیز میں دو کینسر کے ہسپتال قائم کر دیئے ہیں اور تیسرا ہسپتال وہ شہر قائد میں بنانے کا اعلان کر چکے ہیں ۔
یہ کیسے بھلایا جاسکتا ہے کہ نماز جنازہ کے اختتام پر سبھی کی یہ کوشش تھی کہ وہ جنازے کو کندھا دے لیکن ایسا ممکن نہ تھا ہزاروں افراد کے مجمع میں سینکڑوں کو بحرحال یہ سعادت نصیب ہوئی ، عوام نے پچھلی جانب اس دروازے کے قریب بھی قطاریں بنائیں جہاں سے گاڑی کو گرتے ہوئے نکلنا تھا ۔ اس وقت ہر فرد کا چہرہ ایسا تھا کہ جیسے اس کا کوئی انتہائی عزیز اس سے بچھڑ گیا ہو۔ عوام آہستہ آہستہ باہر دروازو ں سے باہر جانے لگے ، ذرائع ابلاغ کے افراد نے بھی مختلف جگہوں پر اجتماعی طور پر دعا کی ۔ دعا ہر فرد کی عبدالستار ایدھی کیلئے ، ان کی خدمات کیلئے ، ان کے راستے پر چلنے کیلئے ، ملک کیلئے اور سب سے بڑھ کر دھکی انسانیت کیلئے تھیں۔
عبدالستا ر ایدھی سے عوامی محبت کا انداز ناقابل بیاں ہے، وہ لوگ جو سمندر پار ہیں جو دور ہیں اور وہ بھی جو اس شہر میں ہیں لیکن مجبور ہیں ان کی دلی یہ حواہش تھی کہ اس عظیم انسان کی نماز جنازہ میں شریک ہوتے اور جو ہوسکتے تھے وہ ہوئے جو نہیں ہوسکے انہوں اپنے دلوں میں ، اپنی زبانوں کے ذریعے دعائیں دیں۔
ایدھی تو چلا گیا لیکن وہ دلوں میں ہمیشہ رہے گا وہ دلوں سے کبھی نہیں جائے گا۔ اس کے ساتھ کام کرنے والے بھی اس کے پاس ضرور جائیں گےاس کی انسانیت کیلئے خدمات کا جذبہ ہمیشہ سامنے رہے گا ، ان کے بعد انہی کے سارے کاموں کو ان کے بیٹےفیصل ایدھی نے احسن انداز میں جاری رکھا ہوا ، ان کا ایدھی کے ہر کارکن کا اور اس سے بھی بڑھ کر ہر انسان کا اللہ کی رضا کیلئے انسانیت کی خدمت کا جذبہ ہی نہیں عمل بھی جاری رہے گا۔
hafikht@gmail.com

About حفیظ خٹک

Biographical Info

Top