استحکام پاکستان

pakistanتحریر: حافظ عاکف سعید
محترم قارئین! 23مارچ کا دن پاکستان کی تاریخ میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ23مارچ 1940ءکو قرار داد پاکستان منظور ہوئی تھی جو کہ بعد میں قیام پاکستان کی تمہید بنی۔ اسی مہینے سے ہم تنظیم اسلامی کے تحت ملک گیر سطح پر استحکام پاکستان مہم شروع کر رہے ہیں ۔ اس لیے کہ آج پاکستان شدید طور پر عدم استحکا م کا شکار ہے ۔ اندرونی طور پر ایک طرف ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے اور دوسری طرف معاشی لحاظ سے دیوالیہ ہونے کے قریب ہے ۔ملک کے اہم ترین قومی ادارے آپس میں متصادم ہیں جو کہ ملکی سالمیت اور بقا کے لیے انتہائی مہلک ہے ۔بیرونی طور پر بھی پاکستان عالمی قوتوں کے شدید دباو¿ کا شکار ہے۔ اب امریکا نے ہمیں خاص طور پر فوکس کر لیا ہے اور دن بدن پاکستان پر اس کے اعتاب میں اضافہ ہو رہاہے ۔وہ افغانستان میں اپنی ناکامی کا سار ا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے ۔نائن الیون کے موقع پر امریکا کی طرف سے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں کہ اس سے پہلے ہمارا پاکستان کے ساتھ سلوک ٹھیک نہیں رہا، لیکن اب ہماری دوستی اٹل ہے اور اس دوستی میں اب ہم کوئی کمی نہیں آنے دیں گے۔اس وقت پاکستان کو بڑا اونچا سٹیٹس دیا گیا تھا۔اس لیے کہ اس وقت کے ہمارے فرمانروا پرویز مشرف نے بغیر کسی مشاورت کے یک طرفہ طور پر امریکا کی تمام شرائط مان لی تھیں ۔یہاں تک کہ اس وقت کے امریکا کے سیکرٹری آف سٹیٹ نے بعد میںاپنی کتاب میں لکھا کہ ہمارا خیال تھا کہ پاکستان یہ سارے مطالبات ماننے میںکچھ ہچکچاہٹ محسوس کرے گااور ہمارے درمیان مذاکرات ہوں گے۔کچھ مطالبات مان لیے جائیں گے اور کچھ نہیں مانے جائیں گے۔یعنی وہ ہم سے کچھ مطالبات کی توقع کررہے تھے ۔لیکن وہ کہتا ہے کہ ہمیں حیرت کی انتہانہیں رہی کہ بلاچوں وچرا ہمارے سارے مطالبات مان لیے گئے ۔یعنی ہم مکمل طور پر امریکا کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔

آج وہی امریکا اپنی ناکامی کا سارا الزام ہمارے اوپر دھر رہا ہے اور اس وقت یہ صورت حال پاکستان کی سالمیت کے اعتبار سے کافی گھمبیر بنی ہوئی ہے ۔اسی طرح یورپی یونین بھی بار بار دباﺅ ڈال رہی ہے۔ حال ہی میں یورپی یونین نے پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کے لیے شرائط رکھی ہیں۔ان شرائط میں خاص طور پر اقلیتوں کے حقوق اور آسیہ بی بی کی رہائی سرفہرست ہیں ۔اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے تو میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے عام شہریوں کو اتنے حقوق حاصل نہیں ہیں جتنے اقلیتوں کو حاصل ہیں ۔ان کے ساتھ حسن سلوک اچھی بات ہے ۔لیکن اگر کوئی عیسائی مسلمان ہو جائے تو یہ اتنا بڑا جرم بن جاتا ہے کہ پھر ہماری عدالتیں بھی اس کو پناہ نہیں دیتیں ۔بجائے اس کے کہ اس کو سپورٹ کیا جائے سرکاری طور پر اسے مطعون کیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ اس کا قافیہ حیات تنگ کر دیا جاتا ہے۔گویا دنیا تو حقوق کا مطالبہ کرتی ہے مگر ہم اس سے بھی بڑھ کر ان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔ چنانچہ دوسری شرط یہ رکھی گئی کہ ملعون آسیہ بی بی کو رہا کیا جائے تب پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس بحال ہو گا۔جی ایس پی سٹیٹس ختم ہونے کا مطلب ہے کہ ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری بیٹھ جائے گی ۔لیکن دوسری طرف ملعونہ آسیہ کا کیس ایسا نہیں ہے کہ اس میں کوئی شبہ ہو ۔اس نے باقاعدہ جرم کا اقرار کیا ہے اور اس کوجو سزا سنائی گئی ہے وہ ہمارے آئین کا حصہ ہے ۔عدالت نے اس کو دس سال پہلے موت کی سزا سنادی تھی مگر اب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ۔ جبکہ ممتاز قادری کو فوری طور پر پھانسی دے دی گئی ۔گویا جو عاشق رسول تھا اس کو سزا دینے میں کوئی تاخیر نہیں کی گئی لیکن جو گستاخ رسول ہے اس کو یہاںسزا نہیں دی جا سکتی۔ بلکہ ایک موقع پر حکومت اس کو رہاکرنے پر تل گئی تھی لیکن جب دینی جماعتوں نے تحریک چلائی تو پھر حکومت ایسا نہ کرسکی۔اس کا مطلب ہے کہ کہنے کوتوہم آزاد ہیں لیکن حقیقت میں غلام ہیں ۔یہ سب کچھ کیوں ہے ؟ساری دنیا میں ہمارے ساتھ یہ سوتیلا سلوک کیوں ہورہا ہے ؟اس کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے ۔اصل بات اقبال نے کہہ دی ہے کہ

