بڑھتی مہنگائی اور سیکورٹی خدشات (حافظ عاکف سعید)

Increasing inflationاس وقت ہماری قوم کا بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف تو ہم بری طرح مقروض ہیں ۔اتنے مقروض کہ ہم اپنی پالیسیاں خود نہیں بناسکتے ۔باہر کی ڈکٹیشن پر کاروبار حکومت چل رہا ہے۔حقیقت میں معاشی طور ہم غلام بن چکے ہیں جس کا ہمیں ادراک ہونا چاہئے ۔قرض دینے والے ہمارا بازو مروڑ کر جو چاہیں فیصلہ کرواتے ہیں۔مہنگائی کی خوفناک لہر کا قوم کو سامنا ہے۔ خوراک سے متعلق جو بنیادی چیزیں جیسے پیاز ، ٹماٹر وغیرہ قوم کے ہر فرد کی ضرورت ہیں ۔پیٹ کے جہنم کی آگ کو تو ٹھنڈا کرنا ہوتا ہے۔یہ اشیاءتعیشات میں شمار نہیں ہوتیں، لیکن یہ بھی لوگوں کی دسترس سے باہر ہوکر آسمان پر پہنچ چکی ہیں ۔سورہ نحل کی آیت 112 یاد آرہی ہے ۔ملک اس وقت اسی آیت کا مصداق بنا ہوا ہے۔ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ مثال بیان فرماتا ہے ایک ایسی بستی کی جس میںمکمل امن و امان تھا ۔لوگ بھی خوش و خرم اور مطمئن تھے اور کوئی خوف و ہراس نہیں تھا۔ اس کی طرف ہر چہار طرف سے رزق چلا آتا تھا۔تمام وسائل رزق اس بستی میں موجود تھے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو سرزمین عطا فرمائی اس پر ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جس میں خوف و ہراس کا کوئی معاملہ نہیں تھا۔نہ سکورٹی کا کوئی مسئلہ تھا۔اس وقت سیکورٹی ایک نا آشنا سا لفظ تھا۔مجھے اپنے بچپن کا دور یاد ہے کہ کبھی ایئر پورٹ پر جانا ہوتا تھا تو اندر تک چلے جاتے تھے۔جو مسافر جارہا ہوتا تھا اس کو بھی سامان پکڑا دیا کرتے تھے جبکہ وہ رن وے تک پہنچا ہوتا تھا۔باہر صرف ایک گارڈ بیٹھا ہوتا تھا۔رزق کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں سارے وسائل عطا کئے اور ساتھ ساتھ چاروں موسم بھی ۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی معدنیات عطا کیں۔اس نے ہمیں کیا کچھ عطا نہیں کیا۔آگے فرمایا کہ بستی والوں نے اللہ کی ان نعمتوں کی ناقدری کی۔اللہ کے احسانات کی قدردانی یہ ہے کہ اس کے آگے سربسجود ہوا جائے ۔ہم اس کے دین پر عمل کرنے والے ہوں۔پس فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی پربھوک اور خوف کے دو عذاب مسلط کردئیے ۔یہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا۔آیت کا ایک ایک لفظ پاکستان کے حالات پر منطبق ہوتا ہے۔جس سیکورٹی کا نام بھی نہ سنا جاتا تھا ، آج یہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔سب سے زیادہ سیکورٹی انہیں درکار ہے جو سیکورٹی کے ذمہ دار ہیں۔

غربت کی لکیر سے لوگ تیزی سے نیچے جارہے ہیں۔بڑے شہروں کو چھوڑیں۔ان بڑے شہروں میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔انہیں دو وقت کی روٹی بھی میسرنہیں۔بنیادیں ضرورتیں جن پر زندگی کا دارومدا ر ہے وہ بھی دسترس سے باہر ہورہی ہیں۔بھوک اور خوف کے دو عذاب اس بستی کی طرح ہم پر بھی مسلط ہیں۔یہ ہماری اپنی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔اس آیت کی تائید ایک اورانداز سے ایک دوسری آیت کررہی ہے۔سورہ مائدہ کی آیت 66 میں اہل کتاب کے بارے میں فرمایا کہ اگر اہل کتاب اللہ کے دین تورات اور انجیل کے مطابق نافذ کرتے تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے بھی اور اپنے قدموں کے نیچے سے بھی ۔اللہ جو شریعت اور نظام دیتا ہے ، جو دین حق عطا کرتا ہے اگر اس کی ناقدری کی جائے توپھر یہی حشر ہوتا ہے جو آج ہمارا ہورہا ہے۔انہوں نے بھی ان کتابوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جو آج ہم قرآن کے ساتھ کررہے ہیں۔اگر ہم اللہ کے دین کو قائم کرتے اور اس کی شریعت کو نافذ کرتے تو اس کا لازمی نتیجہ دنیا میں خوشحالی کی صورت میں نکلتا۔یہ اس اجر کے علاوہ ہوتا جو ہمیں آخر ت میں ملنا ہے۔یہ قرآن کی واضح ہدایت ہے۔

آج ہم پر قرآن کا قانون عذاب نافذ ہوچکا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں بشمول عوام اورکارپردازان حکومت کو اپنی آنکھیں کھولنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہمیں اس کے دین کے ساتھ خلوص و اخلاص اور وفاداری کا طرز عمل اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ اس کی رحمت ہمارے شامل حال ہو۔موجودہ صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے ورنہ نہیں پتہ ہمیں آئندہ کس بدحالی کا سامنا کرنا پڑے۔

Top