صبر و استقامت اور شکرگزاری (جمشید یوسف)

sabar1یوں تو صبر ایک چھوٹا سا لفظ ہے تین حروف سے ملکر ایک لفظ بن گیا۔ لیکن اگر ہم اس لفظ پر غور کریں۔ تو یہ ایک بہت ہمت اور برداشت والا کام ہے۔

اس دنیا کے اندر اکثر اوقات بلکہ یوں کہہ لیں کہ ایک ہی بات ہر دفعہ استعمال ہوتی ہے۔ جب کوئی وفات پا جائے تو ہم ان کے گھر والوں کو کچھ الفاظ بولتے ہیں۔ جن میں اللہ کا حکم اور اللہ آپ سب کو صبر عطا فرمائے بولنے میں کتنا آسان اور سیدھا سا لفظ ہے لیکن برداشت کرنے میں اس جیسا کوئی فعل نہیں۔ اس لیے تو قرآن پاک میں ارشاد ہے۔ ” بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ” آخر یہ وجہ کیوں پیش آئی؟ کیوں اللہ تعالی نے صبر کرنے والے لوگوں کو اپنے ساتھ کی وعید سنائی؟

کیونکہ کسی بھی آزمائش پر صبر کرنا انتہا کا مشکل ہے۔ اور اللہ تعالی خود انسان کے اندر صبر و تحمل پیدا کرتے ہیں اور اسی آزمائش ومصیبت میں اس رب عزت کا شکرادا کرنا چاہیے بلکہ ہمیں ہر حال میں اس ذات کا شکر ادا کرنا چاہیے

اللہ تعالی خود انسان کو صبر دیتے ہیں۔ وہ ذات بھی آزمائش و مصیبت انسان کی برداشت اور طاقت کے مطابق ڈالتی ہے لیکن اگراس کے متضاد جائیں تو کچھ لوگ صدمے خواہ وہ کسی بھی نوعیت کا ہو کو برادشت نہیں کر پاتے اور اسی صدمے میں پاگل ہو جاتے ہیں یا پھر اپنی زندگی سے ہاتھ دو بیٹھتے ہیں۔ اس مصیبت کو برداشت نہیں کر پاتے اور اپنی ہی زندگی کے دوشمن بن جاتے ہیں۔ پتا نہیں ان کے صبر کا پیمانہ کب کیسے کس وقت لبریز ہوگیا۔

ایک بزرگ مسجد میں بیٹھے اللہ سے شکوہ کرنے لگے اے اللہ ننگھے پاؤں ہیں ایک جوتا ہی دے دے بڑی دیر ہوگئی یوں ننگھے پاؤں گھومتے پھرتے، مسجد سے باہر نکلے تو دیکھا ایک آدمی جس کے پاؤں ہی نہیں تھے تو دیکھ کر آنکھوں میں آنسوں آگیئے اور اپنے رب کا شکر ادا کرنے لگے چلو جوتے نا سہی لیکن تیرا بہت شکرگزار ہوں مجھے دونوں پاؤں سہی سلامت دئیے۔

انسان مصیبت اور آزمائش میں شکر ادا اس وقت کرتا ہے جب وہ اپنے سے نچلے طبقے کو دیکھے دوسروں کے دکھ درد سنے تب انسان جانتا ہے کہ اس کے دکھ و تکلیف دوسرے لوگوں سے کتنے مختلف اور تھوڑے ہیں۔

پریشانی تذکرہ کرنے سے بڑھتی ہے تو خاموش رہنے سے کم ہوتی ہے صبر کرنے سے ختم ہوتی اور اللہ کا شکر ادا کرنے سے خوشی میں بدل جاتی ہے۔

مرگئے لٹ گئے برباد ہوگئے یہ سب کہنے سے مصیبت کم نہیں ہوتی بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوتا ہے گویا جو انسان صبر کی رہ پر گامزن ہے وہ بھی ایسا دیکھ کر سن کر صبر کی رہ سے دگھمگا جائے۔

پریشانی مصیبت کچھ تو ہماری اپنی پیداوار ہوتی ہیں لیکن بعض اوقات اوپر والا اپنے بندے کو آزماتا بھی ہے۔
اللہ کے جتنے پیغمبر اس کرہ عرض پر آئے ہر نبی پر کوئی نہ کوئی آزمائش ضرور آئی اور انہوں نے اس آزمائش پر صبر کا مظاہرہ کیا حضرت آدم سے صبر کا آغاز ہوا۔ اور اس کی سب سے بڑی مثال آخری الزماں پیغمبر حضرت محمد جن کی زندگی ہمارے لیے نمونہ حیات ہے جن کی ساری زندگی صبر پر مبنی ہے ہر قسم کی تکلیف میں صبر کیا غربت دیکھی مارئیں کھائیں بیٹوں کی جدائی برداشت کی لیکن اپنے رب سے کوئی شکوہ نہیں کیا بلکہ ہر حال میں شکر ادا کیا۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں تقریبا ہر انسان کسی نہ کسی وجہ سے پریشان ہے کسی کی بڑی اور کسی کی چھوٹی پریشانی ہے کوئی نوکری کی وجہ سے پریشان تو کوئی نوکری نہ ملنے پر پریشان، کسی کی ماں نہیں تو کسی کا پاب نہیں، کوئی پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے پریشان اور کوئی پیسے زیادہ ہونکی وجہ سے پریشان۔
اس کے باوجود ہر انسان ان پریشانیوں کو لیتے ہوئے اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں رولیا افسرودہ ہو لیا لیکن آخر صبر تو کر ہی لیا۔

صبر کا سفر لمبا اور گھٹن ضرور ہے لیکن ہمیشگی والا نہیں جوں جوں انسان زندگی کی بھاگ دور میں داخل ہوتا ہے توں توں اس کے صبر کا معیار بہتر سے بہتر ہوتا چلا جاتا ہے جس طرح عمر گزرتی چلی جانی ہے اسی طرح زندگی کی باریکیوں کی سمجھ آنی شروع ہوجاتی ہے

بہترین دنوں کے لیئے برے دنوں سے لڑنا پڑتا ہے لیکن دن کبھی ایک جیسے نہیں رہتے ہر چیز کو زوال ہے اور ہر زوال کو عروج، ہر کام کا ایک ٹائم مقرر ہے صبر کرکے اچھے وقت کا انتظار اور برے وقت کو گزارا جاسکتا ہے۔

اللہ تعالی پے بھرسہ اور محنت سے کام لینا چائیے اگر اللہ نے وہ لے لیا جسے کھونے کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تو یقینا اللہ تعالی کچھ ایسا بھی دے گا جسے پانے کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے Ups and downs زندگی کا حصہ ہیں۔ اگر خوشیاں ہیں تو صدا نہیں رہنے والی اور اگر غم ہے تو صدا وہ بھی نہیں رہنے بس زندگی ایک سرکل میں گھوم اور چل رہی ہے قدرت کا نظام ہے اور یہ تاقیامت چلتا رہنا ہے –

Top