کراچی میں 6 اضلاع میں ووٹرز کی تعداد، مکمل سروے

vote election1رپوٹ: سجاد علی
بظاہر کراچی میں کافی حد تک امن قائم ہو چکا ہے۔ 1988 ءکے بعد پہلی مرتبہ ایم کیو ایم اور اس کی کی کوکھ سے جنم لینے والے مختلف گرو پ کے ساتھ ساتھ نواز لیگ، پی پی پی پی، تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں اور گروپوں کو بھی پورے شہر میں کام کرنے اور انتخابی کامیابیوں کے حصول کے لئے متحرک ہونے کا موقع ملا ہے۔ کراچی کی نہ صرف قومی اور صوبائی اسمبلی میں نشستیں ہیں بلکہ یہ شہر ملکی معیشت خواہ اقتدار کے ایوانوں میں الٹ پھیر کا باعث خاص اہمیت رکھتا ہے۔ چھٹی مردم شماری 2017ءکے نتیجے میں ہونے والے نئی حلقہ بندیوں اور ایم کیو ایم کی تقسیم در تقسیم کے بعد کراچی کی انتخابی صورتحال کافی دلچسپ اور ماضی سے بہت مختلف شکل اختیار کر چکی ہے۔ مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں کے بعد پیپلزپارٹی کے لئے حالات کافی ساز گار لگ رہے ہیں کراچی کے 6 اضلاع میں قومی اسمبلی کی 21 اور صوبائی اسمبلی 44 نشستیں ہیں۔ ضلع ملیر میں قومی اسمبلی کی 3 (این اے۔ 236 سے 238) اور صوبائی کی 5 (پی ایس۔ 87 سے91)، ضلع کورنگی میں قومی کی 3 (این اے۔ 239 سے 241) اور صوبائی کی7 ( پی ایس 92 سے98)، ضلع شرقی میں قومی اسمبلی کی 4 ( این اے۔ 242 سے 245) اور صوبائی اسمبلی کی8 (پی ایس۔ 99 سے 106)، ضلع جنوبی میں قومی کی 2 ( این اے۔ 246 اور 247) اور صوبائی کی5 (پی ایس۔ 107 سے111) نشستیں ہیں جبکہ ضلع غربی میں قومی اسمبلی کے 5 حلقوں( این اے۔ 248 سے252) اور صوبائی اسمبلی کے11 حلقوں (پی ایس۔ 112 سے122) اور ضلع وسطی کے 4 قومی ( این اے۔ 253 سے 256) اور صوبائی اسمبلی کے8 (پی ایس۔ 123سے130) حلقوں پر مشتمل ہے۔

ضلع ملیر
اس ضلع میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 7 لاکھ اکیاون ہزار پانچ سو چھبیس (751526) ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد چار لاکھ انتالیس ہزار ایک سو چھیاسٹھ (439166) جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد تین لاکھ بارہ ہزار تین سو ساٹھ (312360) ہے اس ضلع میں 3 قومی اسمبلی کی نشستیں کے ساتھ منسلک 5 صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن بہتر ہے جبکہ اس ضلع سے ن لیگ قومی اسمبلی ایک نشست پر کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر ایم کیو ایم کے مختلف گروپوں اور لانڈھی کی ایک نشست پر اہل سنت والجماعت، تحریک انصاف ،متحدہ مجلس عمل ، ن لیگ، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر کی پوزیشن بھی بہتر دکھائی دے رہی ہے۔

ضلع کورنگی
ضلع کورنگی میں کل رجسٹرڈ ووٹرز تیرہ لاکھ اٹھارہ ہزار سات سو پانچ (1318705) ہیں جن میں مرد ووٹرز کی تعداد سات لاکھ تیتالیس ہزار چار سو نوئے (743490) جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد پانچ لاکھ پچھترہزار دو سو پندرہ (575215) ہے اس ضلع میں قومی اسمبلی کی 3 اور صوبائی کی 7 نشستیں ہیں۔ اس ضلع میں قومی اور ان سے منسلک بیشتر صوبائی حلقوں میں اصل مقابلہ ایم کیو ایم کے مختلف گروپوں اور پاک سر زمین پارٹی کے مابین ہے تاہم ن لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بھی اپنا حصہ لینے کے لئے کوشاں ہیں۔

