سرد یوں میں بچوں کی حفاظت( صدف آصف )

سرد موسم ٹھنڈی ہوائوں کے جھونکوں کے ساتھ بخار، نزلہ، زکام اور کھانسی جیسے مسائل  بھی لے کر آتا ہے۔ بڑے تو مختلف احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس سے حفاظت کا انتظام کر لیتے ہیں، حسب ضرورت دوا کا سہارا بھی لے لیا جاتا ہے مگر چھوٹے بچوں کے حوالے سے خاصے مسائل درپیش ہوتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب یہ ان کی پہلی سردی ہو۔ ایسی صورت میں مائوں کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
Children's safety in winter
سردیوں کے موسم میں نوزائیدہ بچوں کوسردی سے بچانے کے لیے ایک اہم اور کارگر نسخہ مالش ہے۔ گئے وقتوں میں بچوں کی نانیاں،دادیاں اور دیگر بزرگ خواتین بچوں کی مالش  کیا کرتی تھیں کیوں کہ وہ جانتی ہیں کہ یہ نہ صرف سرد موسم سے بچائو کا نسخہ ہے بلکہ ان کی صحت کے لیے بھی خاصا مفید ہے۔ اس سے پرسکون نیند کے ساتھ ان کی طبیعت بھی چاق وچوبند رہتی ہے۔ اس لیے  اگرمائیں یہ چاہتی ہے کہ ان کے بچے سرد موسم میں صحت مند اور توانا رہیں تو وہ بے بی مساج کو نظر انداز نہ کریں۔

مالش کم سن بچوں کی سب سے اچھی ورزش بھی کہلاتی ہے۔ سرسوں یا زیتون کے تیل سے مالش کرنے سے بچوں کی نشونما پاتی ہڈیاں توانا ہوتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سرد موسم کا آغاز ہوتے ہی دن میں کم از کم ایک بار نیم گرم تیل سے بچے کا مساج کیا جائے۔ سوتے وقت ان کے سر میں بھی تیل لگائیں۔ ان کے پیروں اور تلوئوں کی مالش کریں۔ اس سے بچہ پر سکون نیند سوئے گا۔ مالش کے لیے ضروری ہے کہ ایک بچھونہ مخصوص کر لیا جائے تاکہ ایک ہی چادر استعمال ہو  اور ہر دفعہ نئی چادر خراب نہ ہو۔ نیز مالش سے قبل بطور خاص اپنے ہاتھ صاف  رکھیں تاکہ بچے کی نازک جلد کسی بیماری یا انفیکشن سے بھی بچی رہے۔

شدید سرد موسم میں بچوں کو روزانہ نہلانے کے بجائے گرم پانی میں تولیہ بھگوکر ان کا جسم صاف کرنے کو ترجیح دیں۔ جب انہیں نہلا نا ہو تو مناسب گرم پانی کا اہتمام کریں کہ بچے کو سردی بھی نہ لگے اور زیادہ گرم پانی تکلیف بھی نہ دے۔ ساتھ ہی خیال کریں کہ غسل خانے سے ٹھنڈی ہوا کا گزر نہ ہو۔ نہلانے کے فوراً بعد بچے کا جسم اچھی طرح خشک کریں‘ پھر کوئی اچھا بے بی لوشن لگائیں تاکہ جلد کی ملائمت برقرار رہے۔

کپڑے بدلواتے وقت اور اس کے بعد بھی خیال کریں کہ ہوا نہ لگے۔ نہلانے کے بعد اگر تھوڑی دیر دھوپ  میں لٹائیں تو یہ بھی مفید ہوگا۔ بچوں کو دھوپ لگاتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ دھوپ کا رخ بچے کے پیروں کی طرف ہو جب کہ چہرہ سائے میں رہے۔

سردیوں میں اس بات کا  بھی خصوصی خیال رکھنا ضروری ہے کہ بچے کا بستر زیادہ دیر گیلا نہ رہے ورنہ وہ شدید بیمار پڑ سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بچے کی نیند کے دوران اس کا ڈائپر دیکھتی رہیںتاکہ خراب ہوگیا ہوتو تبدیل کیا جا سکے۔ سرد ہوائوں اور جاڑوں میں فقط تھوڑی سی احتیاطی تدابیر کے ذریعے ہر ماں اپنے بچے کو بیمار ہونے سے بچا سکتی ہے۔

Top