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری

یعنی یہ مت سوچو کہ مغرب نے جس طرح ترقی کی ہے ہم بھی اُن کے نقش قدم پر چل کر اُسی طرح ترقی کر لیں گے ۔دوسری قومیں بڑی متحد اور مستحکم ہیں ہم بھی ان کی نقالی کریں گے تو ہمارا ملک بھی اسی طرح مستحکم ہو جائے گا ۔جیسے کہ ہمارے وزیراعلیٰ صاحب یورپ میں ٹیمیں بھیجتے تھے کہ وہاں جا کر جائز ہ لو کہ ان قوموں نے کیسے ترقی کی ہے اور واپس آکر رپورٹ دو تاکہ ہم بھی ان کی طرح قدم اُٹھائیں ۔نظام تعلیم کے حوالے سے بھی ہم مغرب کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ جیسا نظام تعلیم وہاں پر ہے وہی یہاں بھی ہونا چاہیے ۔جبکہ اقبال اسی سوچ کی نفی کر رہے ہیں کہ ایک اسلامی ملک کے استحکام اور ترقی کے پیمانے کچھ اور ہیں اور غیر مسلم ممالک کے طریقے کچھ اور ہیں ۔یعنی دنیا کی باقی قومیں جن بنیادوں پر ترقی کرتی ہیں تو وہ بنیادیں اُن کے اپنے لیے ہیں ، ہمارے لیے نہیں ہیں۔مغرب کی طرف دیکھ کر یہ سوچنا کہ ہمارے ہاں بھی مغرب کی طرح مخلوط تعلیم ہونی چاہیے ، اسمبلیوں میں خواتین سیٹیں ہونی چاہییں۔ چاہے اس کے لیے خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا جائے جو مغرب میں بھی نہیں ہوتا۔ یہ بڑا خوفناک اور اندوہناک قدم ہے جس کے نتیجے میں ملک تیزی سے گراوٹ کی طرف جا رہا ہے ۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میںواضح فرمایا دیا ہے کہ :”اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مو¿من ہوئے۔“ (آل عمران:139)

آج کی مادہ پرستانہ دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مذہبی عناصر بھی اس سوچ سے ہٹ چکے ہیں ۔الاماشاءاللہ ۔ حالانکہ مسلمانوں کی قوت کا دارومدار،دنیا میں سربلندی اور عزت صرف اس پر منحصر ہے کہ ہم ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں ۔یہ اللہ کا اٹل فیصلہ ہے ۔اس میں کوئی ابہام نہیں ہے ۔اسی کی وضاحت کرتے ہوئے حضور ﷺ نے فرمایا کہ: ”اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعے سے کچھ قوموں کو بامِ عروج تک پہنچائے گا اور اسی کو ترک کرنے کے باعث کچھ کو ذلیل وخوار کر دے گا۔“(مسلم)

