نوحہ کناں (حفیظ خٹک)

n555403369_3968_400x400کراچی پریس کلب کی پہلی منزل کے کمرہ اجلاس میں، میرے سامنے اک ایسی شخصیت موجو دتھیں جن کا نام ہونٹوں پر آتے ہی نگاہیں ادب سے جھک جاتی ہیں۔ ایسی شخصیت جنہوں نے ہمارے معاشرے میں موجود ایک ایسے مسئلے کو نہ صرف ا جاگرکیا بلکہ اسے حل کرنے کیلئے اپنی زندگی کے دس برس گزار دئیے۔ وہ شخصیت کہ جس نے ماضی میں کبھی اپنے گھر کی دہلیزتک پار نہیں کی تھی آج وہ ملک کے طول و عرض میں مظلوم کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے دیوانہ وار پہنچتی ہیں۔ ان کی انتھک جدوجہد کے سبب سینکڑوں لاپتہ افراد کا نہ صرف پتہ چل گیا بلکہ وہ اپنے پیاروں کے پاس زندگی کے شب و روز گذار رہے ہیں۔
کہتے ہیں کہ جدائی کا غم اس سے پوچھو جس کا کوئی پیارا بچھڑ جائے، جدائی کا کرب ان کے عزیز و اقارب سے پوچھیں، اوراگر معاملہ یہ ہو کہ بچھڑ نے والے کے بارے میں کچھ علم ہی نہ ہو کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔ایسے کرب سے اس تکلیف سے خد ا سبھی کو دور رکھے اور جو اس کرب سے گزر رہے ہیں خدا انہیں جلد اس سے نکالے ، آمین
پریس کلب میں اس وقت ، میرے سامنے وہ شخصیت موجود تھیں جنہوں نے اپنے گھر کی چوکھٹ کو اس لمحے پا ر کیا کہ جب اسے یہ معلوم ہوا کہ اس کا شریک سفر لاپتہ ہوگیا ہے، اپنے جیون ساتھی کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس شخصیت کو دس برس ہوگئے تھے لیکن ابھی تک اس کے جیون ساتھی کا کچھ پتہ نہیں چل سکا تھا۔
عزم کے اس پہاڑکانام آمنہ مسعود جنجوعہ ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں نے ان کی گفتگو بڑی غور سے سنی، وہ کہہ رہی تھیں کہ آج پاکستان کا ہر با شعور جبری گمشدگی کی شکل میں جاری انسانیت کی بدترین تذلیل سے واقف ہے۔
اللہ کے پیغمبروں نے انسانیت کو تہذیب اور انصاف کے اصول سکھائے اور انہی پیغمبرانہ اصولوں میں پہلا اصول یہ ہے کہ ہر انسان اس وقت تک معصوم ہے جب تک کہ کھلی عدالت میں اس پر اسکا جرم ثابت نہیں ہوجاتا۔ میں پچھلے دس برسوں سے اسی اصول کا جھنڈا اٹھائے ملک کی سڑکوں پر نوحہ کناں ہوں۔ دربدر ہوں، مجھے یہ نہیں معلوم کہ مجھ پر یہ قیامت کیوں ٹوٹی۔ کیوں میرے شوہر مسعود جنجوعہ کو پشاور جاتے ہوئے غائب کر دیا گیا۔ شاید اللہ آزما رہاہے لیکن یہ آزمائش صرف میری نہیں، یہ آزمائش پوری قوم کی ہے۔ ان دس سالوں میں، میں نے کیا، کیا نہیں دیکھا۔ میرے سامنے میرے اسکول کے بچوں کو ڈنڈوں سے پیٹا گیا۔ انہیں اٹھا کر حوالات میں بند کر دیا گیا۔ ان بچوں کا جرم کیا تھا یہ ایک سوال کہ ہمارے بابا کہاں ہیں؟ بچوں کے بابا تو کھوئے ہی تھے ان کی تلاش کی جدوجہد شروع کی تو سمجھیں ان کی مائیں بھی کھو گئیں۔ اسلام آباد میں پرامن مظاہرے کے دوران میرے حجاب تک کو کھینچا گیا، اس کے علاوہ مظلوم ماﺅں، بہنوں ، بزرگوں اور معصوم بچوں تک پر بے دریغ تشدد کیا گیا۔
janjua-warns-to-move-un-for-justice-1418071122-7161اللہ ، اگر آزماتا ہے تو وہ مدد بھی کرتا ہے۔ جبر کے اس دور میں رب نے صحافی برادری کو میرا دست و بازو بنایا۔ میڈیا کی اکثریت نے میری پکار سنی اور اسے ملک کے کونے کونے تک پہنچایا۔ بہت سے صحافی بھائیوں کو تشدد اور دباﺅ کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر وہ ڈٹے رہے۔ شاید اس لئے کہ آمریت اور جبر کا تازیانہ سب سے پہلے صحافیوں کو سہنا پڑتا ہے اسی لئے وہ میرے دکھ کو سمجھ گئے تھے۔ پرنٹ ، الیکٹرانک سمیت سوشل میڈیا ہر مقام پر صحافیوں نے میرا قدم قدم پر ساتھ دیا۔انہی کی مدد کے سبب ملک کے ہر طبقے نے میرے اصولی موقف کی تائید کی۔ان میں ایسے بھی تھے جو جبری گمشدگی کے مجرموں کے ساتھی تھے مگر دنیا کے سامنے میرے موقف کو ماننے پر مجبور ہو گئے۔ یہ سب صحافی برادری کے سبب ہی ممکن ہوا۔
