تبدیلی چاہیے تو، کچھ کرنا ہوگا (دیا خان بلوچ)

changeکل گلی سے گزرتے ہوئے دیکھا کہ دو پیارے سے بچے اپنی مما کی انگلی تھامے چہکتے ہوئے ہاتھ میں بسکٹ پکڑے کھاتے ہوئے جا رہے تھے۔ جیسے ہ ایک بچے نے اپنا بسکٹ ختم کیا تو اس نے ریپر اپنی مما کی طرف بڑھایا۔مما نے اشارہ کیا کہ یہاں ہی پھینک دو۔بچے نے ایک لمحے کے لئے سوچا اور پھر ریپر پھینک کر مما کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔اس بچے کی عادت ہو گی کہ وہ گھر میں ریپرز ڈسٹ بن میں ڈالتا ہو گا اور یہ بھی اس کی مما نے ہی سکھایا ہوگا۔لیکن یہ بھی اس کی مما نے ہی سکھایا کہ وہ سڑک کنارے چلتے ہوئے کچرا وہیں ڈال دے۔تو ہماری ذمہ داری صرف گھر کی دہلیز پار کرنے تک ہے اور جو بھی ملک کا کونہ ہے وہ ہمارے گھر میں شامل نہیں کیا؟کیا اس کو صاف رکھنا ہمارا فرض نہیں۔اگر آج سے ہم عہد کریں تو اس ملک کا کونہ کونہ مہکے گا۔پھر ہمیں اپنی آنے والی نسل کو دوسرے ممالک کی مثالیں نہیں دینی پڑیں گی اور نہ ان کا خواب ہو گا کہ وہ اس ملک کو چھوڑ کر دیار غیر میں مقیم ہوں۔
پاکستان ہمارا پیارا وطن ،جس کو حاصل کرنے کے لئے لاکھوں جانوں کے نذرانے دئیے گئے،اپنی جان و مال،عزت وآبرو کو لٹا کر یہ ملک معرض وجود میں آیا۔یہ ملک تو بن گیا ہے اب اس خواب کو بھی پایہ تکمیل تک پہچانا ہے جس کی تعبیر کے لئے اس کو بڑی مشکلوں اور جدو جہد سے حا صل کیا گیا تھا۔اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
جھیل چکے غم جھیلنے والے
اب ہے کام ہمارا
اب اس کو سنوارنا ہمارا کام ہے۔ اس کو ترقی کی راہ پر لے جاناہماری زندگی کا نصب العین ہونا چاہیے۔ پاکستان اسلام کے نام پرحاصل کیا گیا۔قیام ِ پاکستان کے کچھ عرصہ تک ہی اسلامی روایات و اقدار ہمیں اس ملک میں نظر آئیں لیکن ا سکے بعد اب تک وہ مقاصد ناپید نظر آتے ہیں ۔اس کی وجہ کیا ہے؟کیوں ہمارا ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں۔ا س سب کی بنیادی وجہ ہماری غفلت ہے ۔پاکستانی شہری کی حیثیت سے ہم پر جو فرائض عائد ہوتے ہیں کیا ہم ان کو پورا کررہے ہیں؟ خود اپنا احتساب کریں ۔عیب نکالنا بہت آسان ہے اور اس کو سنورنا بہت مشکل ہے۔مشکل سہی پر ناممکن نہیں ۔
ہم شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے گلی محلے کو صاف ستھرا رکھیں۔اگر ہم اپنا فرض بخوبی انجام دیں تو گزشتہ برس ہونے والے آئل ٹینکر جیسے حادثات کبھی نہ ہوں۔قصور میں ہونے والے قیامت خیز واقعات کبھی نہ ہوں،ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا واقعہ رونما ہو جاتا ہے ،پہلے نامعلوم اور معلوم افراد کی تلاش کی جاتی ہے۔لیکن میرا سوال صرف اتنا سا ہے کہ کیا ہم اتنے بے خبر رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے آس پاس بسنے والے لوگوں کی خبر نہیں ہوتی وہ کیا کرتے ہیں ،کون ہیں ؟ کہاں سے آئے ہیں؟