ٹھنڈی ہوائوں میں خود کو بچائیں (صدف آصف)

انسانی فطرت میں اتنا تنوع اور تغیر ہے کہ انسان جلد ہی ایک جیسے حالات میں اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قدرت نے ہمیں مختلف موسموں کا تحفہ دیا ہے۔ اس طرح سارے موسم ہی انسان کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں، مگر موسم سرما کو طبیبوں نے صحت مندی کا سب سے اہم ذریعہ قرار دیا ہے، کیوں کہ اس موسم میں قدرتی طور پر انسانی معدہ مقوی اور صحت بخش غذائیں ہضم کر لیتا ہے، پھر وہ شدید سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔

winter in karachiاکثر خواتین موسم سرما سے اس لیے پریشان ہو جاتی ہیں کہ وہ اپنے ساتھ نزلہ، زکام، کھانسی، بخار، نمونیہ اور دوسری بیماریاں لے کر آتا ہے۔ خصوصا بچے ایسے میں احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے۔ سرد اور خشک ہوائیں ان کو بیمار ڈال دیتی ہیں۔ سردیوں کے شروع ہوتے ہی فضاء کی قدرتی نمی میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ خشک موسم کی وجہ سے کچھ لوگوں کی حساس جلد تڑخنے لگتی ہے۔ نہ صرف چہرے بلکہ ان کے ہاتھوں، پیروں کی جلد بھی اس موسم میں پھٹ جاتی ہے۔ سردیوں میں ہیٹر اور تیز گرم پانی کے استعمال سے بھی جلد مزید خشک ہوجاتی ہے۔ اگر ابتدا سے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں، تو کلی طور پرتو نہیں مگر جزوی طور پر بہت سی پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

سونے سے قبل ہاتھوں کی حفاظت کے لیے ناریل کے تیل میں موم ملا کر لگائیں پھر دستانے پہن کر سوجائیں۔ اسی طرح پھٹی ایڑیوں کو پہلے نیم گرم پانی سے دھو کر میل کچیل سے صاف کرلیں، پھر ایڑیوں میں موم لگاکر موزے پہن کر سوجائیں۔ چہرہ زیادہ تر کھلا رہتا ہے اس لیے براہ راست سرد ہوائوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ موسم سرما میں باہر نکلتے ہوئے اسے حجاب سے ڈھانپ کر رکھیں۔ ٹھنڈے دودھ یا بادام کے تیل سے چہرے کی جلد کی مالش کریں،خشکی دور ہو جائے گی۔

خواتین سردیوں سے اپنی جلد کی حفاظت کے لیے خصوصی ماسک کا استعمال ضرور کریں۔ انڈے کی سفیدی میں تھوڑا سا کارن فلور ملا لیں۔ پھر اس میں آدھا چمچہ شہد، چند قطرے عرق گلاب اور زیتون کے تیل کے ملائیں۔ ان سب کو اچھی طرح پھینٹ لیں پھر آخر میں تازہ کریم ملا کر یہ آمیزہ چہرہ پر لگالیں۔ پندرہ منٹ بعد نیم گرم پانی سے اتار کر چہرے پر عرق گلاب کا اسپرے کریں۔ یہ نسخہ ہفتے میں ایک بار استعمال کریں۔ چہرے کی جلد نرم و شاداب ہو جائے گی۔ اس موسم میں بالوں میں خشکی اور سکری کی شکایت ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ بال بھی ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اس لیے موسم سرما میں بالوں کو خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیتون کے تیل میں چند قطرے لیموں کے رس کے ملا کر بالوں کا اچھی طرح سے مساج کریں۔

دہی میں ایک انڈا ملا کر خوب پھینٹ لیں۔ اب اس میں چند قطرے ناریل کا تیل ملائیں نہانے سے آدھا گھنٹہ قبل بالوں میں خوب اچھی طرح لگالیں۔ پھر نیم گرم پانی سے سر دھولیں۔ خشکی کا خاتمہ ہوجائے گا۔