ضلع شرقی
اس ضلع میں کل رجسٹرڈ ووٹرز چودہ لاکھ چھتیس ہزار ایک سو نو (1436109) جن میں مرد ووٹرز سات لاکھ بیاسی ہزار چار سو ستاون (782457) اور خواتین ووٹرزچھ لاکھ ترپن ہزار چھ سو باون (653652) ہیں۔ ضلع شرقی میں قومی اسمبلی کی 4 نشستیں ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی تعداد 8 ہے۔ اس ضلع میں انتخابی صورتحال کافی دلچسپ ہے۔ این اے 242 میں متحدہ مجلس عمل، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں سخت مقابلے کا امکان ہے، این اے 243 اور 245 میں ایم کیو ایم کے مختلف گروپوںاور تحریک انصاف اپنے مدمقابل کو ٹف ٹائم دیتی نظر آرہی ہیں جبکہ این اے 244 میں مسلم لیگ (ن) ،ایم کیو ایم کے مختلف گروپ ،متحدہ مجلس عمل کےمابین مقابلے کا امکان ہے۔ تقریباََ اسی طرح کی صورتحال صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی بھی ہے۔

ضلع جنوبی
ضلع جنوبی میں کل رجسٹرڈ ووٹرز دس لاکھ اسی ہزار چھ سو باون (1080652) ہیں جن میں مرد ووٹرز چھ لاکھ چھ سو ترپن (600653) اور خواتین ووٹرز چار لاکھ ا±ناسی ہزار نو سو نناوے (479999) ہیں۔اس ضلع میں 2 قومی کی اور صوبائی کی 5 نشستیںہیں اس ضلع میں 246 لیاری کے مختلف علاقوں پر مشتمل ہے جہاں پر پیپلز پارٹی کی پوزیشن مستحکم نظر ا?رہی ہے تاہم ایم ایم اے ،تحریک انصاف اور مسلم لیگ ( ن ) بھی اپ سیٹ کر سکتی ہیں۔ جبکہ این اے 247 کی پوزیشن کافی دلچسپ اور مختلف ہے۔ 2013 سے قبل اس حلقوں کو جماعت اسلامی اور مسلم لیگ(ن) کا حلقہ شمار کیا جاتا تھا مگر نئی حلقہ بندیوں کے بعد اب یہ حلقہ کسی کے لئے محفوظ حلقہ نہیں ہے اس حلقے میں زیادہ تر علاقے سابقہ این اے 250 کے ہیں تاہم 2013 کی طرح اس حلقے سے کامیابی حاصل کرنا کسی کے لئے ا?سان نہیں ہوگا اور یہی صورتحال اس ضلع سے منسلک صوبائی حلقوں کی ہےبھی ہے۔

ضلع غربی
2017 کی مردم شماری کے بعد ضلع غربی کراچی شہر کا سب سے بڑا آبادی والا ضلع بن کے ابھرا ہے۔ اس ضلع کی آبادی کی اکثریت مختلف زبان بولنے والوں اور برادریوں پر مشتمل ہے۔ اس ضلع میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد سولہ لاکھ ساٹھ ہزار ستاون (1660057) ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد دس لاکھ تین سو ستاسی (1000387) اور خواتین ووٹرز کی تعداد چھ لاکھ انسٹھ ہزار چھ سو ستر (659670) ہے اس ضلع میں نئی حلقہ بندی کے بعد ضلع غربی کو قومی اسمبلی کے 5 اور صوبائی کے11 حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس ضلع کے حلقے این اے 248 میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن دیگر کے مقابلے میں کافی بہتر محسوس ہورہی ہے باالخصوص مسلم لیگ ( ن ) کے دیرینہ کارکن اور رکن سندھ اسمبلی ہمایوں محمد خان کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے بعد پیپلز پارٹی کی پوزیشن مزید بہتر ہوئی ہے۔ امکان ہے کہ اس حلقے میں پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف اور ایم ایم اے کے مابین مقابلہ ہوگا اور اسی طرح کی صورتحال اس سے منسلک صوبائی حلقوںمیں بھی ہو سکتی ہیں جبکہ اس ضلع کے حلقوں این اے 249 سے 251 میں ایم کیو ایم کے مختلف گروپوں ، ایم ایم اے ،پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ( ن ) اور عوامی نیشنل پارٹی کے مابین مقابلہ متوقع ہے خاص طور پر حلقہ 249 سے مسلم لیگ (ن)کی جیت کے روشن امکانات ہیں جبکہ این اے 250 میں عوامی نیشنل پارٹی کی پوزیشن کافی بہتر لگ رہی ہے۔ان سے منسلک صوبائی حلقوںمیں بھی پارٹی پوزیشن بھی مختلف دکھائی نہیں دیتی۔