مسلمان قر آن کومضبوطی سے تھامیں ، اپنے دینی تقاضے پورے کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں سربلندی اور عزت عطا کرے گا ۔دنیا میں اقتدار ،غلبہ اور شہرت سب کچھ ملے گا اور اگر دین ،قرآ ن سے پیچھے ہٹ گئے تو پھر اللہ تعالیٰ ذلیل وخوار کرے گا۔ہم اگر رسول ہاشمی ﷺ کی امت میں سے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیںتو پھرہمیں اپنی آنکھیں کھولنی پڑیں گی کہ اس ملک کی بقائ، اس کی ترقی ،اس کی عزت اسلام کو قائم کرنے اوراس کے تقاضے پورے کرنے میں مضمر ہے۔

پاکستان کا وجود کسی معجزے سے کم نہیں ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری دعاﺅں اورقربانیوں کے نتیجے میں ہمیں عطاکیا تھا۔ہم نے بحیثیت قوم اللہ سبحانہ¾ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھاکہ اگر تو ہمیں انگریز کی غلامی اور ہندو کی بالا دستی سے نجات دلا کر ایک آزاد خطہ عطا کرے گاتو ہم لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کی بنیاد پر ایک اجتماعی نظام قائم کرکے دنیا کے سامنے ایک مثالی اسلامی ریاست کا نمونہ پیش کریں گے۔جبکہ زمینی حقائق یہ تھے کہ بظاہر مسلمانوں کے لیے کسی آزاد خطے کے حصول کا دور دور تک کوئی امکان تھا ہی نہیں۔مسلمانوں نے آٹھ سو سال برصغیر پر حکومت کی ۔ اس کے بعد انگریز آئے اور مسلمان کمزور ہو گئے۔ انگریزوں نے ہندوو¿ں کو ہر سطح پر سپورٹ کیا ، انہیں مسلمانوں پر ترجیح دی اور ہر شعبے میں ان کو آگے بڑھایا ۔ چنانچہ ہندو انگریز کی مدد سے تعلیم ، روزگار ، معیشت سمیت تمام شعبوں میں مسلمانوں سے آگے نکل گئے ۔اس کے ساتھ ہی ساتھ انگریزوں نے ہندوو¿ں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کوٹ کوٹ کر بھر دی ۔انہیں بتایا گیا کہ باہر سے آئے ہوئے مٹھی بھر مسلمانوںنے تم پر آٹھ سو سال حکومت کی جو کہ تمہارے ساتھ ایک بہت بڑا ظلم تھا ۔حالانکہ ایسا بالکل نہیں تھا ، مسلمانوں کی حکومتوں میں اوپر کے لیول پر اگرچہ بادشاہی نظام تھا لیکن نیچے کی سطح پر شرعی نظام رائج تھا ۔عدالتیں اسلامی قوانین کے مطابق فیصلے کرتی تھیں لہٰذا ہندوو¿ں کے ساتھ رواداری برتی جاتی تھی اور وہ مسلمان حکومتوں میں بڑے بڑے عہدوں پر بھی فائز رہے ۔اس وقت ہندوو¿ں کو مسلمانوں سے کوئی شکایت نہیں تھی ۔یہی وجہ تھی کہ 1857ءکی جنگ آزادی میں ہندو اور مسلمان ساتھ ساتھ تھے ۔مگر بعد میں انگریزوں نے عیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے devide and ruleکے فارمولے کے تحت ہندوو¿ں کو مسلمانوں کے خلاف اُکسانا شروع کیا تحت اور اس کے ساتھ ساتھ انگریزوں نے برصغیر کی تاریخ کو بھی مسخ کر کے اپنی مرضی کی تاریخ مرتب کی جس میں مسلمانوں کو ظالم ، جابر اور غاصب ظاہر کیا گیا ۔چنانچہ ہندو کسی صورت میں بھی یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ برصغیر میں مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ملک بن جائے ۔ان کا سب سے بڑا قائد گاندھی تھا ، جو کہتا تھا کہ پاکستان میری لاش پرہی بن سکتا ہے ورنہ نہیں ۔ان حالات میں جبکہ انگریز ، ہندو اور مسلمانوں کا بھی ایک طبقہ پاکستان بننے کے خلاف تھا ، پاکستان کے بن جانے کا کوئی امکان نہیں تھا ۔لیکن سورة الانفال میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : ”اور یاد کرو جبکہ تم تھوڑی تعداد میں تھے اور زمین میں دبا لیے گئے تھے‘تمہیں اندیشہ تھا کہ لوگ تمہیں اُچک لے جائیں گے‘ تو اللہ نے تمہیں پناہ کی جگہ دے دی اور تمہاری مدد کی اپنی خاص نصرت سے اور تمہیں بہترین پاکیزہ رزق عطا کیا‘ تاکہ تم شکر ادا کرو۔“(آیت :26)

