بلا عنوان (محمد طیب)

tearsآنکھیں اشک بار ہیں زبان خاموش ہے، کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ 7سال کی بچی کہ جو یہ بھی نہ جانتی تھی کہ کون اپنا ہے اور کون پرایا۔ کون اچھا ہے اور کون برا۔ کون حق میں ہے اور کون مخالف ۔ اس کی عزت کو تار تار کردیا گیا۔ اس پر ستم بالائے ستم کہ اس درندہ صفت وحشی نے اس نازک کلی کو جان سے ہی مار ڈالا۔ میرے تو الفاظ ساتھ نہیں دے رہے لیکن پتا نہیں کیسے یہ صاحبان یہ بیان بڑے حوصلے کے ساتھ دیے جا رہے ہیں۔ ”جناب آپ لوگوںکو نہ اکسائیں اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ایسے کیس سالوں سے ہو رہے ہیں“۔ دوسرے صاحب کہتے ہیں ”ایسے کیس صرف ہمارے صوبے میں نہیں ہو رہے ، دوسرے صوبوں میں بھی ہوتے ہیں“۔ ان تمام باتوں سے آپ کہنا کیا چاہتے ہیں کہ یہ تو معمول کی بات ہے تو سنو کہ تمہارے گھر کی معصوم کلی کو معمولی سا زخم بھی لگ جائے تو اسپتال میں ایمرجنسی منٹوں میں نافذ ہو جاتی ہے یہاں غریب کی بچی عصمت دری کے بعد جان سے جائے تو معمول کی بات۔ آپ کی اہلیہ کو چھینک آجائے تو ملک کے نامور ڈاکٹرز گھروں پر طلب کر لئے جائیں لیکن غریبوں کے گھرانے کے گھرانے اجڑ جائیں تو یہ صرف صوبے کا مسئلہ تھوڑی نہ ہے ہر جگہ ہوتے ہیں ایسے واقعات۔

میں یہاں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اے ہوس اور طاقت کے نشے میں چور انسان اپنے طاقت کے نشے میں اس قدر گم بھی نہ ہو جا کہ آنے والا طوفان تجھے سنبھلنے کا موقع بھی نہ دے۔ مجھے تو ابھی وہ دور فاروقی یاد آرہا ہے کہ جہاں ایک حکمران جو ان سے کہیں زیادہ حصے اور خطے پر حکومت کرتا تھا لیکن حکمرانی کا غرور اسے نہ تھا لیکن تف ہے آج کے حکمرانوں اور معذرت کے ساتھ نام نہاد ملائیت کے دعوے داروں پر کہ جو حکمران اپنی مسلمانی کا سرٹیفکیٹ چند ذر خرید ملاﺅں سے لیتے ہیں اور وہ نام نہاد ملا لوگ کہ جو اپنے فتوے اور اپنا ایمان چند ٹکوں پر بیچ دیتے ہیں اور ایک اسلام دشمن شخص کو پارسائی کا سرٹیفکیٹ تھما دیتے ہیں۔

اس کے ساتھ بات صرف زینب پر ختم نہیں ہوتی اس کے پیچھے کچھ اور باتیں بھی پوشیدہ ہیں جو اس ننھی زینب کی خبر سامنے آنے کے بعد ظاہر ہوئی ہیںوہ یہ کہ یہ معصوم کوئیاس علاقے میں پہلی نہ تھی جو اس ہوس کا نشانہ بنی بلکہ اس سے پہلے گیارہ ننھی کلیاں اپنی چند بہاریں دیکھنے کے بعد شعور میں قدم رکھنے سے پہلے ہی درندگی کی نظر ہوگئیں ۔اس کے ساتھ ساتھ آج جو یہ باتیں کی جارہی ہیں کہ یہ حکمران ان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے یہاں ایک بات اور بھی سامنے رکھ دوں کہ وہاں کہ متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کی ایمانداری کا ثبوت گزشتہ دنوں ایک نجی چینل دکھا چکا ہے کہ فقط پچیس ہزار کے عوظ وہ کسی پر جھوٹی ایف آئی آر بنانے اور اس پر کسی انجان کے کہنے پر اس کی مرضی کے کیس ڈالنے کے لئے تیار تھا اور حکومت وقت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ آج بھی اس تھانے میں وہی شخص ایس ایچ او کے فرائض سرانجام دے رہا ہے ۔جو شخص چند ہزار میں اپنی وردی بیچنے کو تیار ہے تو کیا وہ پیسوں کے لئے اپنی غیرت بیچنے سے گریز کرے گا۔

بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی انصاف کے لئے سڑکوں پر آنے والے لوگوں کو بھی تحفے میں گولیاں پیش کی گئیں اور بدلے میں ان سے انکی جانیں چھین لی گئیں۔افسوس صد افسوس کہ بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی جان تو چھین ہی لی اور احتجاج کرنے کی سزا یہ دی گئی کہ ہسپتال والوں نے صرف ایک کھڑکی ٹوٹ جانے کے سبب انکا پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کر دیا ۔اب ان تمام شواہد کو دیکھنے کے بعد ایک ذی روح انسان کیا نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہے کہ یہ تمام حکومت کے گماشتے ہیں جن کو ان حکمرانوں نے پال رکھا ہے جو پاگل کتوں کی طرح لوگوں کی بہن بیٹیوں کی عزت و آبرو کو نوچ پھینکتے ہیں ۔کہیں اپنی ذاتی دشمنی نکالنے اور لوگوں کو ڈرانے کے لئے چودہ لاشیں گرا دی جاتی ہیں کہیں معصوم کلیوں کی عصمت دری ہوس کے پجاری کرتے ہیں تو کہیں انصاف کے لئے سڑکوں پر آئے معصوموں کو گولیوں سے چھنی کر دیا جاتا ہے اور حکمران یہ کہہ کر اپنا پلو جھاڑ لیتے ہیں کہ ہم نے اس پر ایک کمیٹی بنا دی ہے، ہم تحقیقات کر رہے ہیں۔ بہت جلد مجرم سلاخوں کے پیچھے ہوں گے اور یونہی سالوں بیت جاتے ہیں۔

ہوس کے پجاری سر عام گھومتے ہیں
شریف اپنی شرافت کے نوحہ کناں ہیں
tayabmustafavi@gmail.com

Top