علامہ اقبال اورموجودہ حالات (حفیظ خٹک)

allama iqbal1شہر قائد کا جب نام لیا جاتا ہے تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا چہرہ سامنے آتا ہے ، اسی طرح جب شاعر مشرق کا نام آتا ہے تو اک ایسے شاعر کاچہرہ سامنے آتا ہے جنہیں وطن عزیز تو اپنا قومی شاعر کہتا ہی ہے انہی کے ساتھ متعدد ممالک عزت و وقار کے ساتھ اعلی مقام پر رکھتے ہیں ان کی تعظیم کرتے اور ان کی شاعری و کلام اپنے لئے سبق آموز روا رکھتے ہیں۔ دنیا بھر مختلف ایام کو یاد رکھے جانے کیلئے انہیں خاص طور پر منانے کی اک ریت سی بن گئی ہے ، جس کے تخت اس دن کو تو کسی بھی طرح سے اپنے انداز میں منا لیا جاتا ہے تاہم اس دن کے گذرنے کے بعد بھلا دیا جاتا ہے۔ وطن عزیز میں بھی ایسا ہی عمل جاری ہے ، شہر قائد میں آج کے روز تعلیمی درسگاہیں بند ہیں اور بندش کی وجہ علامہ اقبال کایوم پیدائش ہے۔ وہ کب پیدا ہوئے ، انہوں نے کس طرح سے زندگی میں گذاری اور شاعری کس انداز میں شروع کی ، اس کے مسلمانوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے اس کے ساتھ آج وہ شاعر مشرق کیوں کہلائے جاتے ہیں انہیں پوری قوم سمیت دیگر قومیں بھی پسند کیوں کرتی ہیں ، یہ اور ان جیسے بیسوں دیگر سوالات علامہ اقبال کے حوالے سے موجود ہیں جن کے جوابات شہر قائد کا ہر باسی جاننا چاہتا ہے ان کے ساتھ یہ جانکاری طالبعلم بھی چاہتے ہیں ۔
پاکستان کا سب سے بڑا شہر دو کڑور سے زائد آبادی پر مشتمل ہے ، اس شہر قائد کو منی پاکستان کہا جاتا ہے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ شہر جہاں ملک بھر کے علاقوں کی کی نمائندگی موجود ہے ، آج کے دن کہ جب علامہ اقبال اس دنیا میں آئے اس شہر کو لوگوں سمیت اس ملک کے عوام کا یہ حق ہے کہ انہیں باخبر کیا جائے۔ ذرائع ابلاغ کے تمام اداروں کو ان کے متعلق عوام کی آگاہی کیلئے خصوصیت کے ساتھ مستقل پروگرامات نشر کرنے چاہئیں۔ ایک دن کی چھٹی دے کر شاعر مشرق کی خدمات کا صلہ ادا نہیں کیا جاسکتا نہ ہی اس ضمن میں کچھ سوچا جاسکتا ہے ۔ کرنے کے اور ہوجانے کے کام یہی ہیں کہ ان کی شاعری کو پڑھا اور سمجھا جائے اور زندگی کے سانچے میں اس سامنے رکھتے ہوئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ان کی ، ان کی شاعری و ان کی خدمات ہمیشہ قدر کی ۔ وہی تھے علامہ اقبال جنہوں نے اس وطن عزیز کا خواب دیکھا اور اس خواب کی تعبیر کیلئے ان کی کاوشوں پر قائد اعظم نے عملدرآمد کیا۔ علامہ اقبال نے اپنی زندگی میں اپنے کلام سے جو خدمت کی اس کا ذرا سا احساس اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انگریز قوم کے شعراءو دیگر اعلی شخصیات یہ کہا کرتے آئے ہیں کہ اگر اسلام کو سمجھنا ہے تو اس کیلئے علامہ اقبال کی شاعری کو پڑھا جاسکتا ہے۔ پڑھا وطن عزیز کے تعلیمی اداروں میں بھی علامہ اقبال کو جاتا ہے تاہم جس انداز میں پڑھا جاتا ہے اس کا احساس بھی وطن عزیز کے ان شعراءو ادیبوں کو ہی ہوگا ۔۔۔download
یوم اقبال کے حوالے سے متعدد اساتذہ سے ، تاجروں ، طالبعلموں سے ، سیاسی و غیر سیاسی ، مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں و کارکنوں سے صرف ایک نقطہ سامنے رکھ کر باتیں ہوئیں اور وہ یہی تھا کہ شہر قائد سمیت پوری قوم کو یوم اقبال کس انداز میں منانا چاہئے ۔ ہر ایک نے اپنے طور پر علامہ اقبال کو خراج تحسین تو کوب پیش کیا تاہم کوئی ایسا راستہ نہیں بتایا جسے اس تحریر کی زینت بنایاجاتا ۔ حکمران جماعت کے اک رہنما نے اک نجی ٹری وی کے ٹاک شو میں یہاں تک کہا کہ اگر علامہ اقبال زندہ ہوتے تو وہ کبھی بھی یہ نہ کہتے اور نہ ہی اس بات کی اجازت دیتے کہ ان کی یوم ولادت پر تعطیل کا اعلان کیا جائے۔ شہر کے باسیوں میں بعض نے علامہ اقبال سے اپنی انسیت ومحبت کا اظہار ضرور کیا اور ساتھ ہی ان کے کلام کو مستقل پڑھنے اور سمجھنے کی باتیں کیں ۔ طالبعلموں نے بھی اس احساس کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ علامہ اقبال کی شاعری کو ، ان کی شخصیت و کلام کو کتابوں سے باہر نکالا جانا چاہئے ۔ اس جانب حکومت آگے کی جانب بڑھے گی اس کے مثبت نتائج برآمد ہونگے۔images
موجودہ دور میں بھی دیکھا جائے تو ہر طرح کے شعراءموجود ہیں ، ان کی پذیرائی کہیں کم اور کہیں پر زیادہ کی جاتی ہے اس کے ساتھ ہی ان کی اس صفت سے ملک کی خدمت کا کوئی مناسب اہتمام نہیں کیا جاتا جو کہ اک قابل توجہ امر ہے۔ شہر قائد میں ذرائع ابلاغ کی اکثریت کے مرکزی دفاتر موجود ہیں اس کے باوجود ان کے ذمہ داروں کی علامہ اقبال کی جانب توجہ قدرے کم ہے۔ حکومت بھی کسی بڑے اخبار کو ایک بڑا سا اشتہار دے کر اپنے تئیں ذمہ داری پوری کردیتی ہے لیکن یہ سارے عوامل محدود و عارضی نوعیت کے ہیں جن کے فوائد بھی انہی کی طرح عارضی ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ شہر قائد میں شاعر مشرق کے کلام کو نہ صرف پڑھا جائے ، بلکہ اس کو سمجھا جائے اور نئے طلبہ کو ، شعراءکو اس جانب لے جایاجائے ۔ انہیں بتایاجائے کہ کس علامہ اقبال نے بر صغیر کے مسلمانوں کو اک الگ ملک کیلئے تیار کیا ۔ان کے کارناموں کو شعراءکے سامنے بھی اسی طرح رکھا جائے تاکہ موجودہ دور کے شاعرو دیگر معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنے حصے کا کردار ادا کرسکیں۔

About حفیظ خٹک

Biographical Info

Top