سول اسپتال (مختار احمد)

civil hospitalماضی میں اگر شہر کراچی کی آب و ہوا انتہائی معتدل تھی تو سمندر کی ہواؤں میں نمی کی زیادتی اور صفائی ستھرائی کا موثر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے بیماریاں بھی عام تھیں۔ شہر وبائی امراض کا مرکز تھا جہاں چیچک، ملیریا، ٹی بی، دمہ، آشوب چشم اور جلدی امراض کی وبائیں اکثر و بیشتر پھیل جاتی تھیں۔ علاج معالجے کا کوئی بندوبست نہیں تھا، چھوٹے سے شہر کا علاج وید یا پھر نیم حکیم کیا کرتے تھے جس سے لوگوں کے مرض میں تو افاقہ نہ ہوتا تھا بلکہ اِن نیم حکیموں کا علاج انہیں قبرستان تک پہنچادیا کرتا تھا۔

انگریزوں نے جب 1839ء میں سندھ پر قبضہ کیا تو شہر کی حالتِ زار دیکھ کر انہوں نے سب سے پہلے یہاں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے میونسپل کمیشن قائم کیا۔ جب صفائی کی حالت قدرے بہتر ہوگئی تو انہوں نے لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے غور و خوض کیا اور پھر مخیر حضرات کی مدد سے شہر میں لوگوں کو علاج کی سہولت مہیا کرنے کیلئے چھوٹی چھوٹی ڈسپنسریاں بنائیں۔ ابتداء میں یہ ڈسپنسریاں صدر، بندر روڈ، لیاری اور منوڑہ میں قائم کی گئیں، جہاں سالانہ 4 سے 5 ہزار لوگوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ گوکہ اب وہ ڈسپنسریاں بیشتر علاقوں میں موجود نہیں مگر صدر اور لیاری کے علاقے میں ایڈل جی ڈنشا کے تعاون سے قائم ہونے والی یہ ڈسپنسریاں اب بھی کام کررہی ہیں۔

اب جہاں تک شہرِ کراچی میں باقاعدہ اسپتالوں کے قیام کا تعلق ہے تو اسپتالوں کا قیام بھی انگریزوں کے زمانے میں عمل میں آیا، سب سے پہلے انگریزوں نے فوجیوں کے علاج کیلئے سول اسپتال کی بنیاد رکھی جہاں ابتداء میں عام افراد کا علاج نہیں کیا جاتا تھا۔ لہذا ماضی میں فوجیوں کو معالجے کی سہولت فراہم کرنے والے اسپتال کو اگر کراچی کا پہلا باقاعدہ اسپتال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اِس کے بعد انگریزوں نے منوڑہ کا اسپتال، گزری سینیٹوریم، اسٹیشن اسپتال، کیماڑی اسپتال، لیڈی ڈیفرن اسپتال، سوبھراج چیتو مل ڈسپنسری، ڈسپنسر آئی اسپتال بھی قائم کیے۔ جہاں نہ صرف وبائی امراض کی صورت میں لوگوں کا علاج کیا جاتا تھا بلکہ اُس زمانے میں چونکہ مہلک امراض کی ویکسینیشن کو باقاعدہ ایکٹ میں شامل کیا گیا تھا لہذا یہ اسپتال عوام کو مہلک امراض سے بچانے کیلئے ٹیکے لگانے کا کام بھی کیا کرتے تھے۔

سول اسپتال کی تاریخ انتہائی دلچسپ ہے، مورخین کے مطابق جب انگریزوں نے 1839ء میں سندھ پر قبضہ کیا تو انگریز فوجیوں نے سول اسپتال کے نزدیک عیدگاہ میدان کے ایک وسیع رقبے پر خیمے لگا کر پوری فوجی کالونی آباد کردی اور یہاں مقیم ہوگئے۔ اِسی دوران ہیضے کی وباء پھیل گئی، اکثر و بیشتر فوجی اِس بیماری کا شکار ہوگئے کیونکہ اِس وقت تک علاج معالجے کے لئے کوئی اسپتال قائم نہیں تھا، لہذا فوری طور پر سول اسپتال کی موجودہ جگہ پر انگریز فوجیوں نے خیموں کے اندر ہی ایک ڈسپنسری قائم کی جہاں وبائی امراض کے شکار فوجیوں کا علاج معالجہ ہونے لگا اور بالآخر علاج معالجے کی بہتر سہولت فراہم کرنے پر یہ وبائی مرض ختم ہوگیا جس پر برطانوی فوج کے اعلیٰ افسران نے ایک اسپتال فوجی کیمپوں کے نزدیک قائم کرنے کی ضروت محسوس کرتے ہوئے فوری طور پر پتھروں کے ذریعے ایک عمارت تعمیر کی جسے ملٹری اسپتال کا نام دیا گیا۔