سردی سے بچائو کے لیے بتدریج گرم اور اونی کپڑوں اور سوتے وقت کمبل اور لحافوں کا استعمال ضروری ہے۔ اسی لیے سردی کے شروع ہوتے ہی گرم بستروں، کمبلوں کو دھوپ دکھالیں، شالوں اور اونی کپڑوں کو بھی اسٹور یا ٹرنکوں سے نکال کر ہوا لگالیں، تاکہ وہ پہننے کے قابل ہوجائیں اور ہر قسم کی ناخوش گوار بو کا خاتمہ ہو سکے۔ جب ٹھنڈی ہوائوں کا زور ہو یا اوس گر رہی ہو تو بلا ضرورت کہیں جانے سے گریز کریں، خصوصاً ہلکے کپڑوں یا کھلے سر کے ساتھ رات گئے باہر نکلنا نزلے زکام کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

سب سے زیادہ سردی پیروں میں لگتی ہے۔ اس لیے خواتین اپنے اور بچوں کے لیے کئی جوڑی موزے خرید لیں۔ آج کل صرف ٹخنوں تک کے موزے بھی بازاروں میں نہایت کم داموں میں دست یاب ہیں۔ وہ خرید کردن بھر پہنیں خاص طور پر سوتے وقت پہننے سے سردی میں بڑی پرسکون نیند آئے گی۔ خواتین کو چاہیے کے وہ دھوپ میں بیٹھ کر اپنے بچوں کے پیروں میں زیتون کے تیل سے مساج کریں پھر ان کو جرابیں پہنا دیں۔ سر کو کانوں سمیت ٹوپی سے ڈھانپ دیں۔ بچہ موسم کی شدت سے خاصی حد تک محفوظ رہے گا۔

بہت گرم یا ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے کی جگہ نیم گرم پانی کا استعمال کریں۔ فوری طور پر پنکھے کے نیچے آنے کے بجائے پہلے بال خشک کریں۔ اگر بچہ کا سینہ کمزور ہے تو پہلے سے ایک انڈا ابال کر رکھیں۔ اگر دیسی انڈا مل سکے تو اور بھی اچھا رہے گا۔ نہلانے کے بعد اس پر کالی مرچ اور نمک چھڑک کر کھلائیں۔ تھوڑی مقدار میں سونٹھ، مصری  اور تل لے کر تھوڑے سے پانی میں جوش دے ۔نزلے زکام کے مریض کو دیں، افاقہ ہوگا۔
موسمی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال ضرور کریں۔ یہ قدرت کی حکمت ہے کہ وہ ہر موسم میں پیدا ہونے والی غذا میں اس لحاظ سے صحت بخش خزانے رکھتا ہے، جس کی اس وقت انسانی جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔

اس طرح ہمیں طاقت کے وہ خزانے آسانی سے دست یاب ہوجاتے ہیں، جن کی ہمیں ان موسموں کی شدت سے لڑنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے سردیوں میں گاجر کی فراوانی ہوجاتی ہے، اس کے فوائد بے شمار ہیں۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ سردیوں میں اس کی سبزی پکا کر کھائی جا سکتی ہے یا اس کا تازہ جوس نکال کر پیا جائے۔ اس کے علاوہ اسے بطور سلاد کچا بھی کھایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چقندر، گوبھی، مولی، شلجم اور ہری سبزیاں کھانا چاہییں۔ پھلوں میں سیب، انار اور دوسرے ذائقے دار پھل ملتے ہیں۔ ان قدرتی ذائقوں سے خود بھی لطف اندوز ہوں اور اپنے بچوں کو شروع سے ان کا عادی بنایا جاسکتا ہے۔ سردیوں میں پنیر، انڈے، مچھلی اور گوشت کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے۔ اگر دست یاب ہوں تو خشک میوہ جات ضرور کھانا چاہییں۔ یہ جلد کو قدرتی طور پر حرارت فراہم کرتے ہیں۔

کھانے کے بعد ادرک اور پودینے کی چائے ہاضم ثابت ہوگی۔ سونے سے قبل بچوں کو نیم گرم دودھ دینا مفیدہوگا۔ اس طرح وہ پرسکون نیند سوئیں گے۔ اگر دودھ ابالتے وقت چٹکی بھر دار چینی کا سفوف ملالیں تو دودھ نہ صرف جسم میں حرارت پیدا کرے گا بلکہ پینے میں بھی اچھا لگے گا۔

اتنی احتیاطی تدابیر کے ساتھ موسم سرما ہمارے لیے مثبت مصروفیت لائے گا۔ بدلتے موسموں کے ساتھ اپنے رہن سہن اور معمولات میں تبدیلیاں لازمی ہیں، تب ہی ہم اس خوب صورت موسم سے مکمل طور پر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

Top