آپ سبھی اس دکھ سے واقف ہیں جو کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی روح تک کو کھا جاتا ہے۔ مائیں روروکر اندھی ہوجاتی ہیں، بعض تو ذہنی توازن کھوبیٹھے ہیں، بہنیں اور بیویاں سڑکوں پر ماری ماری پھرتی ہیں۔ دل والے اس زخم کی گہرائی کو جانتے ہیں۔ مگر آج میں اس جبری گمشدگی کا ایک اور بھیانک چہرہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتی ہوں۔ ان دس برسوں میں دوہزار سے زائد لاپتہ افراد کے کیسسز کو ذاتی طور پر ڈیل کر چکی ہوں، تن تنہا ساڑھے سات سو کیسسز کو سپریم کورٹ میں لڑ رہی ہوں۔ جو کہنے جارہی ہوں وہ میرا ایک دہائی کا تجربہ ہے۔
حالات کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جبری گمشدگی کے سبب ہماری قومی سلامتی خطرے میں ہے۔ دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد پورے ملک میں شور اٹھتا ہے ہر محکمے کی اوپری قیادت نوکریاں بچانے کیلئے فائلوں کا پیٹ بھرتی ہیں ۔ سیاست دان بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔ دباﺅ بڑھتا ہے، نوکریاں بچانے اور کچھ کر دکھانے کیلئے معصوموں کو اٹھایا جاتا ہے، کچھ لوگو ں کے منہ پر کپڑا ڈال کر میڈیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، کچھ کو پولیس مقابلے میں ماردیا جاتا ہے۔ اکا دکا کو چھوڑکر اصل مجرم کی کسی کو خبر نہیں ملتی۔ ان ہی میں سے کچھ کو عدالتوں میں پیش کردیا جاتا ہے۔ بغیر ثبوت کے عدالتوں میں پیش کئے جانے پر وہ لوگ رہائی پالیتے ہیں۔ موردالزام عدالتوں کو ٹھہرا کر منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ قومی سلامتی کو حقیقی خطرہ نہ صرف برقرار رہتا ہے بلکہ دن بدن وہ خطرہ بڑھتا رہتا ہے۔ پولیس سمیت ہر طرح کے تفتیشی اداروں کی نااہلی اس وقت ملک کے لئے اصل اور سب سے بڑا خطرہ ہے۔
دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کام میں ڈیفنس آف ہیومن رائٹس بھی اپنے آپ کو پیش کرتی ہے۔ تاہم حکومت اور فوجی قیادت کو عوام کااعتماد بحال کرنے کیلئے یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ انصاف ہر شخص اور ہر ادارے کیلئے مکمل اور مساوی ہوگا۔
میری جدوجہد نہ صرف اپنے لاپتہ شوہر کی بازیابی کیلئے ہے بلکہ اس ملک کی حقیقی سلامتی کی جنگ بھی ہے۔ میں دس سال سے لڑ رہی ہوں اور مرتے دم تک لڑوں گی۔سچ کو سچ کہوں گی چاہے بیس کڑور انسانوں میں سے ایک بھی میرا ساتھ نہ دے۔
اس کے بعد دیر تک محفل پر سکوت طاری رہا ۔پھر صحافیوں کے جانب سے سوالات کا سلسلہ شروع ہواجو خاصی دیر جاری رہا۔
کامیابی ایسے لوگوں کے قدم چومتی ہے جو مستقل مزاجی کے ساتھ انتھک محنت کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں ۔آمنہ باجی دس برس قبل اپنے شریک سفر کو ڈھونڈنے نکلیں تھیں گوکہ وہ اپنے اس مقصد میں تاحال کامیاب نہیں ہوپائیں۔ان کی کاوشوں کے سبب سینکڑوں لاپتہ افراد اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔ کراچی پریس کلب میں ان کی صحافیوں کے ساتھ خصوصی نشست ختم ہوگئی تھی وہاں سے اٹھتے ہوئے ایک ہی دعا لب پہ تھی اور وہ یہی کہ اللہ آمنہ باجی کی کاوشوں میں رنگ بھردے ، پاکستان کو دہشت گردی سمیت تمام اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے ، آمین ثم آمین
hafikht@gmail.com

About حفیظ خٹک

Biographical Info

Top