جیتو پاکستان، جیو کھیلو پاکستان یا گیم شو ایسے چلے گا؟

تحریر: عبدالرحمن عاجز (لکھاری سے فیس بک پر رابطہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں)
1پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخی حیثیت:
پاکستان ٹیلی ویژن کے قیام کا فیصلہ اکتوبر 1963 میں کر لیا گیا تھا جبکہ اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے بالآخر 26 نومبر 1964، بھرپور اہمیت کا حامل وہ دن آیا تھا جب لاہور میں صدر ایوب نے باقاعدہ افتتاح کیا جبکہ پہلا اعلان طارق عزیز نے پہلے کیمرہ مین انیس احمد کے ساتھ نہایت ہی عمدگی و شائستگی سے کیا۔ بعد ازاں 2 نومبر 1967 کراچی سینٹر اور راولپنڈی جبکہ 1974 میں پشاور و کوئٹہ سے بھی پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات کا آغاز کیا گیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کراچی سینٹر کے سابق جنرل مینجر عبدالکریم بلوچ نے اگست 1975 میں صدر ٹاؤن ایک دکان میں انواع و اقسام کی گھریلو استعمال کی اشیاءفروخت ہوتے دیکھا (جو کہ آج بھی ہیں) اور سوچا کہ کیوں نہ پی ٹی وی میں ایک ایسا پروگرام تشکیل دیا جانا چاہیے جس میں شرکاءکو سوالات کے جوابات دینے پر مختلف انعامات سے نوازا جائے۔ بہرکیف 4 نومبر 1975 کو پہلی بار پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک پروگرام نیلام گھر نشر کیا جانے لگا۔ جس کے پہلے پرڈیوسر عارف رانا تھے جنہوں نے بنیادی خیال کو عملی پروگرام بنانے کے لیے بڑی تگ و دو کی۔ ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے، ہم آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدیدکہتے ہیں۔ یہ وہ دلکش الفاظ تھے جنہیں سننے کے لیے ہفتہ بھر انتظار کرنا پڑتا تھا۔ 28 اپریل 1936 کو ساہیوال میں پیدا ہونے والے طارق عزیزاپنی زبانی کہتے ہیں کہ نیلام گھر کو میں ایک عوامی پروگرام کہتا ہوں کیوں کہ اس میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ آتے ہیں، میرا پروگرام اللہ کے فضل و کرم سے مزدور کی جھونپڑی سے لے کر ایوان صدر تک دیکھا جاتا ہے۔ یہ ایک عوامی پروگرام ہے اس کے ذریعے لوگوں تک علم و معلومات کے خزانے کے ساتھ ساتھ انعامات سے بھی نوازا گیا۔ طارق عزیز نے نیلام گھر، طارق عزیز شو اور پھر بعد میں بزم طارق عزیز کے نام سے ایک طویل ترین عرصے تک پی ٹی وی پر اپنا سکہ جمائے رکھا۔ واقعی ہی ہمارے بڑے بھی ہمیں کاپی پین کے ہمراہ بیٹھنے کا حکم دیا کرتے تھے کیوں کہ تقریباً دو تین دہائیاں قبل کے انعامی شوز میں اسلامی و بین الاقوامی معلومات کثیر تعداد میں ملتی تھی مگر آج کے انعامی پروگرام۔۔۔!
ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہین بچے کو صحبت زاغ

 

