عید الفطر، احکام و مسائل (عنابیہ چودھری)

Eid ul fitar 1عید کا لغوی معنی لوٹنے اور بار بار آنے  کے ہیں، عید کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ یہ لوٹ کر آتی ہے یا دوسری بار اس کے لوٹنے کی امید کی جاتی ہے اور اس لئے بھی  کیونکہ یہ خوشی اور مسرت لے کر لوٹتی ہے۔  نماز عید قرآن و سنت اور مسلمانوں کے اجماع کے مطابق مشروع ہے۔ مشرکین زمانی اور مکانی (وقت اور جگہ کے اعتبار سے) عیدیں منایا کرتے تھے، پھر اسلام نے ان عیدوں کو باطل قرار دیا اور ان کے بدلے میں 2 عظیم عبادتوں: رمضان کا روزہ اور حج بیت اللہ کرنے پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے لئے عید الفطر اور عید الأضحی مقرر  کرلی۔  نبی کریم ﷺ کی ایک صحیح حدیث میں ہے کہ جب انہوں نے مدینہ منورہ تشریف لایا تو اس وقت وہاں کے لوگ دو  دنوں  میں کھیلا کرتے تھے تو آپﷺ  نے فرمایا’’ اللہ تعالی نےتمہیں ان دو دنوں کےبدلے میں ان سے بہتر دو دن دیے ہیں، قربانی کا دن، عید الأضحی اور افطاری کا دن، عید الفطر، (الصحیحۃ)

نماز عید فرض ہے
نماز عید کا حکم یہ ہے کہ یہ ہراس مسلمان مرد، مکلف پر فرض عین ہے جس کو کوئی عذر نہ ہو، کیونکہ حضرت بنی کریم  ﷺ  نے اسے ادا کرنے کا حکم دیا حتی کہ عورتوں کو بھی۔ ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہے’’ہم کو (دور نبیﷺ  میں) عید کے دن نکلنے کا حکم دیا جاتا تھا، یہاں تک کہ کنواری عورت بھی پردے میں سے نکلتیں اور حائضہ بھی نکلتیں، وہ لوگوں کے پیچھے رہتیں ، مردوں کے ساتھ تکبیریں کہتیں اور ان کی دعا میں شریک ہوتیں، اس دن کی برکت اور پاکیزگی حاصل کرنے کی امید رکھتیں‘‘۔ عورتوں کا نماز عید کے لئے نکلنا مسنون ہے لیکن وہ عطر لگاتی ہوئی اور بے پردہ نہ ہوں۔

نماز عید کا وقت
جب سورج ایک نیزے (تقریبا 3 میٹر) کے برابر بلند ہوگا تو نماز عید کا وقت شروع ہوگا کیونکہ حضرت بنی کریم  ﷺ  اسی وقت نماز عید ادا کرتے تھے(امام البانی نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔ البتہ طلوع آفتاب کے بعد بہت ہی سویرے نماز ادا کرنے کے دلائل ثابت ہیں، مراجع ) اور اس کا آخری وقت سورج کے زوال ہونے (یعنی نصف النھار) تک ہے ۔ اگر عید کے ہونے کا پتا زوال ہو جانے کے بعد چلے تو اگلے دن نماز عید کو بطور قضاء ادا کیا جائے کیونکہ ابو عمیر بن انس نے انصار میں سے اپنے چچاوں  سے روایت کی ، انہوں نے کہا ’’  ایک دفعہ  ہم لوگوں کے لئے شوال کا چاند واضح نہ ہوا تو ہم نے اگلے دن بھی روزہ رکھ لیا ،دن کے آخری حصے میں کچھ سفر کرنے والے لوگ آئے اور رسول اللہ  ﷺ  کے سامنے گواہی دی کہ انہوں نے کل رات (شوال کا)چاند دیکھا تھا، تو رسول اللہ  ﷺ  نے انصار کو حکم دیا کہ (دن ہی میں) روزے کھول دیں اور اگلے دن صبح اپنی عید کی نماز ادا کرنے کے لئے اپنے مصلی (عید گاہ) جائیں۔

