حافظ قرآن بچوں پر بمباری

quranتحریر: حافظ عاکف سعید
رب کی دھرتی پر رب کا نظام قائم کرنا تاکہ ظلم و فساد ختم ہو اور جہاد کا مقصد پورا ہوسکے ، اسی میں انسانوں بالخصوص مسلمانوں کی آزمائش ہے کہ وہ اللہ کے کتنے وفادار ہیں ؟کیا وہ رب کی دھرتی پر رب کانظام کرنے کے لئے اپنی گردنیں کٹوانے کے لئے تیار ہیں؟قرآن مجید میں جا بجا جہاد و قتال فی سبیل اللہ کا حکم آیا ہے۔اسی میں نوع انسانی کی فلاح ہے۔جب ابلیسی قوتوں کی حکمرانی ہوتی ہے تو دنیا ظلم و فساد سے بھرجاتی ہے اور جب ہم ابلیسی قوتوں کی صف میں کھڑے ہوتے ہیں تو وہی کچھ کرتے ہیں جو افغانستان کی موجودہ کٹھ پتلی حکومت نے حال ہی میں امریکہ کو خوش کرنے کے لئے صوبہ قندوز میں کیا ہے۔یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔وہاں سینکڑوں حافظ قرآن بچو ں پر جوبمباری افغان فضائیہ نے کی ہے اور جس کی تصویریں سامنے آئی ہیں ان کو دیکھ کر آنکھوں سے خون کے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔امریکہ افغانستان میں کس بنیاد پر آیا ہے؟ یہ اس کا سب سے بڑا جرم ہے۔ امریکہ نے عراق پر ایک شبہ کی بنیاد پر حملہ کیا ۔اس کے نتیجے میں تقریباً ڈھائی لاکھ عراقی مسلمان قتل ہوئے اور اس سے زیادہ کی تعداد میںبے گھر ہوئے ہیں ۔آخر میں اس نے اعتراف کیا کہ یہاں تو mass destruction weaponsتو برآمد نہیں ہوئے جس کے شبہ میں ہم نے عراق پر حملہ کیا تھا۔ امریکہ کی ان تمام دہشت گردیوں کے باوجود مسلمانوں ہی کودہشت گرد قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔

افغان فضائیہ کی بمباری سے شہید ہونے والے ان بچوں کا جرم کیا تھا؟وہ اس دین متین کا علم حاصل کررہے تھے جو اللہ نے اپنے آخری نبی رحمت اللعالمین ﷺکے ذریعے مسلمانوں کو عطا کیا ۔وہ آپﷺ کی ہوئی اسلامی تعلیمات حاصل کررہے تھے۔جو نظام حضور ﷺ نے دیا وہی تو نوع انسانی کے لئے سب سے بڑی رحمت ہے ۔۔بہرحال افغانستان ، کشمیر اور فلسطین میں معصوم اور نہتے مسلمانوں کا قتل عام ایک ہی پالیسی کا حصہ ہے ۔ان بچوں کی شہادت سے افغانستان حکومت کا سر شرم سے جھک جانا چاہئے۔افغان حکومت امریکہ سے دوستی اور افغان طالبان سے دشمنی میں اس حد تک اسلام سے بغاوت پر اتر آئی ہے کہ وہ عام شہریوں کے بچوں پر حملہ کرکے اپنے آقاﺅں کو خوش کررہی ہے۔ہم لوگ حالات و واقعات سے سبق حاصل نہیں کرتے ۔ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ امریکیوں سے دوستی ان کی دشمنی سے زیاد ہ خطرناک ہے۔ ہم امریکہ کے اشارے پر اس کی جنگ میں کود پڑے ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایک ہی دھمکی پر ہمارے حکمرانوں نے خودبھی اور ساتھ ساتھ اپنی قوم سے بھی اس کے آگے سپر ڈلوادیا۔افغانستان میں جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے، اس میں ہمارا بہت بڑا کردار ہے۔ہم نے وہاں کی اسلامی حکومت کو ختم کرنے میں امریکہ جیسی ابلیسی قوت کا بھرپور ساتھ دیا۔لہٰذا پوری قوم اللہ کے عذاب کی زد میںہے۔

قندوز کاسانحہ بتاتا ہے کہ اسلام دشمن قوتیں اپنے آخری مرحلے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کا منصوبہ بنائے بیٹھی ہیں۔دوسری طرف مسلم ممالک کے حکمراں بڑھ چڑھ کر ان کے ناپاک ایجنڈے کی تکمیل کے لئے حاضر ہیں ۔وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنی خدمات پیش کررہے ہیں۔ہم پاکستانیوں نے امریکہ کی خوشنودی کے لئے کیا کچھ نہ کیا لیکن ہمارے حصے میں لعن طعن اور وہاں سے ڈو مور کے احکامات جاری ہوتے رہتے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم پھر بھی سبق سیکھنے کے لئے تیار نہیں۔مسلمانوں کو کرنا یہ چاہئے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے وفاداری کا تقاضا ہے جسے علامہ اقبال نے اپنی نظم جواب شکوہ کے آخر میں بتایا ہے  کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں  یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے لئے اسلام دشمن قوتوں کو تباہ کرنا کوئی مسئلہ نہیں ۔لیکن یہ دنیا ہمارے لئے دارالامتحان ہے ۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں کچھ پیرا میٹرز بتادئیے ہیں ۔قرآن و حدیث کی تعلیمات بھی ہمارے سامنے ہیں ۔

مسلمان جب تک اللہ اور اس کے دین کے وفادار رہیں گے تو دنیا میں غالب و رسربلند رہیں گے اگر مسلمان متحد ہوکر اللہ کے دین کو قائم کرنے کی جدوجہد کریں گے تو اللہ ان کی مدد کرے گا۔اس کے برعکس کریں گے تو وہ ہمیں دھتکار دے گا۔ ہم نے ہر جگہ اللہ سے بغاوت کررکھی ہے۔یہ اقتدار جو کسی کو سعودی عرب، کسی کو یمن اور کسی کو کہیں اور ملاہے اس کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کا دین قائم نہیں کیاحالانکہ یہ ہمارا مقصد حیات ہے۔موجودہ صورتحال میں کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد آئے گی یا عذاب کے کوڑے برسیں گے؟ہم چاہتے تو ہیں کہ اللہ کی مدد ہمیں حاصل ہو لیکن کام سارے اس کو ناراض کرنے والے کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے دئیے گئے نظام کی قصیدے ہم آج بھی پڑھتے ہیں لیکن اس کو نافذ کرنے کے لئے ہم آمادہ نہیں۔یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟یہ منافقت پورے عالم اسلام میں جاری ہے ۔لہٰذا منافقت کی نحوست بھی پورے عالم اسلام پر مسلط ہے۔اللہ نے ہمیں جس مقصد کے لئے یہ ملک دیا تھا ، وہ تو ہمیں آج تک حاصل نہیں ہوا حالانکہ اس کی 96%آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور بظاہر مقصد کے حصول کی راہ میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں۔پتہ نہیں ہم غیروں کے نظام کو کیسے گوارا کر رہے ہیں۔ہم اگر اللہ کے نظام کے نفاذ کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہوں تو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی قوت ہمارا کچھ بگاڑ نہیں سکے گی۔اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس جانب خلوص دل کے ساتھ پیشقدمی کریں۔آمین یا رب العالمین۔

Top