قائد اعظم کی اسلامی فلاحی ریاست (حافظ عاکف سعید)

pakistan dayآج کل اخبارات میں صادق اور امین کے حوالے سے آئین کی دفعہ 62-63کا بڑا چرچا ہے۔سیکولر اور لادینی عناصر کے ساتھ سیاسی جماعتیں بھی ان دفعات کو نشانہ بنائے ہوئی ہیں۔کیا صرف اس لئے کہ یہ دینی اصطلاحات ہیں؟کیا سیاسی جماعتوں کے قائدین مسلمان نہیں؟یقینا یہ عین دینی اصطلاحات ہیں۔ ان کو مذاق کا نشانہ اور ہدف تنقید بنانا ناقابل فہم ہے۔اعتراض یہ ہے کہ ایک فوجی ڈکٹیٹر نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے یہ دفعات شامل کی تھیں ، لہٰذا انہیں آئین سے خارج کردیا جائے۔لیکن اعتراض کرنے والے یہ بات کیوں بھول رہے ہیں اٹھارویں ترمیم میں منتخب سیاسی جماعتوں نے غور و فکرکے بعد نہ صرف ان دفعات کو خارج نہیں کیا بلکہ موکد کیا تھا۔یہ وہ حقائق ہیں جن سے غفلت برتی جارہی ہے۔سیکولر طبقہ نہ صرف مادر پدر معاشرہ اور پارلیمنٹ چاہتا ہے جس کی ایک نظریاتی ریاست ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتی۔مقدم ترین اور فیصلہ کن معاملہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اگر آپ نے کتروبیونت کرنی ہے ، تو ٹھیک ہے آئین کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ، لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام کے نام پر بننے والے ملک کے آئین میں کسی ترمیم کی ضرورت ہے تو اس اعتبار سے ضرور دیکھنا چاہئے کہ کوئی دفعہ اللہ کی حاکمیت اور قرآن وسنت سے متصادم تو نہیں۔یہ اصل ایشو ہے۔اس اعتبار سے آئین کا ضرور جائزہ لینا چاہئے۔کیونکہ آئین میں اللہ کی حاکمیت کا اقرار بھی ہے اور قرآن وسنت کی بالادستی کا ذکر بھی ۔۔ایک شق توواضح طور پر خلاف اسلام ہے کہ جس شخص کو عدالت نے موت کی سزا سنائی ہو،صدر مملکت کو اختیار ہے کہ یہ سزا کو معاف کردے۔یہ اختیار انہیں کس نے دیا؟یہ عین غیر اسلامی شق ہے۔کہنے کو توکہدیا گیا کہ اس ملک میں کوئی قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہوگی۔لیکن اس کو یقینی بنانے کے لئے کوئی میکانزم نہیں ہے۔اس میں یہ لوپ ہول ہے۔اس کو دور کرنے کے لئے آپ ترمیم کی بات کریں۔یہ درست بات ہے۔کیا یہ مسلمانوں کا ملک نہیں؟یا اب بھی ہم ہندوستان میں رہ رہے ہیں؟یہ تو ایک الگ المیہ ہے۔میں یہ بات کئی بار ثابت کرچکا ہوں کہ آج بھی بھارتی مسلمانوں کو جتنا اسلام میسر ہے ہم مسلمانان پاکستان کو ارض پاکستان میں میسر نہیں ہے۔یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔آئین میں کسی ترمیم کرنے سے قبل یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ یہ مسلمانوں کا ملک ہے۔ہم اس حوالے سے اور پیچھے جارہے ہیں ۔صادق اور امین کی دفعہ بھی آئین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔گویا کہ ہم اللہ کو بہ آواز بلند دعوت عذاب دے رہے ہیں ۔