اِس اسپتال میں ماسوائے برطانوی افواج سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کے، کسی کا علاج نہیں کیا جاتا تھا پھر جب اِن فوجیوں کیلئے صدر لکی اسٹار کے علاقے میں باقاعدہ طور پر بیرکس قائم ہوگئے تو کیمپوں میں مقیم تمام فوجیوں کو وہاں منتقل کردیا گیا، جس کے بعد یہ اسپتال کچھ عرصے کیلئے بند ہوگیا۔ شہر میں فوجیوں کے لئے اسپتال قائم ہونے کے بعد اُن کا مسئلہ تو حل ہوگیا مگر عام شہریوں کے لئے اسپتال کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی رہی۔ جس کے پیشِ نظر فوجی حکام نے مشاورت کے بعد 1854ء میں عوام کی ضرورت کے تحت اُسی جگہ ایک کشادہ اسپتال قائم کیا اور اُسے شہر کی عوام کے لئے وقف کردیا اور ملٹری اسپتال کے نام کو تبدیل کرتے ہوئے اِس کا نام سول اسپتال رکھ دیا گیا۔

اسپتال کی تعمیر پر کُل 6 ہزار 8 سو 78 روپے خرچ ہوئے اور کیونکہ یہاں علاج معالجے کیلئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد آیا کرتی تھی، لہذا اِسے مزید کشادہ کرنے کیلئے 1858ء میں سندھ ریلوے کمپنی نے اپنی تحویل میں لے کر نئے سرے سے اُس کی تعمیر کرائی اور یہاں جنرل وارڈ، اسپیشل وارڈ، متعدی بیماریوں کے وارڈ کے ساتھ نرسوں کے لئے کوارٹر تعمیر کرکے اُسے کراچی میونسپلٹی کے حوالے کردیا اور اِس کا پہلا انچارج مسٹر آرامسے کو بنایا گیا اور مسٹر رستم جی اُن کے اسسٹنٹ مقرر ہوئے جنہوں نے اِس اسپتال کے انتظامات کو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ چلایا۔ کہا جاتا ہے کہ 1857ء تا 1856ء میں یہاں ایک سال کے دوران 1896 لوگ جبکہ 1859ء تا 1858ء میں 2104 لوگوں کا علاج کیا گیا۔

اِس کے بعد سے یہ اسپتال ترقی کرتا ہوا شہر کراچی کا ایک بڑا اسپتال بن گیا، جہاں آج ٹراما سینٹر سمیت لیبارٹری، جنرل وارڈ، اسپیشل وارڈ قائم ہیں جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ سول اسپتال جوکہ غیر فوجیوں کے اسپتال کے نام پر شہرت اختیار کرگیا اور اپنے قیام سے لے کر 19 اگست تک اِسی نام سے موسوم رہا مگر جرمن مسیحا ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ جنہوں نے اپنی تمام تر زندگی پاکستان میں جذام کے اُن مریضوں کا علاج کیا جن کے قریب جانا بھی کوئی پسند نہیں کرتا تھا، صرف علاج ہی نہیں کیا بلکہ پورے ملک کے اندر جذام کے 156 مراکز قائم کرکے پاکستان کو جذام کنٹرولڈ ملک بنایا۔ 10 اگست 2017ء کو وہ مقامی اسپتال میں انتقال کرگئیں۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کو جب 19 اگست میں گورا قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا تو وزیراعلیٰ سندھ نے اُن کی خدمات کے اعتراف میں سول اسپتال کا نام تبدیل کرکے اُس کا نام ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ اسپتال رکھ دیا۔ اِس طرح اُن کے پاکستان سے احسانوں کا بدلہ تو نہیں چکایا جاسکتا لیکن اسپتال کے نام کی تبدیلی سے اُن کی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گیں۔
بشکریہ: ایکسپریس

Top