بلیو وہیل چیلنج گیم ،اہم انکشاف (اجمل حفیظ)

Blue-Wheel-Gameدنیا بھر میں آج کل بدنام زمانہ ”بلیو وہیل چیلنج“ گیم کا شکار خودکشی واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کا طریقہ واردات کیا ہے اور اس کا پس منظر کس افسوسناک واقعے سے جڑا ہے۔

”بلو وہیل چیلنج“ گیم کیا ہے؟ یہ ایک انٹرنیٹ پر آن لائن کھیلی جانے والی گیم ہے جو گروپس کی شکل میں نامعلوم گروپ نگرانوں کے زیر تحت کھیلی جاتی ہے۔ اس گیم کا خالق ایک نو عمر روسی فلپ نامی نفسیات کا طالب علم بتایا جاتا ہے جسے پاگلانہ حرکتوں پر یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ اس گیم کا طریقہ واردات بڑا انوکھا اور خطرناک ہے۔ اس کا ہدف کم عمر گیمر ہیں جو ایڈوینچر اور تجسس پسندی کے باعث نفسیاتی طور پر اس کھیل میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ اس کھیل میں دلچسپی اور مہم جوئی سے بھرپور مشن محدود وقت میں سرانجام دینے ہوتے ہیں جن کی کامیاب تکمیل پر گیمر کی حقیقی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ جس میں تعریفی کلمات و القابات سے لے کر انعامات تک انھیں خفیہ طور سے ارسال کئے جاتے ہیں۔

دراصل اس میں نیٹ ورک نظام کی طرز پر بعض رضاکار گیمرز کو بطور کارندہ استعمال کیا جاتا ہے جو قرب و جوار میں بسنے والے شریک گیمرز کو خفیہ طور پر ”فیڈ بیک“ دیتے ہیں۔ خطرناک نگران ہیکرز پہلے سے ہی گیمر کے کمپیوٹر میں خفیہ دراندازی کے ذریعے اس کی ذات سے متعلق خاطرخواہ مواد جمع کر چکے ہوتے ہیں جس کابروقت استعمال وہ ایک کاری نفسیاتی حربے کے طور پر کرتے ہیں۔ یوں خوابناکی سے حقیقت کی زندگی میں اس گیم کی مہمات کا افسوسناک سفر شروع ہوجاتا ہے۔ گیمرز نوعمری،جذباتیت اور جوش کی زد میں آکر اس گیم کے سفاک ایڈمنسٹریٹرز کے نفسیاتی ہتھکنڈوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مراحل کامیابی سے طے نہ کر سکنے والوں کو مافیا طرز پر دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انھیں مزید مشکلات سے خلاصی کا واحد راستہ ”خودکشی کرنا“ دکھایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں لگ بھگ اڑھائی سو سے زائد گیمرز لڑکے لڑکیاں اب تک اس گیم میں شرکت کرنے کی قیمت اپنی جان کی بازی اپنے ہاتھوں ہارنے کی صورت میں ادا کر چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نامعلوم گیم نگران اس جنونی اور لاحاصل کھیل سے کیا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس بارے میں دستیاب معلومات ناکافی ہونے کے باعث یہ معاملہ پراسرار تاریکی میں گم رہا ہے۔ تاہم ایک مشکوک نظریہ نے اس بارے خاصہ چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں سمندر کنارے سینکڑوں دیو قامت وہیل مچھلیوں کے مختلف اوقات میں خشکی پر آکر ہلاک ہونے کے بیسیوں واقعات ریکارڈ پر آچکے ہیں۔

عالمی تنظیموں کی جانب سے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ سمندری حیات کے اس عظیم جانور یعنی وہیل مچھلیوں کی یوں ہلاکت کی ذمہ دار دراصل امریکی بحریہ ہے۔۔! واقعہ یوں ہے کی امریکی بحریہ کے دفاعی تحقیقاتی اداروں کی طرف سے ایک جدید زیر آب ”سونار“ ریڈار سسٹم کی جانچ کے لئے گہرے پانیوں مسلسل تجربات کئے گئے۔ جس کے نتیجہ میں بالخصوص وہیل جنس کی آبی حیات میں ہلچل مچ گئی۔ بڑی تعداد میں وہیل مچھلیاں اپنے کنبے سمیت اس سونار سسٹم کی زیر آب طاقتور ارتعاشی لہروں کو برداشت نہ کرسکتے ہوئے مجبوری میں خشکی پر چڑھ آتیں جسے عرف عام میں مچھلیوں کی ”خودکشی“ متصور کیا گیا۔

یہ حقائق سامنے آنے پر آبی حیات کے تحفظ کی سرگرم تنظیموں نے خاصہ شور مچایا جبکہ امریکی حکومت کی جانب سے پالیسی خاموش رہنے کی اپنائی جاتی رہی۔ تاہم باشعور مغربی عوام کے تعاون سے جن میں امریکی عوام بھی شامل تھے یہ تنظیمیں پے در پے احتجاج کرتی رہیں اور بالآخر کامیاب ہوئیں۔ آخرکار کئی سال سے جاری امریکی بحریہ کے یہ تجربات خاموشی سے روک لئے گئے یا کم کر دیے گئے۔ لیکن اس احتجاجی عرصہ کے دوران وہیل مچھلیوں کے لئے اٹھی غم وغصہ کی لہر نے امریکی دفاعی اداروں کی مجرمانہ بے حسی اور غفلت کے خلاف بعض باصلاحیت افراد کو انتقامی تحریک عمل پر اکسایا جس کی ایک افسوسناک شکل کو آج آپ ”بلیو وہیل چیلنج“ گیم کے طور پر جانتے ہیں۔ اس گیم میں انتقامی مفروضے کی بنیاد پر اسی طرح انسانوں کو خودکشی کا کھیل کھیلنے میں الجھایا جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو اس کیس کی مجوزہ تھیوری کے مطابق اگر ایک طرف امریکی بحریہ دفاعی تحقیق و ترقی کے نام پر ”آبی دہشت گردی“ کی مرتکب ہوئی ہے تو جوابا ردعمل میں سر پھرے جذباتی پروگرامرز خود ساختہ انتقامی کارروائی کرتے ہوئے سائبر دہشت گردی میں ملوث ہوئے ہیں۔

Top