سیاسی پارٹیوں نے 70 سالوں میں کیا دیا؟ (حمیرا اطہر)

2
ہمارے زمانۂ طالب علمی میں تمام تعلیمی اداروں میں ’’طلبا یونین‘‘ کے انتخابات بڑی باقاعدگی سے ہوا کرتے تھے اور سچ پوچھیے تو یہی انتخابات اور منتخب شدہ یونینز طلبا وطالبات کی سیاسی تربیت کے بہترین ادارے ہوتے تھے۔ یہ سلسلہ کب اور کیوں موقوف ہوا؟ یہ ایک طویل کہانی ہے، سرِدست یہ ہمارا موضوع نہیں۔ ہم تو صرف یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ ان یونینز کے زیراہتمام تمام سال طلبا و طالبات ہم نصابی سرگرمیوں میں تو حصہ لیتے ہی تھے تاہم، ہر ادارے میں سالانہ ہفتۂ طلبا اور ہفتۂ طالبات منایا جاتا تھا جس کے تحت قرأت، انگلش اردو مباحثے، کوئز اور شاعری وغیرہ کے بین الکلیاتی مقابلے بھی منعقد ہوا کرتے تھے۔ ہمیں آج بھی یاد ہے کہ اردو مباحثوں میں چوںکہ دلائل میں وزن پیدا کرنے کی خاطر اشعار کا سہارا بھی لیا جاتا تھا، لہٰذا موضوع کوئی بھی ہو، اُس کی موافقت یا مخالفت میں تقریر کرنے والا کوئی نہ کوئی طالب علم یہ شعر ضرور پڑھتا تھا۔
ہمارے ملک کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھِری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
غور کیجئے تو یہ شعر آج بھی اِسی طرح منطبق آتا ہے جیسا اُس دور میں تھا۔ سیاست تماش بینوں میں مزید گھِر گئی ہے۔ تو کیا 70 برس گزرنے کے بعد بھی اِس ملک کے عام آدمی کا مقدر یہی ہے کہ جو نجات دہندہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہوا آئے، اپنی تجوریاں بھر کے، غریب کو غریب تر کرکے چلا جائے؟ بقول شاعر:
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی اُلّو کافی تھا
ہر شاخ پر اُلّو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا
1
شاید یہی فکر جسٹس(ر) وجیہہ الدین احمد کو بھی بے کل کرتی رہی اور اُنہوں نے اِس ملک وقوم کی حالت سدھارنے کا بِیڑہ اٹھا لیا۔ اِس کوشش میں پہلے پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنے لیکن جلد ہی احساس ہوگیا کہ یہاں بھی حالت کچھ مختلف نہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بھی شاید اپنی ’’غلطی‘‘ کا احساس ہوگیا چناںچہ اُنہوں نے جسٹس(ر) صاحب کو معطل کردیا۔ یہ معطلی بالآخر جسٹس(ر) وجیہہ الدین کے استعفے پر منتج ہوئی۔ بھلا جس شخص کا کردار یہ رہا ہوکہ پارٹی کو بدعنوان رہنمائوں سے پاک کرنے کی پاداش میں خود معطل ہونا گوارا کرے، اُس پر کوئی کس طرح انگلی اٹھا سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ جب اُنہوں نے خود پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا اور چند ہم خیال دوستوں سے اِس کا اظہار کیا تو نہ صرف یہ کہ اُنہیں بھرپور تائید ملی بلکہ اندرونِ ملک کے ساتھ بیرونِ ملک سے بھی لوگوں نے ساتھ دینا شروع کردیا۔ یہ ہم خیال لوگ چوںکہ ملک میں عام آدمی کی حالت سدھارنا چاہتے ہیں لہٰذا، پارٹی کا نام بھی ’’عام لوگ اتحاد‘‘ (ALI) رکھنا پسند کیا۔ سرِدست اِس کے چیئرمین وجیہہ الدین صاحب خود ہیں اور یہ بھی اُنہوں نے عارضی طور پر قائم مقام کی حیثیت میں قبول کی ہے۔