یہ سب جاننا ہماری ذمہ داری ہے نا کہ حکومت کی۔وادی نیلم کے پل گرنے کا واقعہ ۔کیا ان سب کو علم نہ تھا کہ یہ پل نازک ہے ؟وہاں بوسیدہ ہی سہی لیکن ایک آگاہی کے لئے ایک نازک سا بورڈ تو لگا ہوا تھا۔تو کیا ہم اتنے بے خبر ہیں کہ جانتے بوجھتے اپنی جانوں سے کھیل جاتے ہیں؟میں یہ نہیں کہتی کہ یہ حکومت کے فرائض میں شامل نہیں لیکن اس بات سے بھی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہم شہریوں کی غفلت کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔
آئے دن اساتذہ کے ظلم وستم کا ذکر ہو تا ہے لیکن کیا کبھی کسی نے اس کے پیچھے چھپی وجہ کو جاننے کی کوشش کی ہے؟نہیں نا۔تو ہم اپنے فرائض کس طرح ادا کر رہے ہیں؟ کیا کوئی ایک اشخص بھی ایسا ہے جو یہ پورے اعتماد سے کہہ سکے کہ ہاں میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہوں۔پچھلے دنوں سکھر میں بچوں نے اپنی بوڑھی ماں کو کچرے کے ڈھیر پرپھینک دیا۔کلیجہ منہ کو آیا جب یہ صورتحال دیکھی ۔کہاں ہیں وہ روایات ،وہ تہذیب و ثقافت ،وہ اسلام کے نام پر حاصل کیا جانے والا ملک۔۔۔کیا یہ وہی ملک ہے؟ کیا اسی لئے اس کو حاصل کیا گیا تھا؟ میرے ناقص علم کے مطابق پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے۔ایک چھوٹے سے پودے سے ایک تناور درخت بن گیا ہے لیکن ا سکی جڑوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔وہ کون سی دیمک ہے جو اسے کھائی جا رہی ہے ؟وہ ہم ہیں ،اس ملک کا ہر شہری ذمہ دار ہے۔پاکستان نے ہمیں ایک پہچان دی ہے،ایک نام دیا ہے ،آزادی دی ہے۔آزادی سے بڑھ کر اور نعمت کیا ہو گی؟کشمیر ،فلسطین ،شام اور دیگر ممالک کی صورتحال ہمارے سامنے ہے اگر ہم اب بھی اپنے ملک کو نہ سنواریں تو قصور کس کا ہے؟اس کا جواب ہمارا ضمیر ہمیں دے رہا ہے۔ہمیں اب اپنے عمل سے ظاہر کرنا ہے اس ملک کو سنوارنا ہے۔
پاکستان میں پانی کی قلت ،درختوں کی قلت کا روز رونا رویا جاتا ہے ۔ا س کمی کو ہم خود دور کر سکتے ہیں،آج ہی اپنے گلی محلے اور ہر اس جگہ درخت لگائیں جہاں اس کی ضرورت بھی ہے اور جگہ بھی۔گرمی کی شدت بھی کم ہو گی اور زمینی کٹاﺅ اور سیلاب سے بھی بچت ہو سکے گی۔ہم سب متحد ہو ں تو حکومت ڈیم بھی بنائے گی کیوں کہ ان افسران کو ہم ہی ان کرسیوں پر بٹھاتے ہیں۔
ایسی کونسی سہولت ہے جو پاکستان میں میسر نہیں ہے،سب کچھ موجود ہونے کے باوجود ترقی نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریا ں احسن طریقے سے سر انجام نہیں دے رہے ہیں۔جس طرح قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے بالکل اسی طرح ہم سب کے اپنی اپنی ذمہ دارویوں کو ایمانداری سے پورا کرنے سے ہی پاکستان کا چپہ چپہ مہکے گا اوریہ ملک دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا۔
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

Top