شمسی کیلنڈر کے اعتبار سے پاکستان 14اگست کوستر سال کا ہوچکا ہے۔جبکہ قمری تقویم کے حساب سے 27رمضان المبارک کو 72سال کا ہوچکا۔اس موقع پر ہمیں جائزہ لینا چاہئے تھا کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔اسلام کے نام پر ملک بنا ۔اسلام کے لئے پیش رفت کے حوالے سے آغاز میں قرار داد مقاصد منظور ہوگئی لیکن اسے آئین میں دفنادیاگیا ۔کوئی پیشرفت اس ضمن میں نہیں ہوئی۔وہ جو اقبال نے کہا ہے  صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب۔اگر خود احتسابی نہ ہو تو آپ دنیا میں بھی ترقی نہیں کرسکتے۔ہمیں تو اس کی زیادہ ضرورت ہے کہ ہم دیکھیں کہ اسلام کے حوالے سے اب تک کیا پیشرفت ہوئی ہے اور کیا قیام پاکستان کا مقصد حاصل ہوا۔ہمارے ہاں یوم آزادی کس انداز سے منایا جاتا ہے اس سے ہم سب واقف ہیں۔طوفان بدتمیزی، ہلڑ بازی ، قانون کی خلاف ورزی اور کیا کچھ نہیں ہوتا۔زوال پذیر اقوام کے یہی احوال ہوتے ہیں۔ہمیں اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ آدھا ملک ہم گنوا چکے ہیں۔ اس کا تو اب تذکرہ بھی نہیں ہوتا۔ہمیں اپنے ازلی دشمن کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست ہوئی ہے۔لیکن ہم نے اس سے سبق نہیں سیکھا ۔جس راستے پر ہم چل رہے ہیں وہ بلاشبہ تباہی کا راستہ ہے۔اس سے ہمیں اللہ تعالیٰ ہی بچا سکتا ہے۔اگر اب بھی ہم نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو 71ءسے بڑا کوئی سانحہ رونما ہوسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں کسی برے انجام سے بچائے۔اس دور میں سب سے بڑا ظلم یہ بھی کیا جارہا ہے کہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسلام پاکستان کے نام پر نہیں بنا تھا۔قائد اعظم ایک سیکولر ریاست چاہتے تھے۔ حالانکہ قائد اعظم کے سو سے زیادہ تقاریر میں یہ بات واضح طور پر موجود ہے کہ وہ ایک اسلامی ریاست کا قیام چاہتے تھے۔ اسلامی نظام کے نفا ذ کے لئے انہوں نے Reconstruction of Islamic Systemنامی ادارہ بھی بنادیا تھا۔اس ادارے کا سربراہ علامہ اسد کو بنایا تھا جو علمی اعتبار سے پورے عالم اسلام کی ایک چوٹی کی شخصیت تھی ۔انہوں نے اس ادارے کے کام کا آغاز بھی کردیا تھا۔بدقسمتی سے قائد اعظم کو مہلت نہ مل سکی ۔ان کی زندگی نے وفا نہ کی ۔اس کے بعد بیوروکریسی نے جو کچھ کیا ہے اس کے بارے میںمشہور صحافی اوریا مقبول جان صاحب نے دستاویزات حاصل کرلئے ہیں ۔مفکر پاکستان علامہ اقبال کا پورا کلا م قرآن پر محیط تھا۔ وہ اس دور میں فکر اسلامی کو زندہ کرنے والی شخصیت تھی۔انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں میں اپنے کلا م کے لئے ذریعے ایک نئی روح پھونکی۔اس کے نتیجے میں تحریک پاکستان چلی اور اللہ نے ایک ناممکن بات کو ممکن کردکھایا۔انگریز اور ہندو دونوں پاکستان کے خلاف تھے۔گاندھی کو ہم جو بھی کہیں ، ہندوو¿ں کے نزدیک وہ ایک بہت معتبر شخصیت تھی اور کچھ مسلمان شخصیات بھی اس کے زلف گرہ گیر کے اسیر بنی ہوئی تھیں۔اس نے کہا تھا کہ پاکستان میری لاش پر بنے گا۔مسلمانوں کے خلاف یہ صورتحال تھی لیکن اس کے باوجود پاکستان معجزانہ طور پر وجودمیں آیا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستا ن اسلام کے نام پر بنا ہے۔قائد اعظم کے الفاظ میں اس کا مقصد یہ تھا کہ پوری دنیا کے سامنے سلامی نظام عدل کا ایک نمونہ پیش کیا جائے۔اسے دنیا کے لئے اسلام کا مینارئہ نور بننا تھا۔لیکن آج ہم کہاں کھڑے ہیں ، اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ ہی جس نے ہمیںیہ مملکت عطا کی ہے ، اس کے مقصد کے حصول میں ہماری مدد فرمائے ۔آمین یا رب العالمین۔

Top