قرآن میں تحریف کا جاہلانہ مطالبہ (حافظ عاکف سعید)

quranپورے عالم اسلام میں ماہ رمضان المبارک منایا جا رہا ہے لیکن اسی مہینے میں فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیںجس سے ہر مسلمان صدمہ سے دوچار ہے ۔حال ہی میں ٹرمپ کے ایک فیصلے کے مطابق بین الاقوامی ذرائع سے ملنے والی ایک تشویشناک خبر یہ ہے کہ عالم اسلام کے شدید احتجاج کے باوجود 14مئی کو امریکہ نے یروشلم میں اپنے سفارت خانے کا افتتاح کردیا ہے اور اس موقع پر احتجاج کرنے والوں پروالے فلسطینیوں پر اسرائیلی افواج نے اندھادھند فائرنگ کرکے 61فلسطینیوں کوشہیداور 2700افراد کو زخمی کردیا ہے۔ایک جانب فلسطینی نہتے ہیں تو دوسری جانب اسرائیلی افواج نائپرز کے ذریعے تاک تاک کر انہیں نشانہ بنارہے ہیں اور اس بہیمانہ کھیل میں اسرائیلی فضائیہ اور ڈرونز کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے۔

تمام بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں اور اخلاقی اور انسانی تقاضوں کی دھجیاں اڑاکر رکھ دی گئی ہیں۔حتیٰ کہ زخمیوں کو ڈھونے والا ایمبولینسز اور میڈیا کی گاڑیوں کو بھی نہیں بخشاگیا ہے۔امت مسلمہ پر اس وقت یہ قیامت ٹوٹی ہوئی ہے جس واقعے سے آنے والے حالات کا اندازہ کرنا دشوار نہیں کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے حوالے سے کیا ایجنڈا رکھتے ہیں ۔دوسری طرف تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اسرائیل کو ان اقدامات کی جراءت اس لئے ہوئی ہے کہ آج امت مسلمہ خود بدترین انتشار کا شکار ہے۔پاکستان کے حالات ہی پر کسی زاوئیے سے نظر ڈال لیںاورپورے عالم اسلام پر نگاہ ڈال لیں ،اسلامی ممالک کے حمراں ایک دوسرے کے خلاف انہی اسلام دشمن طاقتوں کی مدد طلب کرنے میں مصروف ہیں۔ لہٰذا کسے دوش دیا جائے؟

ایک اور تشویشناک خبر یہ ہے کہ فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی اور وہاں کے سابق وزیر اعظم کے علاوہ تین سوسیاستدانوں اور دانشوروں نے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کئے ہیں جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ چونکہ قرآن مجید کے بعض حصے یہود مخالف تعلیمات پر مشتمل ہیں ، لہٰذا انہیں قرآن سے نکال دینا چاہئے۔یہ اعلامیہ فرانس کے روزنام Le parisienمیں 21اپریل کو شائع ہوا ہے۔فرانس کے سابق صدر اور وزیر اعظم سمیت ان تمام تین سو سیاستدانوں اور دانشوروں کو اس بات کا شائد علم نہیں قرآن انجیل اور تورات کی طرح نہیں کہ جس میں اپنی مرضی کے مطابق جب چاہا تحریف کردی۔ قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لیا ہے۔ اس کا اعلان قرآن مجید میں چودہ سو سال قبل کردیا گیا ہے ۔چنانچہ یہ امر واقعہ ہے کہ قرآن چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود اپنی اصل شکل میں موجود ہے اور اس میں زبر زیر تک کی تحریف اپنی سرتوڑ کوششوں کے باوجود بھی کوئی نہیں کرسکا۔

دشمنان اسلام قرآن مجید کے کروڑوں مصحفوں کو تلف بھی کردیںتو امت مسلمہ کے لاکھوں ہی نہیں کروڑوں حفاظ کے سینوں سے قرآن کو نہیں نکال سکتے۔بلکہ اس سے پہلے بھی قرآن کے نام پر بہت سی کوششیں کی گئی ہیں کہ اس کا کوئی نیا تحرئف شدہ ایڈیشن تیار کیا جائے ۔پچھلی دہائی میںبھی اس کی کوششیں ہوئیں اور یہود تو اس میں تحریف کرنے کی مسلسل کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی ہر کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی ہے کیونکہ اس کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔بہرحال دشمنان خدا اپنی سی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تو ہمیں اس کے جواب میں کم ازکم یہ تو ضرور کرنا چاہئے کہ قرآن کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کریں۔رمضان المبارک کے مہینے کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین

Top