عید کے دن مسنون کام
1۔ عید الفطر کی نماز ادا کرنے کے لئے نکلنے سے پہلے کھجور کھانے اور عید الأضحی کی نماز ادا کرنے سے پہلے کچھ نہ کھانا سنت ہے۔
2۔ نماز فجر کے بعد نماز عید ادا کرنے کے لئے سویرے نکلنا مسنون ہے۔
3۔       نماز فجر کے بعد غسل کر کے خوبصورتی (زینت) اختیار کرنا بھی مسلمان کے لئے مسنون ہے۔ کیونکہ کہ ایسا کرنا صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے، جیسے ابن عمر ( رضی اللہ عنہ ) سے اور اچھے کپڑے پہننا بھی مسنون ہے یہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔

نماز عید ادا کرنے کا طریقہ
نماز عید خطبے سے پہلے دو رکعتیں ہیں جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے’’ اللہ کے رسول ﷺ ، حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان (رضی اللہ عنہم) نماز عید خطبے سے پہلے ادا کرتے تھے‘‘۔

پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ اور ثناء کے بعد اور تعوذ اور قرأت سے  پہلے 6 تکبیرات کہنے ہیں اور امام شافعی کے نزدیک سات تکبیرات ہیں (ابو داود، ترمذی، ابن ماجۃ وغیرہ میں مرفوعا پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ زائد تکبیرات ثابت ہیں، امام البانی نے ان احادیث کو صحیح کہا ہے، مراجع) تکبیر تحریمہ رکن ہے  اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی، تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی تکبیرات سنت ہیں، تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء پڑھنی ہے کیونکہ نماز کے شروع میں ثناء پڑھنا سنت ہے۔ پھر ثناء کے بعد باقی تکبیرات کہنی ہیں آخری  تکبیر کے بعد اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا ہے کیونکہ قرات کے لئے تعوذ اور تسمیہ پڑھنا سنت ہے پھر اس کے بعد قرأت کر لے۔

نمازی ہر تکبیر کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھالے (رفع یدین کرے) کیونکہ  حضرت نبی کریم ﷺ  ہر تکبیر کے وقت رفع الیدین کرتے تھے اور ایسا کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے جنازے کی تکبیرات کے متعلق مروی حدیث میں آیا ہے اسے امام دار قطنی نے روایت کیا اور شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے اور جنازے کے تکبیرات کے وقت ہاتھ اٹھانے کے بارے میں دلائل آئی ہیں ان کی بناء پر بھی (عیدین کی تکبیرات کے وقت رفع یدین  کرے) ۔ (عید کی زائد تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین میں علماء میں اختلاف ہے، شافعی، احمد، اوزاعی، عطا کے نزدیک رفع یدین کیا جائے اور ابن حزم ، مالک ، ثوری البانی کے نزدیک نہ کیا جائے، البانی نے ابن عمر کے  اس اثر کے بارے میں کہا  میں نے اسے اب تک کہیں نہیں پایا جس میں کہا گیا ہے کہ ابن عمر ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے تھے، مراجع)

پھر جب امام سلام پھیرے تو لوگوں کو خطبہ دے۔ بعض علماء نے امام پر خطبہ دینا واجب قرار دیا ہے اور مقتدی کو چاہئے کہ خطبہ ختم ہونے سے پہلے نہ نکلے۔ حضرت نبی ﷺ نے نماز سے آغاز کیا پھر حضرت بلال پر ٹیک لگا کر (سہار لے کر) کھڑے ہوئے اور لوگوں کو اللہ تعالی کے تقویٰ کا حکم دیا اور انہیں اس کی اطاعت کی طرف رغبت دی۔

