14 اگست جشن آزادی (راجا مجیب)

14 august14 اگست کا دن ایک خاص اہمیت کا حامل اور حب وطنی کا جذبے بھرپور ایک خاص دن ہوتا ہے۔ ایک ایسا دن جس کا بچوں اور نوجوانوں کوعید کے دن کی طرح ہی انتظار ہوتا ہے ۔۔ گھروں ، چھتوں ، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں کو لوگ سجانا شروع کر دیتے ہیں۔ بچوں کے سکولوں کالجوں وغیرہ میں بھی خاص پروگرام ہوتے ہیں ۔ ایک تو سب کو سرکاری سطح پر چھٹی ہوتی ہے تو سب لوگ اس دن کو پورے جوش اور جذبے سے مناتے ہیں ۔  بڑے بزرگوں سے پاکستان بننے کی داستان سننے کو ملتی ہیں جس سے جذبہ حب الوطنی میں مذید اضافہ ہوجاتا ہے ۔۔ بزرگوں کی ملک کی خاطر لازوال قربانیوں کی داستانیں سن کر ملک کی خاطر کچھ کرنے کا جذبہ و ولولہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں بھی اپنے بزرگوں کی طرح کچھ کرنا چاہیے انھوں نے بڑی مشکل اور محبت کے ساتھ اسے بڑی قربانیوں کے بعد بنایا ہے اب ہمیں بھی اس ملک کو مذید بہتر پرامن بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا خوبصورت بات کی تھی۔: پاکستان اسی دن یہاں قائم ہو گیا تھا، جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا:۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے کبھی بھی انگریز کی حکمرانی کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ انگریزوں اور ان کے نظام سے نفرت اور بغاوت کے واقعات وقفے وقفے کے ساتھ بار بار سامنے آتے رہے تھے۔ برطانوی اقتدار کے خاتمے کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے جو عظیم قربانیاں دی ہیں اور جو بے مثال جدوجہد کی ہے۔ یہ ان کے اسلام اور دو قومی نظریے پر غیر متزلزل ایمان و یقین کا واضح ثبوت ہے۔ انہی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ بانی پاکستان اس نظریاتی اساس کے پاسدار تھے ۔ وہ قرآن حکیم ہی کو پاکستان کا آئین و قانون تصور کرتے تھے۔ علامہ محمد اقبالؒ صرف اسلامی نظام کے حوالے سے ہی مسلمانان ہند کی تحریک آزادی کے علمبردار تھے۔ بانیان پاکستان کی فکر سے دوری آزادی کی برکات سے محرومی کا باعث ہو سکتی ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران بر صغیر کے کونے کونے میں ’’ لے کے رہیں گےپاکستان ۔بن کے رہے گا پاکستان اورپاکستان کا مطلب کیا ؟ ۔لا الہ الا اﷲ ،خیبر سے لے کرراس کماری تک ہر جگہ یہی نعرے گونجتے تھے۔
مگر یہاں ایک بات اہم ہے کہ 14اگست کو سبز کپڑے پہن لینا یا فیس پینٹ کر لینا جذبہ آزادی نہیں ۔ ہمیں اپنے اندر ایمان کی سچائی ، احساسِ ذمہ داری پیدا کرنا ہوگا ۔ سال ہا سال سے ہم لسانی فساد کاسامناکرتے آئے ہیں۔ مگر اب ایک اور ردافساد کی ضرورت ہے۔ ردافساد جو عوام نے فرقہ واریت کے خلاف ہے ۔ 1947ءمیں اتحاد نے پاکستان بنایا تھا آج یہ اتحاد ہی پاکستان بچا سکتا ہے۔ کیونکہ پاکستان ہم سب کا ہے۔اس وقت اتحاد کی قوت نے ہر فساد کو رد کیا تھا۔ آج ہمیں اسی اتحاد اور جذبے کی ضرورت ہے ۔ جس دن ہم نے ذات اور قوم کے تناسب کو چھوڑ دیا اس دن ہم حقیقی معنی میں آزاد ہوں گے،  اس ملک کی سربلندی کیلیےہمیں زات اورقوم سےبالاطر ہوکر سوچنا ہوگا۔ اس ملک پرپنجابی یہ پٹھان کازیادہ حق نہیں ہرباشندہ برابر پاکستانی ہے۔

ہمیں اس جشن آزادی کے موقع پر پاکستان کی خاطر سوچنے اور کام کرنے کا پختہ ارادہ کرکے اس پر عمل کرنا ہوگا ۔۔ یہ مت سوچو کہ پاکستان نے کیا دیا بلکہ یہ سوچو کہ تم نے پاکستان کو کیا دیا ہے۔ امید ہے اس 14 اگست کا سورج پاکستان میں امن و خوشحالی کا پیغام لے کر طلوع ہوگا انشاءاللہ ۔

Top