’’عام لوگ اتحاد‘‘ (ALI) کا پہلا ورکرز کنونشن 4دسمبر 2016ء کو لاہور میں ہوا تھا اور اب 31مارچ 2017ء کو اس پارٹی کا دوسرا کراچی ورکرز کنونشن خود جسٹس(ر) وجیہہ الدین احمد صاحب کی قیام گاہ پر منعقد ہوا جس میں مزدور کسان اتحاد پارٹی، عوامی اتحاد اور عام پاکستانی پارٹی کے سرکردہ رہنمائوں اظہر جمیل، صفدر رضوی، ایس ایم الطاف، ڈیوٹی فری شاپ یونین کے ارکان طاہر سعید، منصور عالم، ضیاء الدین، ارشد اور عین الدین احمد وغیرہ سمیت سو سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔ اتنا ہی نہیں ثریا پیر زادہ اور بابرہ اسماعیل سمیت بیس سے پچیس خواتین بھی موجود تھیں جن کے لئے علیحدہ نشستوں کا انتظام تھا۔
اس کنونشن میں وجیہہ الدین صاحب کی خصوصی دعوت پہ مَیں نے بھی شرکت کی۔ اِس جلسے کی خاص اور چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ اس میں کوئی اسٹیج نہیں بنایا گیا تھا اور جسٹس(ر) وجیہہ سمیت تمام اکابرین ومقررین، حاضرین کے ساتھ ہی تشریف فرما تھے۔ سامنے دیوار پر پارٹی کا بینر، جس پہ جلسوں کے مروجہ طریقۂ کار کے برعکس پارٹی کے کسی رہ نما کی تصویر نہیں تھی۔اور ایک روسٹرم، اس کے ’’عام لوگ اتحاد‘‘ ہونے کا ثبوت فراہم کررہے تھے۔
مقررین اور خود جسٹس(ر) وجیہہ الدین احمد کے خطابات کا لبِ لباب یہ تھا کہ :
اس ملک میں عام لوگوں کی تعداد99 فی صد ہے۔ (گویا بس اتحاد کی کمی ہے) یہ لوگ کبھی خود کو ووٹ نہیں دیتے، ہمیشہ پیسے والوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ ہم اپنے نمائندے عام لوگوں میں ہی سے منتخب کریں گے اور ہر حلقے سے وہیں کے تین امیدواروں کو منتخب کریں گے جن میں سے ایک اصل امیدوار اور دو کوورنگ امیدوار ہوں گے۔ ہمقومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ہر حلقے میں مہم چلائیں گے جس میں اُنہیں بتائیں گے کہ الیکشن کا حلقہ کیا ہوتا ہے اور آپ کو ووٹ دیتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ اظہر جمیل صاحب نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اِس وقت ملک کی اشرافیہ ایک فی صد سے زیادہ نہیں۔ تو ہم اُن ایک فی صد میں بھی بیس فی صد حصہ ایسے لوگوں کا رکھیں گے جو آسودگی، دیانت، اہلیت اور جذبۂ حُب الوطنی سے معمور ہوں گے۔ اِس وقت جو اسمبلیاں اور لوکل باڈیز ہیں، اُن میں عام لوگوں کی نمائندگی ایک فی صد بھی نہیں۔ نمائندگی اگر ہے تو زر کے لوگوں کی، زرداری کے لوگوں کی۔ آپ کو خود اپنے آپ کو ووٹ دینا ہے اور ہر اُس پارٹی اور امیدوار کو مسترد کرنا ہے جس نے 70 سال سے آپ کو رد کیا۔
جسٹس(ر) وجیہہ الدین احمد کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا ہمارے ساتھ ہے مگر میڈیا مالکان ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ یہ ہمارے لئے غیرمتوقع نہیں۔ اِس کے باوجود ہم وہ کام کرنے والے نہیں جو الطاف حسین نے کیا تھا۔ ہم اخباروں کے دفاتر کے سامنے اُن کے اخبار جلانے والے نہیں ہیں کیوںکہ ہمیں یہ یقین ہے کہ عوام کی خواہشات اور اُن کے جذبوں کو کوئی روک نہیں پائے گا۔