امام  کو چاہئے کہ خطبہ عید کے دوران عورتوں کے لئے خاص نصیحتیں کرے کیونکہ نبیﷺ نے جب دیکھا کہ اس کی آواز عورتوں تک نہیں پہنچتی ہے تو وہ ان کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں نصیحت کی اور انہیں صدقہ کرنے پر راغب کیا اور اسی طرح سے خطبہ عید کے موضوع میں سے عورتوں کے لئے بھی کچھ حصہ ہونا چاہئے کیونکہ ان کو اس کی ضرورت ہے اور نبی ﷺ  کی پیروی کی خاطر بھی۔

نبیﷺ عید کے دن نماز کے لئے نکلے تو انہوں نے 2 رکعتیں نماز عید پڑھ لی، اس سے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی۔ اس لئے بھی کہ تاکہ کسی کو یہ گمان نہ ہو جائے کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی سنت نماز ہے۔

نماز عید کی قضاء
جس شخص سے نماز عید میں سے کچھ چھوٹ جائے تو اس پر اس کی قضاء کرنا مع زائد تکبیرات مشروع ہے کیونکہ قضاء کرنا (مکمل) ادا کرنے کاتقاضا کرتی ہے اور اس لیے بھی کہ ابوہریرۃ سے مروی حدیث میں نبیﷺ کے فرمان کے عموم کی وجہ سے (جس میں آیا ہے) ’’جو کچھ تم امام کے ساتھ پالو وہ  ادا کر لو اور جو چھوٹ جائے اسے بعد میں مکمل کر لو‘‘۔ اگر مقتدی کو ایک رکعت چھوٹ جائے تو وہ بعد میں اور ایک رکعت پڑھ لے۔

عید کے دن تکبیرات پڑھنا
عید کے دن تکبیر مطلق یعنی جس میں وقت کی کوئی قید نہیں ہے پڑھا مسنون ہے، تکبیر بلند آواز سے پڑھ لے البتہ خاتون بلند آواز سے نہ پڑھے۔ 2 عیدوں کی دو راتوں میں اور پورے عشر ذی الحجۃ میں تکبیر (مطلق) پڑھی جائے گی اللہ کے فرمان کے مطابق ’’اللہ تعالی چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کر لو اور اللہ تعالی کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو‘‘۔

تکبیر مطلق عید الفطر پر عید کی رات میں مغرب کی نماز سے لے کر امام کے نماز کی  شروعات کرنے تک ہےاور عید الأضحی پر ذی الحجہ کے مہینے کے پہلے دن طلوع فجر سے لے کر ایام تشریق ختم ہونے یعنی 13 ذی الحجہ کی مغرب نماز  تک ، اللہ تعالی کے اس فرمانے کے مطابق’’اور اللہ تعالی کی یاد ان گنتی کے چند دنوں میں کرو‘‘۔ ابو ہریرۃ اور ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی گئی ہے کہ وہ بازاروں کی طرف نکلتے تھے تو تکبیر کہتے تھے، امام بخاری نے اسے صيغہ جزم کے  ساتھ تعلیقا ذکر کیا ہے اور دوسری حدیث میں آیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ منی میں اپنے خیمہ میں تکبیر کہتے تھے۔

عید کی مبارکبادی دینا
لوگوں کا آپس میں عید کی مبارک بادی دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسے کہ ایک دوسرے کو کہا جائے ’’تقبل الله منا ومنك‘‘ یعنی اللہ تعالی ہمارے اور تمہارے نیک اعمال قبول فرمائے‘‘۔

شیخ  الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ وہ مبارک بادی کہتے تھے اور اس میں ائمہ جیسے امام احمد وغیرہ نے چھوٹ دی ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا ’’میں مبارک دینے میں پہل نہیں کرتا اگر کوئی مجھے مبارک دے تو میں اس کا جواب دوں گا اور وہ اس لئے کیونکہ سلام کا جواب دینا واجب ہے، رہی بات مبارک میں پہل کرنے کی، تو یہ کوئی ایسی سنت نہیں ہے جس کا حکم دیا گیا ہو اور نا ہی اسے منع کیا گیا ہے۔

Top