یہ آیات اصلاً تو مکہ کے مسلمانوں کے لیے اُتری تھیں لیکن وہی الفاظ پاکستان کی تاریخ پر بھی منطبق ہو رہے ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بالکل مسلمانان ِ پاکستان کو مخاطب کیا جارہا ہے ۔یہ بھی برصغیر میں قلیل تعداد میں ہونے کی وجہ سے دبا لیے گئے ، انگریز اور ہندو دونوں ان کے دشمن بن گئے تھے اور انہیں اندیشہ تھا کہ دشمن انہیں صفحہ¿ ہستی سے ہی مٹا ڈالیں گے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت ہندووں نے برصغیر میں شدھی اور سنگھٹن تحریکیں شروع کر رکھی تھیں جن کا واحد مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو دوبارہ ہندو ازم میں لایا جائے ۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ باہر سے تو تھوڑے ہی مسلمان آئے ہیں ، باقی یہیں کے مقامی لوگ ہیں جو مسلمان ہو گئے ہیں ۔ لہٰذا ہندو اب ان کو دوبارہ ہندومت میں لانے کی بھرپور پلاننگ کر رہے تھے ۔ یہ تحریکیں برصغیر میں بڑے زور وشور سے شروع ہوئیں اور اس کے نتیجے میں کافی مسلمان ہندو بن گئے تھے ۔خاص طور پر میوات کے علاقے میں یہ تحریک بڑی کامیاب جارہی تھی۔اس لیے کہ لوگ مسلمان تو ہوگئے تھے، نام مسلمانوں والے تھے لیکن دین کا کچھ پتا نہیں تھا کہ شریعت کیا ہے ،لہٰذا جن جن علاقو ں میں علم دین کی شعاعیں نہیں پہنچی تھیں وہاں کے لوگ بڑی تیز ی سے واپس ہندوا زم میں جانا شروع ہوگئے ۔اس وقت یہی اندیشہ ہورہا تھا کہ یہ ہندو ہمیں بالکل ختم کرکے چھوڑے گا۔ ان حالات میں علیحدہ وطن کا حاصل ہو جانا ایک معجزہ ہی تھا ۔یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی تائید سے حاصل ہوا تھا ۔یہی بات قائد اعظم نے اپنے آخری ایام میں کہی تھی۔ڈاکٹر ریاض علی شاہ جو قائداعظم کے معالج تھے ، بالکل آخری ایام میں ان کے ساتھ تھے ۔ کہتے ہیں ایک دن ہمیں محسوس ہوا کہ قائداعظم کچھ کہنا چاہتے ہیں ۔ جب ہم نے غور کیا تو وہ کہہ رہے تھے تم اندازہ نہیں کر سکتے کہ جب میں یہ سوچتا ہوں کہ پاکستان بن گیا ہے تو مجھے کتنی خوشی ہوتی ہے ۔ مگر ایسا صرف اللہ کی نصرت اور فیضان رسول ﷺ سے ممکن ہوا ہے ۔ اب مسلمانان پاکستان کو چاہیے کہ وہ یہاں خلافت راشدہ کا نمونہ قائم کریں ۔ایک ہے انفرادی لحاظ سے اسلام پر عمل کرنا ۔یہ مسلمانوں میں آج بھی کہیں کہیں نظر آجائے گا ۔ جیسا کہ اقبال نے کہا

خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشک سحرگاہی سے جو ظالم وضو

مگر جو اسلام کا اجتماعی نظام ہے وہ کہاں ہے ؟وہ تو سرے سے ہے ہی نہیں ۔آج پاکستان میں اسلام رتی بھر بھی نہیں ہے ۔سارا نظام انگریز کا ہم چلا رہے ہیں۔ حالانکہ یہ پاکستان اللہ سبحانہ کی غیبی تائید سے وجود میں آیا تھا اور قائد اعظم کی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ اب مسلمانوں کے لیے یہاں اسلام نافذ کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہیتھی ۔ جب اس خطے میں سو فیصد مسلمان ہیں ۔اب یہاں نہ انگریز رکاوٹ ہے ،نہ ہندو رکاوٹ ہے ،نہ سکھ رکاوٹ ہے ۔اب تو مسلمانوں کے لیے کوئی آپشن ہی نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہی اصل نظام جو حضور ﷺ نے دیا تھا وہ قائم کریں ۔سوفیصد یہی بات ہے جو قرآن میں ہے ۔ ”تو اللہ نے تمہیں پناہ کی جگہ دے دی اور تمہاری مدد کی اپنی خاص نصرت سے اور تمہیں بہترین پاکیزہ رزق عطا کیا‘ تاکہ تم شکر ادا کرو۔“ شکر کا تقاضا یہ تھاکہ بلا تاخیر اللہ سبحانہ¾ وتعالیٰ کے دین کو قائم ونافذ کرتے۔ مگر تاخیر ہوتے ہوتے 70 سا ل ہوچکے ۔ہماری اس مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ہمارا آدھا جسم کٹ چکا ہے مگر سبق ہم نے پھر بھی نہیں سیکھا ۔اب بھی یہ پاکستان انڈیا کے سینے کا ناسور بنا ہوا ہے ، آج بھی ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں 1947ءمیں کھڑے تھے ۔یہ ہمارا بہت بڑا المیہ ہے ۔

اللہ تعالیٰ جب کسی فرد یا قوم کو کوئی بہت بڑا انعام عطا کرے اور اس کے بعدوہ اللہ سبحانہ¾ وتعالیٰ کی نعمت کی ناقدری کرے اور ناشکرا بن جائے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا سورة التوبہ میں یہ مضمون آیا ہے۔ ”اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے نواز دے گاتو ہم خوب صدقہ وخیرات کریں گے اور نیک بن جائیں گے۔‘ پھر جب اللہ نے انہیں نواز دیا اپنے فضل سے (غنی کر دیا)تو انہوں نے اس دولت کے ساتھ بخل کیا اور پیٹھ موڑ لی اور اعراض کیا۔“تو اللہ نے سزا کے طور پر ڈال دیا ان کے دلوں میں نفاق‘(اور یہ نفاق اب رہے گا) اُس دن تک جس دن یہ لوگ ملاقات کریں گے اُس سے‘ بسبب اُس وعدہ خلافی کے جو انہوں نے اللہ سے کی اور بسبب اس جھوٹ کے جو وہ بولتے رہے۔“(آیت :75تا77)

ایک شخص تھا جو حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ !میرے لیے دعا کریں کہ میرے کاروبار میں برکت ہوجائے ۔اس کے پاس کچھ بھیڑ بکریاں تھیں ۔اللہ کے رسول ﷺ نے ٹال دیا ۔وہ پھر دوسری طرف سے آگیا،پھر آپ ﷺ نے ٹال دیا۔کیونکہ آپﷺ کی فراست دیکھ رہی تھی کہ یہ اپنے لیے کوئی مصیبت پیدا کر رہا ہے ۔لیکن جب وہ بہت ہی مصر ہوا تو آپ ﷺ نے دعا کردی جس سے اس کے ریوڑ میں بہت برکت ہوگئی اور مدینہ سے باہر وادیاں اس کے ریوڑ سے بھرگئیں ۔لیکن جب مسلمان سال کے بعد اس سے زکوٰة لینے کے لیے گئے تو اس نے زکوٰة دینے سے انکا رکر دیا۔ آنحضور ﷺ کو علم ہوا توا ٓپ ﷺ نے فرمایا کہ اس نے اپنے لیے بہت بُرا کیا ہے ۔آپﷺ نے بڑے سخت الفاظ اس کے لیے استعمال کیے ۔اس کے رشتہ داروں کو پتا چلا تو وہ اس کے پاس گئے کہ دیکھو اللہ کے رسو لﷺ نے تمہارے لیے بدعا کی ہے ۔تم جاکے معافی مانگو۔پہلے تو وہ مانا نہیں لیکن پھر ان کے دباﺅ پر چلا گیا ۔بہرحال اسی کے بارے میں قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی ۔والد محترم رحمہ اللہ کی زبان سے یقینا آپ نے سنا ہوگا وہ کہتے تھے کہ پاکستان کا معاملہ بھی یہی ہے کہ ہم نے رب سے دعا کی ایک ایسے ملک کے لیے بظاہر جس کے بننے کا کوئی امکان نہیں تھا ۔ معجزانہ طور پر اللہ نے ہمیں یہ ملک عطا کر دیا اور یہ ایسا بہترین خطہ ہے کہ ہر طرح کے وسائل سے مالا مال ہے ۔ لہٰذا شکر گزاری کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہم یہاں دین کو قائم کرتے کیوں کہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ اگر ہمیں یہ ملک حاصل ہو جائے تو ہم اللہ کے دین کو قائم کریں گے ، اللہ کے شکر گزار بنیں گے مگر ہم اپنے وعدے سے مکر گئے ۔ اس کی پاداش میں ا س قوم میں اللہ تعالیٰ نے نفاق ڈال دیا۔ایک حدیث کی رو سے منافق کی چار نشانیاں ہیں۔ 1۔ جب بولے تو جھوٹ بولے ۔2۔ جب اُس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے ۔3۔ جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے ۔4 جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے ۔