پارٹی کے لائحۂ عمل کے حوالے سے جسٹس(ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی ترجیح تعلیم ہے لیکن ایسی تعلیم نہیں جو آج کل کے تعلیمی اداروں میں دی جا رہی ہے۔ خود کو پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ایم اے پاس بتانے والے لوگ میٹرک پاس کا درجہ پانے کے بھی اہل نہیں۔ 2010ء میں 18ویں ترمیم آئی، اُس میں بنیادی حقوق کی شق25A کا اضافہ ہوا جس میں کہا گیا کہ پانچ سال کے بچے سے لے کر سولہ سال کے بچے تک کے لئے تعلیم نہ صرف مفت بلکہ لازمی ہوگی۔ مگر اُس میں ایک چھوٹا سا ’’شوشہ‘‘ یہ بھی تھا:
law.” “In such manner as may be determined by
کچھ صوبوں میں قانون بنا ہی نہیں تو عمل کیا ہوگا؟ یہ تو گھوسٹ اسکول اور گھوسٹ ٹیچر کے قائل ہیں۔ تعلیم وتربیت ایک چیز ہے اورتعلیمی اداروں کی ڈگری حاصل کرنا دوسری بات ہے۔ ویسے بلوچستان کے ایک سابق گورنر تو یہ ’’تاریخی بیان‘‘ جاری کر ہی چکے ہیں کہ ’’ڈگری اصلی ہو یا جعلی، ڈگری، ڈگری ہوتی ہے۔‘‘ تاہم، ہماری نظر پہلی قسم کی تعلیم پر ہے۔
ALI کی طرف سے آرٹیکل 25A کے نفاذ کے لئے عدالتوں سے رجوع کیا جا رہا ہے۔ اس اٹھارویں ترمیم کے تحت 140A کا اصافہ بھی ہوا جس میں کہا گیا کہ سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اقتدار اور اختیارات مقامی سطح پر منتقل کئے جائیں۔ کراچی جیسے شہر میں یہ عالم ہے کہ سیدھی سادی صفائی کا بھی بندوبست نہیں۔ باغ ابن قاسم کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے۔ مَلک ریاض سے معاہدہ کیا، وہ بیس کروڑ روپے لگائے گا۔ (واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے اس حکم کو معطل کر دیا ہے۔)
بے نظیر کے نام پر بوٹ بیسن میں بننے والے پارک میں اِس وقت ٹھیکرے برس رہے ہیں۔ لیاری کے عوام پارک کے لئے نثار شہید پارک (ڈیفنس) میں آتے ہیں۔ کمشنر صاحب آج 0 6 ہزار درخت لگانے کی بات کررہے ہیں تو کیا وہ گرمی کی شدید لہر آنے تک تناور ہوجائیں گے؟ اگر معجزاتی طور پر ہو بھی گئے تب بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر بھی نہیں ہوں گے۔ ہماری پارٹی کی رکنیت کی ایک شرط بھی یہ ہے کہ رکنیت کے حاصل کرنے کے ساتھ ایک پودا بھی لگائیں اور پودا بھی وہ نہیں جو محض کسی موسم میں پھول دے بلکہ ایسا پودا جو آگے چل کر تناور درخت بنے تاکہ موسم کا مقابلہ کرسکے۔ ہماری پہلی ترجیح تعلیم، دوسری صحت اور تیسری ٹرانسپورٹ ہے۔ اِن سب سے افضل سو فی صد ملازمتیں ہیں۔
یہاں تعلیم کیوں عام نہیں ہو پاتی؟ اِس لئے کہ اشرافیہ کا بچہ کہیں جاتا ہے اور عام آدمی کا بچہ کہیں اور۔۔۔۔ بلکہ عام آدمی کا بچہ کہیں نہیں جاتا۔ تو ALI کی سوچ یہ ہے کہ سرکاری افسر ہو یا ملازم، اُس کا بچہ بھی سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کرے گا۔ اِسی طرح وہ صحت کی سہولت بھی سرکاری ہسپتالوں سے ہی لے سکے گا۔ ایسا ہوا تو وہ سرکاری اسکولوں اور سرکاری ہسپتالوں کی حالت سدھارنے پر مجبور ہوں گے۔
اِسی طرح سرکاری افسران اور ملازمین کو الگ سے ٹرانسپورٹ نہیں دی جائے گی، وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں گے۔ تب ہی وہ پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بھی بہتر کریں گے۔
