زندگی سے لطف اندوز ہوں (علی عبداللہ)

Prosperous life.ایک بوڑھے تاجر نے نوجوان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی زندگی کے قیمتی اور بہترین سال تمہاری طرح کاروبار کو ترقی کی منازل طے کروانے میں صرف کر چکا ہوں لیکن اب سمجھ آیا کہ میں نے کئی ایسی چیزیں کھو دیں جن کا ازالہ اب ممکن ہی نہیں۔ تم جیسے جوان کے لیے میرا یہ تجربہ آگے بڑھنے کے لیے روشن راہ ثابت ہو گا۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بوڑھے نے مزید کہا کہ انسان کی زندگی کے تین مراحل ہوتے ہیں۔ پہلا مرحلہ نوجوانی ہے جب وقت کی کمی کا کوئی رونا نہیں ہوتا۔ زندگی سے لطف اٹھانے کا بھرپور وقت، طاقت اور جوش و خروش ہوتا ہے لیکن اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ دنیا گھوم سکے یا اپنی من پسند چیزیں خرید پائے۔

چند سال بعد انسان اپنی زندگی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے، مکمل جوان، بہترین کمائی یا منافع بخش کاروبار اور ایک روشن مستقبل اور آسائشوں بھری زندگی کی نوید۔ اس مرحلے پر انسان بہت مصروف ہوتا ہے اور وہ اپنے خاندان کو بھی وقت نہیں دے پاتا۔ کام کی مصروفیات اور بہتر مستقبل کے چکر میں وہ بہت کچھ قربان کر دیتا ہے۔

پھر بڑھاپا شروع ہوتا ہے۔ ڈھیر ساری دولت اور ہر وہ شے جس کا خواب دیکھا ہوتا ہے، اس کے پاس ہوتی ہے۔ لیکن یہاں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ بہت کچھ پانے کے چکر میں وہ بہت کچھ کھو بھی چکا ہے۔ اپنی صحت، سیر و سیاحت کا شوق، جذبہ غرض کہ ہر وہ دلچسپی بھی جو کبھی اس کے لیے دلچسپی تھی۔

تب انسان اپنے بچوں کو دیکھتا ہے کہ شاید وہ اب اس کے ساتھ بیٹھ کر وقت گزاریں، اس کے ساتھ سیر کے لیے نکل سکیں لیکن تب تک بہت دیر ہوجاتی ہے۔ بچے جوان ہوکر اپنی مصروفیات میں بٹ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی وقت نہیں ہوتا۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ پیسہ اور دولت گزرے ہوئے وقت کو واپس نہیں لا سکتے۔ وہ لمحے واپس نہیں لا سکتے جب بچے اپنے لیے وقت طلب کررہے تھے، جب وہ چاہتے تھے کہ ایک گھنٹہ ہی سہی لیکن آپ ان کے پاس بیٹھیں، ان کے ساتھ گھومیں پھریں۔ تب احساس ہوتا ہے کہ آپ کی کمائی ہوئی دولت صحت واپس نہیں لا سکتی۔ اس لیے میری زندگی کا تجربہ یہی ہے کہ حقیقی زندگی وہ ہے جو دولت کے پیچھے دوڑنے کے بجائے اطمینان کے ساتھ گزاری جائے۔

کیا یہ ہم سب کی کہانی نہیں؟ شاید ہم سب کے اندر ایک بوڑھا تاجر ہی موجود ہے۔ ہماری تمام کوششیں، دولت کے ڈھیر بھی زندگی میں خوشی اور اطمینان نہیں لا سکتے۔ اس لیے معقول آمدنی پر مطمئن رہنا اور شکر گزاری اختیار کرنا زندگی کو پرلطف بنا دیتا ہے۔ دوسرے سے مقابلہ کرتے کرتے خود کو کمزور نہ کریں اور اپنی زندگی کو خود جئیں۔

Top