جیتو پاکستان 9 جولائی Jeeto-Pakistan-Logo2017:
ARY ڈیجیٹل پر آنے والا پروگرام جس کی میزبانی کے فرائض فہد مصطفی ادا کرتا ہے۔ 1 گھنٹہ 24 منٹ ، 34 سیکنڈز پر مشتمل پروگرام دیکھا جس میں ایک مہران کار، 16 موٹرسائیکلیں، تین LED ، دو عدد جوسر بلینڈر، دو واشنگ مشین، 1 ڈسپینسر، 1 ریفریجریٹر، ایک دبئی کا ریٹرن ٹکٹ، ڈنر سیٹ، بچوں کی گاڑیاں، 50 ہزار نقد، 1 تولہ سونا اورتقریباً 30 عدد بیگز (جن میں یقینا کچھ انعامات ہی ہوں گے) جو شرکاءمیں ویسے ہی تقسیم کیے گئے۔
گیم شو ایسے چلے گا 9 جولائی 42017:
بول نیوز پر آنے والاپروگرام جس کی میزبانی کے فرائض ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ادا کرتا ہے۔1 گھنٹہ 10 منٹ 21 سیکنڈز پر مشتمل یہ پروگرام بھی دیکھ لیا جس میں لوگوں کو12 عدد موٹر سائیکلیں، 1 مرسڈیز بینز (واٹس اپ پر پوچھے گئے سوال کے جواب کی قرعہ اندازی کے ذریعے )، 1 لینڈ کروزر، 1 ٹویوٹا کرولا کار، 2 ٹیبلٹ فون، 1 سپلٹ ائر کنڈیشنڈ اور 5 لاکھ 25 ہزار روپوں کے کوپن دیے گئے۔
جیو کھیلو پاکستان 9 جولائی 52017:
جیو نیوز پر آنے والے اس پروگرام کے میزبان وسیم اکرم اور شعیب اختر ہیں۔ اس انعامی پروگرام میں بھی شرکاء میں سے درست جواب دینے والے افراد کو بے شمار انعامات دیے جاتے ہیں۔
خرافات:
اس نوعیت کے تمام پروگراموں میں اُس وقت بڑا تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے جب بڑی عمر کے آدمیوں کو ڈانس کے لیے کہا جاتا ہے خصوصاً باریش افراد، حالانکہ یہ کم فہم اپنی مرضی سے ہی ڈانس کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں، اس وقت باریش افراد تو ایک موٹر سائیکل کی خاطر بے شرمی کی تمام حدیں پار کر لیتے ہیں مگر اینکر ز کو چاہیے کہ ان باریش ڈانسرز کو داڑھی کی وجہ سے واپس بھیج دیں تاکہ وہ جاتے ہوئے تھوڑی بہت ندامت محسوس کریں۔
گیم شوز اینکرز درج ذیل طریقہ اختیار کریں:
بول نیوز نے ایک مناسب طریقہ کار وضع کیا ہے کہ آپ واٹس اپ کے ذریعے جواب دے سکتے ہیں۔ بذریعہ کمپیوٹر قرعہ اندازی کر کے مرسڈیز بینز دیتے ہیں جو کہ اُن کے مطابق 80 لاکھ روپے مالیت کی ہے۔ میرے نزدیک یہ طریقہ کار نہایت ہی شاندار ہے مگر انعام بہت بڑا ہے جو کہ اتنا نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ کسی ایک ہی کو انعام ملنا ہوتا ہے۔ گیم شوز کے تمام اینکرز کو میںرائے دینا چاہوں گا کہ بذریعہ واٹس اپ بہت بڑا انعام نہ رکھیں بلکہ صرف ایک لاکھ روپے نقد رقم رکھی جائے اور سوالات کا اضافہ کثیر تعداد میں کریں مثلاً 80 لاکھ روپے مالیت کی مرسڈیز بینز کسی ایک فرد کو دینے کی بجائے 80 افراد کو ایک ایک لاکھ روپے دے دینا بھی بہت سوں کا فائدہ ہو سکتا ہے، کسی کی شادی، کوئی اپنا کاروبار،کوئی عمرہ، کوئی چھوٹا سا پلاٹ یا مکان خریدنے کے لیے ایڈوانس دے کر باقی ماہانہ اقساط کے ذریعے، کوئی اپنا قرض ادا کر سکتا ہے غرض یہ کہ امراءکو تو شاید ایک لاکھ انعام نکلنے پر بہت زیادہ مسرت و شادمانی نہ ہو مگر غریب اور متوسط طبقے میں سے درجنوں پاکستانیوں کو ہر ہفتے گیم شوز کرنے والے تمام ٹی وی چینلز کی جانب سے اچانک ایک لاکھ مل جانا بڑے نصیبے کی بات ہو گی۔ اس کے لیے ہفتے میں ایک دن صرف اور صرف واٹس اپ پر ہی جوابات وصول کیے جا سکتے ہیں۔ تمام ٹی وی چینلز والے اپنی اپنی طاقت کے مطابق زیادہ سے زیادہ افراد کو بذریعہ واٹس اپ جواب دینے پر ایک لاکھ روپے نقد انعام دیں تو یقینا ان کی ریٹنگ میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا وہ اس طرح کے قرعہ اندازی اگر پروگرام کے دوران کسی بھی وقت، ٹائم بدل بدل کر کریں گے تو لامحالہ لاکھوں ناظرین اپنی اپنی قسمت آزمائی کے لیے پروگرام کے آخر تک سکرین پر نظریں جمائے بیٹھے رہیں گے جبکہ انعام یافتگان کی دعائیں و تشہیر الگ سے آپ کو ملتی رہیں گی۔
aajzemag@gmail.com

Top