پاکستان میں جو بڑے سرکاری افسران (سیکریٹری سطح کے) ہیں اُن میں سے 75 فی صد کرپٹ ہیں۔ اُن کا احتساب کیا جائے کہ اُن کی آمدنی اِس عہدے پر آنے سے پہلے کیا تھی اور اِس عرصے میں کتنا سرمایا اکٹھا کرلیا؟ اِس کی وضاحت کیجئے۔ اِس کی روشنی میں اُنہیں فارغ کیا جائے گا اور اہل لوگوں کی تقرریاں کی جائیں گی۔وہائٹ کالر جرائم کی سزا کے لئے یہ ایک مروجہ طریقۂ کار ہے۔
ہم بے نظیر انکم سپورٹ کو صرف معذوروں، بیوائوں اور یتیموں تک محدود کردیں گے اور بے روزگاروں کو اسٹیٹ کی طرف سے بے روزگاری الائونس دیا جائے گا۔ ہمارے ملک میں عرصۂ دراز سے، زرداری کے زمانے سے، 6 ارب روپے روزانہ کے حساب سے نوٹ چھَپ رہے ہیں۔
اِسی طرح پانی کا مسئلہ ہے۔ سیلابی پانی کو دریائوں کے ساتھ ساتھ اکٹھا کرنے کا انتظام کریں گے تاکہ وہ بحیرۂ عرب میں جاکر ضائع نہ ہوسکے۔ چھوٹے ڈیم بنائے جائیں گے۔ کراچی میں استعمال ہونے والا پانی گٹر کی صورت میں سمندر میں گر کر اسے آلودہ کررہا ہے۔ مَیں یہ چاہتا ہوں کہ اُس کا ایک قطرہ بھی سمندر میں نہ جائے۔ یہ ری سائیکل ہو تو کراچی سے حیدرآباد تک گرین بیلٹ بن جائے۔ انڈین سپریم کورٹ نے کل یا پرسوں آرڈر پاس کیا ہے جس کے تحت ایسی گاڑیوں کی فروخت روک دی جس سے دھواں خارج ہوتا ہے۔ ہم کہاں سورہے ہیں؟
ہمارے ملک میں تین مرتبہ لینڈ ریفارمز ہوئیں مگر ایک پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ ہماری پارٹی عدالتوں کے ذریعے یہ یقینی بنائے گی کہ کوئی زمین ہتھیائی نہ جائے۔ کیا وجہ ہے کہ شہروں کا مزدور صبح سے رات تک دکان پر کام کرتا ہے مگر اوورٹائم کوئی نہیں ہوتا۔ جب مَیں بچہ تھا تو مزدور کو دو روپے روز تنخواہ ملتی تھی۔ گویا مہینے کے ساٹھ روپے اور سونا 80 روپے تولہ تھا۔
ہمارے ملک میں خواتین کم ازکم پچاس فی صد ہیں لیکن اُن سب کو ووٹ دینے کا حق نہیں ہے۔ اِن شاء اللہ وہ ووٹ دیں گی اور ALI کو دیں گی۔ تو زندگی اور سیاست کا کوئی پہلو ایسا نہیں جسے ALI نے اپنے منشور میں شامل نہیں کیا ہو۔ کسی ٹھہری ہوئی جھیل میں پتھر پھینکیں تو لہریں کناروں تک پہنچتی ہیں۔ ہم نے پہلا پتھر پھینک دیا ہے۔
یہاں صفدر رضوی صاحب نے کہا کہ اگر آپ سو آدمیوں سے ملتے ہیں اور ایک آدمی بھی صحیح مل جائے تو میرا آپ کو خراجِ تحسین ہوگا۔ یہ ٹھیک ہے، لیکن ہم فرشتے نہیں بلکہ بہتر لوگ تلاش کررہے ہیں اور وہ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ سب کی صورت میں۔
کنونشن کے اختتام پر مَیں سوچ رہی تھی کہ ’’عام لوگ اتحاد‘‘ (ALI ) کا منشور تو بہت اچھا ہے اور پارٹی بھی اُس سابق جسٹس کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے جس کی دیانت اور اہلیت پہ کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔کاش۔۔۔۔ یہ جماعت اس پر عمل درآمد کرنے میں بھی کام یاب ہوجائے کیوںکہ ہمارے ملک میں تو صورت ِ حال یہ ہے کہ :
سب اندھیروں سے کوئی وعدہ کئے بیٹھے ہیں
کون ایسے میں مجھے شمع جلانے دے گا
تاہم، یہ بھی ضروری ہے کہ اگر اِس ملک کا ہر محب ِ وطن اور مخلص شخص اِس سوچ سے قطع نظر اپنے حصے کی شمع جلانے کی کوشش کرے تو آنے والی صبح کو کوئی طالع آزما اور بدعنوان سیاست دان روک نہیں پائے گا۔
شکوۂ ظلمت ِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

 

لکھاری سے فیس بک پر رابطہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

Top