آج یہ چاروں نشانیاں ہم میں موجود ہیں ۔جھوٹ کو ہمارے معاشرے میں برائی سمجھا ہی نہیں جاتا ۔ اپنے مفاد کے لیے جھوٹ بولناہر شخص اپنا حق سمجھتا ہے۔امانت صرف یہی نہیں ہے کہ کسی کے پاس اپنا مال رکھوا دیا ۔ بلکہ ہر ذمہ داری ، ہر منصب ، ہر عہدہ بھی ایک امانت ہے۔ خاص طو ر پر ملکی اعتبار سے سرکاری ذمہ داری کلی طور پر امانت ہے ۔لیکن اس ذمہ داری کے حوالے سے ہمارا تاثر عام طور پر یہ ہے کہ اپنے عہدے سے بھرپور ناجائز فائدہ اٹھایا جائے ۔اگر آپ کسی اچھے عہدے پر ہوں تو آپ کے سارے عزیز رشتہ دار آپ کے پاس اکٹھے ہو جائیں گے ۔دوستی اور رشتہ داری کا لازمی تقاضا یہ سمجھا جاتا ہے کہ غلط بات بھی مانو۔اگر کوئی میرٹ پر نہیں بھی اُترتا تو پھر بھی اس کا کام ہر حال میں ہو نا چاہیے ۔اس وقت ملک میں صادق اور امین پر کافی بحث ہو رہی ہے ۔ یہ عمالکم اعمالکم والاہی معاملہ ہے کہ جیسے ہمارے اعمال ہیں ویسے ہی ہم پر حکمران بھی مسلط ہیں ۔حکمران ہماری پوری قومی اخلاقی حالت کا عکس ہیں ۔الاماشاءاللہ ۔

اسی طرح ہم نے وعدہ کیا تھاکہ ہم اس ملک میں اسلامی نظام لائیں گے مگرہم نے اللہ کے ساتھ وعدہ خلافی کی اور دھڑلے سے کی۔ہمارے ہاں جو حکمران طبقہ ہے وہ تو شروع سے ہی سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھا ہوا ہے ۔لہٰذا دین سے لاتعلق بیوروکریسی وہیں سی بن کر آتی ہے اور اس کا جو کردار ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ پچھلے دنوں ایک صاحب نے لکھا کہ مولویوں کو آپ بہت برا بھلا کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ کیا وہ کیا ۔جبکہ 1947ءسے لے کر آج حکومت انہی کے ہاتھوں میں رہی ہے جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھ کر آئے ہیں ۔ لہٰذا اس تباہی کا زیادہ ذمہ دار کون ہے جس کے کنارے آج ملک پہنچ چکا ہے ۔اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر حکمران طبقہ ٹھیک نہ تھا تو پھر علماءکو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا مگر وہ بھی سیاست کی دلدل میں ایسے غرق ہوئے کہ بقول شاعر

اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
الیکشن، ممبری، کونسل، صدارت
بنائے خوب آزادی نے پھندے

علماءنے بھی اسی کو اپنا منتہائے مقصود بنا لیا کہ اگر اسلام آئے تو اسی راستے سے آئے گا نہیں تو پانچ سو سال اور گزر جائیں گے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے ۔لیکن اب مہلت ہمارے پاس کتنی ہے یہ اللہ ہی کو پتا ہے اور کیوں ہمیں اللہ نے مہلت دی رکھی ہے ۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے ورنہ بڑے عذاب کے لیے ہم نے اپنے آپ کو ثابت کردیا ہے ۔

