علماء سے بدظن کرنے کی مذموم کوشش (فیض عالم بابر)

Javed-Chaudhryحال ہی میں معروف کالم نگار جاوید چودھری کا ایک کالم ’’علماء کے کرنے کے کام‘‘ نظر سے گزرا جسے پڑھ کر افسوس ہوا کہ موصوف نے کتنی باریک بینی سے سادہ لوح قوم کو علماء سے بدظن اور انہیں گمراہ کرنے کی مذموم کوشش کی ہے، موصوف نے کالم میں ایک امریکی خاتون پروفیسر ڈاکٹر کیتھرائن کا حوالہ دیا ہے جو بچوں کی ڈاکٹر ہیں۔ اس امریکی ڈاکٹر نے اندھے پن کے موروثی مرض کا علاج دریافت کیا اور خود کو اسی کام کے لیے وقف کردیا۔ موصوف نے ڈاکٹر کیتھرائن کو مثال بنا کر تبلیغی جماعت کے روح و رواں مولانا طارق جمیل کو رائے ونڈ میں ٹی بی کا سب سے بڑا ہسپتال بنانے اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو مرید کے میں دل کا سب سے بڑا ہسپتال بنانے کا مشورہ دے ڈالا۔

بین السطور سے واضح ہے کہ وہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ تبلیغی اجتماع، دینی کام ختم کرکے ان دونوں دینی مراکز پر ہسپتال بنادیے جائیں۔ موصوف سے پوچھا جاسکتا ہے کہ جس امریکی ڈاکٹر خاتون کا انہوں نے حوالہ دیا ہے کیا وہ مبلغہ ہیں؟ کیا وہ کبھی راہبہ بھی رہی ہیں؟ یقیناًاس کا جواب نفی میں ہوگا۔ شعبہ طب سے وابستہ ایک خاتون کا کام ہی علاج معالجہ ہے۔ کیا موصوف کوئی ایسی ایک مثال پیش کرسکتے ہیں کہ یورپی ممالک میں عیسائیت کے فروغ کے لیے سرگرم کسی مبلغ نے ہسپتال بنایا ہو؟ کیا عیسائیوں کے سب سے بڑے مبلغ پوپ بینڈکٹ نے ویٹی کن میں کوئی بڑا ہسپتال بنایا ہے؟ یقیناًایسا نہیں ہوا کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔

مولانا طارق جمیل، حافظ سعید کا جو کام، جو شعبہ ہے وہ اس میں بطریق احسن اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، اخلاقی بیماریوں میں گھری اس قوم کا مولانا طارق جمیل، مولانا الیاس قادری ودیگر علماء کرام احسن طریقے سے علاج کرتو رہے ہیں، اور کیوں نہ کریں کہ خدا کی طرف سے انہیں اصلاح امت کا یہی کام سونپا گیا ہے۔ حافظ سعید سے وابستہ اداروں کی فلاحی سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ آزاد کشمیر میں 2005 ء میں آنے والے قیامت خیز زلزلے جس میں ہزاروں افراد لقمہِ اجل بن گئے تھے، اس وقت جب کہ تمام دنیا اور ملکی ادارے امدادی سرگرمیوں میں سرگرم تھے تو اس میدان میں بھی حافظ سعید کے ادارے سے وابستہ افراد فلاحی سرگرمیوں میں سب سے آگے تھے جس کا اعتراف اقوام متحدہ اور امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی کیا تھا۔

موصوف خود بھی صاحبِ حیثیت اور ایک خوشحال میڈیا گروپ سے وابستہ ہیں کیا جاوید چودھری خوشحال میڈیا گروپ کے ہیڈ آفس کی جگہ یا اس کے اندر کوئی ہسپتال بنائیں گے؟۔ موصوف نے مذہبی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ: ’’مذہبی جماعتوں کا اس بیمار معاشرے میں کیا کنٹری بیوشن ہے؟‘‘۔ جاوید چودھری صاحب صرف مذہبی جماعتیں ہی آپ کا نشانہ کیوں ہیں؟ کیا آپ قوم کو بتا سکتے ہیں کہ اس بیمار معاشرے میں سیاسی، سماجی جماعتوں، صحافیوں، تاجروں، صنعت کاروں، بیورو کریٹس، ججوں، فوج کا کیا کنٹری بیوشن ہے؟ اور خود آپ کا کیا حصہ ہے؟۔ جب آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے تو صرف مذہبی جماعتوں پر انگلی اُٹھانا زیب نہیں دیتا۔ ہاں اگرکوئی اور معاملہ ہے تو الگ بات ہے۔ چودھری صاحب صحت مند معاشرہ تبھی تشکیل پاتا ہے جب ہر شعبہ ہائے زندگی کے افراد اپنے اپنے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں۔ ہمارا معاشرہ بیمار ہی ان دانشوروں کی وجہ سے ہے کہ جو دین کے فروغ کے لیے کام کرنے والے علماء تک کو نہیں چھوڑتے اور انہیں ڈاکٹر، اور دنیا دار بنانے پر مصر رہتے ہیں، اور بڑی باریکی سے سادہ لوح عوام کو بھی گمراہ کرتے رہتے ہیں۔

ہمارا معاشرہ بیمار ہی اس وجہ سے ہے کہ یہاں صحافی جج اور دانشور بنے رہتے ہیں، اداکار، اداکارائیں، ٹی وی چینلوں پر قوم کو دینی درس دیتی ہیں، گلوگار اسکولوں کو گود لیکر اپنی مرضی کی تعلیم عام کرنے میں لگے ہیں۔ جج سیاست زدہ ہوچکے ہیں، سیاست دان سیاست کے بجائے ایک دوسرے کے کپڑے اتارنے میں سرگرم ہیں۔ موصوف لکھتے ہیں ’’علماء کرام اس دنیا کو بھلا کر دوسری دنیا کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، یہ اندھوں کو بینائی دینے کے بجائے دیکھنے والوں کو آنکھیں بند کرنے کا طریقہ سکھا رہے ہیں‘‘۔ چودھری صاحب آپ کا نہ سہی مگر یہ تو کم سے کم تر درجے کے مسلمان کا بھی ایمان ہے کہ یہ دنیا عارضی اور امتحان گاہ ہے، اصل دنیا مرنے کے بعد کی دنیا ہے۔

غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں، علماء پر تنقید کرکے اور سادہ لوح عوام کو یہ احساس دلانا کہ تمام مسائل کی جڑ مذہبی جماعتیں اور علماء کرام ہیں، اس فعل قبیح کے ذریعے کیوں اپنی آخرت خراب کررہے ہیں۔ چودھری صاحب آپ کی اہلیت کا اندازہ تو اس کالم کے عنوان ’علماء کے کرنے کے کام‘ سے ہی ہورہا ہے کہ موصوف کو یہ بھی نہیں معلوم کہ علماء کا کام اصلاحِ امت ہے ہسپتال بنانا نہیں، اور قرآن و حدیث کے مطابق اس دنیا اور دنیا داروں کو بھلا کر ہمیشہ قائم رہنے والی دنیا کی طرف بلانا ہے۔

Top