ضلع وسطی
ضلع وسطی کو پاکستان کا سب سے بڑا ضلع ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اسی ہی ضلع میں پاکستان کے سب سے زیادہ رجسٹرڈووٹر موجود ہیں۔ اس ضلع میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد اٹھارہ لاکھ ساٹھ ہزار ایک سو سینتس (1860137) ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 10لاکھ بائیس ہزار اسی (1022080) اور خواتین ووٹرز کی تعداد آٹھ لاکھ ارتیس ہزار ستاون (838057) ہے۔ حالیہ مردم شماری کے بعد اس ضلع کے حصے میں 4 قومی اور 8 صوبائی اسمبلی کی نشستیں آئی ہیں۔ اس ضلع میں اکثریتی آبادی کا تعلق اردو بولنے والی برادری سے ہے۔ یہ ضلع مہاجر قومی موومنٹ جو ( اب متحدہ قو می موومنٹ پاکستان ہے) کی جنم بھومی کا اعزاز بھی سمیٹے ہوئے ہے لیکن اب کراچی میں امن ہوتے ہی متحدہ قو می موومنٹ پاکستان کو اس ضلع میں بے شمار مشکلات کا سامنا ہے جن کا ذکر حلقہ وائزجائزے میں پبلش کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم (لندن) کی بائیکاٹ کی اپیل نے بھی شاید اردو بولنے والوں کو محترک ہونے سے روک دیا ہے اور شاید یہی وجہ ہو سکتی ہے دیگر سیاسی اور مذہبی جماتیں بھرپور کوشش کر رہی ہیں کہ وہ تبدیل شدہ صورتحال میں کراچی کی سیاست اور نمائندگی میں اپنا حصہ نکالے اس کے باوجود بھی اس ضلع وسطی میں انتخابی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لئے اس ضلع سے 25 جولائی 2018 کے انتخابات میں ووٹر ٹرن آﺅٹ کم رہنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ ضلع وسطی میں اصل مقابلہ متحدہ قومی موومنٹ( ایم کیو ایم) پاکستان کے مختلف گروپوں، ن لیگ، اور متحدہ مجلس عمل کے مابین مقابلہ ہوگا اور اس طرح کی صورتحال اس ضلع کے صوبائی حلقوں میں بھی نظر آرہی ہے۔

ضلع وسطی، ضلع شرقی، ضلع غربی اور ضلع کورنگی کے ماضی میں ایم کیو ایم کے مضبوط حلقوں میں پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے مقابلے میں ایم کیوایم کے ناراض ووٹرز کو فیصلہ کرنا ہوا تو وہ مسلم لیگ ( ن ) کوترجیح دیںگے، جبکہ اردو بولنے والوں کے زیر اثر علاقوں میں جماعت اسلامی کی وجہ سے ایم ایم اے کی پوزیشن بھی بہتر ہو سکتی ہے جبکہ اردو بولنے والی آبادی کے اکثریتی علاقوںمیں ایم کیو ایم اور ایم ایم اے کے لئے تحریک لبیک پاکستان بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے اگر چہ بظاہر کسی حلقے میں اس جماعت کی واضح کامیابی نظر نہیں آرہی ہے تاہم اس کے ووٹ کسی کی ہار اور جیت میں اہم کردارادا کر سکتے ہیں جبکہ دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)پاکستان کے رہنماﺅںکا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں میں تبدیلی پر انھیں شدید تحفظات ہیں اور مزید یہ کہ من پسند جماعتوں اور افراد کو دھونس اور دھاندلی کے ذریعے کراچی کے عوام پر مسلط کرنے کی کوشش عوام اور ریاست میں پہلے سے موجود فرق کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

شہریوں کی رائے
شہریوںکی رائے کے مطابق 2017 ءکی مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں اور اس کے نتیجے میں بننے والی ووٹر لسٹوں میں بے ایمانی ہوئی ہے اور یہ انتخابات سے پہلے کی جانے والی دھاندلی ہے(یاد رہے دھاندلی کے الزامات لگنے سے عام آدمی کا جمہوری نظام پر سے اعتماد مجروح ہو جاتا ہے۔ اس اعتماد کا مجروح ہونا عسکری اسٹیبلشمنٹ کے حق میں جاتا ہے)۔ سیاسی جماعتوں اور جمہوری نظام کے حامیوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ صاف و شفاف انتخابات ان کے اور جمہوری نظام کے فائدے میں ہیں خواہ وہ ہار ہی کیوں نہ جائیں۔

کراچی اپ ڈیٹس کا پیغام
کراچی اپ ڈیٹس کا مختصر سا پیغام آپ کے مستقبل کے لئے یہ ہے کہ (اپنی ساٹھ سالہ زندگی میں اگر آپ نے آٹھ ووٹ نیک سیرت، با کردار، ایماندار اور مخلص امیدوارں کو دے کر کامیاب کیا تو سمجھ لیجئے آپ نے قوم کا قرض ادا کر دیا اور ان کو خون کے آنسو بہانے سے بچالیا یقین کریں آنے والی نسلیں بے جا ناچنے گانے،رونے دھونے، کسی کے دکھ میں مٹھائیاں بانٹنے اور ظلم و ستم سے بچ جائیں گی کیونکہ اسمبلیوں میں آپ کے منتخب کردہ انسان ہونگے حیوان نہیں)۔

Top