لڑکپن میں بچوں پر توجہ دیں (صدف آصف)

man-womanزمانہ بدل رہا ہے۔ دور جدید میں جس طرح نت نئی تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں ان سے سب واقف ہیں۔ ایسے معاشرے میں والدین خصوصامائوں پر یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کو نئے دور کے چیلینجز سے نبردآزما ہونے کے لیے تیار کریں۔ مائوں کواپنے بچوں کو ایک کام یاب شہری بنانے کے لیے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسی حکمت عملی وضع کرنی ہوگی، جس کے تحت جب ان کی اولاد عملی زندگی میں قدم رکھے تو وہ اعتماد اور یقین کی دولت سے مالا مال ہو، تاکہ وہ ہر مقام پر اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں۔

جب تک بچہ چھوٹا ہوتا ہے وہ ماں کا پلو پکڑ کر چلتا ہے۔ ماں کی نظروں کے سامنے رہنے کی وجہ سے وہ اس کی طرف سے اتنی فکر مند نہیں ہوتی۔ تاہم اصل مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب بچہ لڑکپن سے جوانی کی راہوں پر قدم رکھ رہا ہوتا ہے۔ اس وقت وہ اپنی زندگی میں آزادی چاہتا ہے۔ یہ وہ دور ہوتا ہے، جب بچوں کو ذہنی اور جسمانی تبدیلیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ کبھی کبھی بہت چڑچڑے اور زور آور بھی ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں جب مائیں اپنی پرانی روایات اور تجربوں کے بل بوتے پر ان کو جانچتی ہیں، تو ناکام ہو جاتی ہیں، کیوں کہ پرانے دور کی نسل اور آج کے بچوں کی سوچ اور رہن سہن میں خاصی تبدیلی آچکی ہے۔ نتیجہ نہ والدین اولاد کو سمجھ پاتے ہیں نہ ہی بچے اپنے ماں باپ کی فکرمندی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

ایک لمحہ ایسا بھی آجاتا ہے، جو ان دونوں کے درمیان تکرار کا باعث بنتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے، جب بچہ نرم لوہے کی طرح ہوتا ہے، تو مائوں کو پورا موقع حاصل ہوتا ہے کہ وہ انہیں کارآمد شکل میں ڈھال سکیں۔ جیسے جیسے بچے بڑے ہونے لگتے ہیں ویسے ویسے ان کے مزاج کی تبدیلی بڑھتی جاتی ہے، کبھی کبھی وہ عدم تحفظ کا شکار ہونے لگتے ہیں اور دنیا میں اپنے سب سے سچے اور قریبی رشتے کی طرف مدد حاصل کرنے کے لیے دیکھتے ہیں۔

ان سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور وہ کوئی اور نہیں ’’ماں کا رشتہ ‘‘ ہے۔ ایسے وقت میں ماں کی بلا وجہ کی روک ٹوک اور ڈانٹ پھٹکار بچے کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ ان لمحوں میں مائوں کو سمجھ داری کا ثبوت دینا پڑے گا، اگر وہ اپنی اولاد سے بیر باندھ لے گی، تو اولاد ماں کو اپنا دشمن بھی سمجھ سکتی ہے، جس کا نتیجہ کبھی کبھی بہت خوف ناک بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی بچہ گھر سے باہر سہارا تلاش کرنے لگتا ہے اور کبھی کبھی تخریبی عناصر کے ہتھے چڑھ جاتاہے۔

یہی وہ وقت ہوتا ہے جب بچے جسمانی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اس دور میں لڑکوں کی آواز بھاری ہو جاتی ہے۔ چہرہ پر دانوں کی بھر مار ہو جاتی ہے۔ ایسے میں بچے کی توجہ ان مسائل کی طرف ہو جاتی ہے۔ وہ لوگوں کے سامنے جاتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہے۔ ایسے میں والدین کو اپنے بچے کا ساتھ دینا چاہیے۔ ان تبدیلیوں کے بارے میں اسے نرمی سے بتایا جا سکتا ہے، تاکہ وہ ہر نئی چیز کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوجائے۔

مائوں کو چاہیے کہ وہ بچوں کی توجہ ان مسائل سے ہٹا کر صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف لگا دیں۔ بچوں کو اچھی اچھی سبق آموز کتابیں پڑھنے کی طرف راغب کیا جاسکتا ہے۔ بچوں کے لیے ان کی ذہنی استطاعت اور رجحان کے مطابق کتابوں کا انتخاب کریں۔ انہیں کسی لائبریری کی ممبر شپ دلائیں۔ یہ مشغلہ بچوں پر بہت مثبت اثر ڈالے گا۔ بچوں کو بیرونی سرگرمیوں کا عادی بنائیں۔ ان کے ساتھ محلے کے پارک میں چہل قدمی کریں۔ انہیں ورزش کی تر غیب دیں۔ اس طرح ان کو جسمانی مضبوطی حاصل ہوگی۔ کھلی اور صاف فضاء میں سانس لینے سے ان کے ذہن کو جلا ملے گی اور وہ فرسٹریشن سے باہر نکل آئیں گے۔

بچوں کو ٹی وی پر کارٹون دیکھنے یا کمپیوٹر پر گیم کھیلنے کی جگہ ایسے کھیلوں میں مشغول کریں، جن کے ذریعے ان کی ذہن مشق ہو۔ جیسے پزل بنانا، اسکریبل، تصویری مقابلے، جملے کی جوڑ توڑ وغیرہ۔ مستقل ٹی وی دیکھنے سے بچے کا جسمانی نظام سست اور ناکارہ ہو جاتا ہے۔ ایسے بچوں کی مائوں کو اپنے بچے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جو بچے حد سے زیادہ کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہیں، وہ بھی موٹاپے کی طرف مائل ہوجاتے ہیں، اور ان کی صحت تسلی بخش نہیں ہوتی۔ ان کی آنکھیں بھی متاثر ہو جاتی ہیں۔

اپنے بچوں کو وقت دیں ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان کے ہر چھوٹے بڑے مسئلے کو غور سے سنیں، تاکہ جب بچہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھے تو اندر سے ایک مضبوط اور دل کش شخصیت میں ڈھل چکا ہو۔ ایک ماں کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے۔

Top