آج کل قائد اعظم کے بارے میں شکوک وشبہات پھیلائے جارہے ہیں کہ قائد اعظم تو ایک سیکولر آدمی تھے اورا ن کے ذہن میں کوئی اسلامی نظام کا نقشہ نہیں تھا۔ حالانکہ 100سے زیادہ بیانات ایسے ہیں جن سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی مثالی ریاست بنانا چاہتے تھے ۔اس حوالے سے والد محترم رحمہ اللہ نے علامہ اقبال ،قائد اعظم اور نظریہ¿ پاکستان کے عنوان سے پاکستان کے مختلف بڑے شہروں میں خطاب کیے تھے ۔اب ان کا خلاصہ ” قائداعظم ، علامہ اقبال اور نظریہ¿ پاکستان “ کے عنوان سے کتابی شکل میں موجود ہے۔ قائداعظم نے پشاور میں سٹیٹ بینک کی عمارت کے افتتاح کے موقع پرخطا ب کرتے ہوئے کہا تھا کہ : ”میں اشتیاق اور دلچسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی ریسرچ آرگنائزیشن بینکاری کے ایسے طریقے کس خوبی سے وضع کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں ۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے بے شمار مسائل پیدا کر دیے ہیں اکثر لوگوں کی یہ رائے ہے کہ مغرب کو اس تباہی سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے ۔ یہ تباہی مغرب کی وجہ سے ہی دنیا کے سر پر منڈلا رہی ہے ۔ مغربی نظام انسانوں کے مابین انصاف اور بین الاقوامی میدان میں آویزش اور چپقلش دور کرنے میں ناکام رہاہے ۔“

اس وقت دنیا میں اصل مسئلہ ہی سود کا نظام ہے۔ انہوں نے سود کو condumکیا اورکہا کہ صحیح اسلامی معاشی نظام آنا چاہیے ۔ یہ ان کے انتقال سے چند ماہ پہلے کی بات ہے۔لیکن ہمارے دانشور یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ پاکستان بنا تو تھا لیکن یہ اسلام کے نام پر نہیں بنا تھا اس کے صرف معاشی محرکات تھے ۔اگر ایسا تھا تو تب بھی بحیثیت مسلمان ہماری اخلاقی ، دینی ، روحانی اور ہر اعتبار سے ذمہ داری ہے کہ اگر ہمیں آزاد خطہ مل گیا ہے تو ہم خود بھی اللہ ورسولﷺ کے تابع فرمان ہوں او راللہ ورسولﷺ کا دیا ہوا نظام قائم کریں ۔جب ہمیں اختیار مل گیا تو ہمارے پاس دوسرا آپشن کوئی نہیں ہونا چاہیے تھالیکن ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہم اس ذمہ داری سے منحرف ہو رہے ہیں ۔

تنظیم اسلامی کے پلیٹ فارم سے استحکام پاکستان مہم کا آاز 2مارچ سے ہوچکا ہے اور انشاءاللہ 23مارچ تک جاری رہے اس مہم کا مقصد قائد اعظم کی اصل سوچ اور ہماری اصل منزل کیا تھی اور اس وقت ہم کہاں کھڑے ہیں اس حوالے سے عوام میں شعور پیدا کرنا ہے۔اس وقت ہم اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس عذاب سے بچائے ۔لیکن ہمارے گرد شکنجہ کسا جارہا ہے۔ اگر اللہ کی مد د ونصرت ہوگی تو پھر کوئی بڑے سے بڑا شکنجہ چاہے وہ امریکا کا ہویا پوری دنیا کا ہواس کی کوئی حیثیت نہیں ۔اللہ کے جو مخلص بندے تھے وہ نہتے ہونے کے باوجود بھی اللہ کے بھروسے پر ڈٹے رہے ، آج ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اُن کو زیر نہیں کر سکیں ۔ حالانکہ سائنس و ٹیکنالوجی میں عالمی طاقتوں کی ترقی ماو¿نٹ ایورسٹ کو بھی نیچا دکھا رہی ہے ۔اسی طرح ہم بھی تب بچ سکیں گے جب ہمارے ساتھ اللہ کی مدد ہو گی اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اللہ ورسولﷺ کے وفادار بن جائیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں سچے مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !

Top