کے ۔الیکٹرک کے رنگ (صابر عدنانی)

k eletekکے۔ الیکٹرک زندہ باد جس نے عوام کی نیندیں اڑا دیں۔ دنیا کے تیز ترین میٹر ہونے کا ایوارڈ بھی اس ادارے کو جاتا ہے۔ ایسا میٹر جو روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیز چلتا ہے، صرف بلوں کے لیے، باقی بجلی ندارد۔ دل کی دھڑکینں ہار گئیں۔ کے۔ الیکٹرک کا میٹر جیت گیا، اور یوں لوگ بل دیکھ کر دارفانی سے کوچ کرنے لگے۔اب تو بس یہ التجا ہے کے۔ الیکٹرک ہمارے کم رفتار اور پائیدار پرانے میٹرواپس دو۔ اندازہ کریں حکومت نے بجٹ میں عام آدمی کی تنخواہ 15ہزار کردی ہے اور بجلی کا بل 16ہزار آیا ہے۔ کیا کیانہ کہوں کہ دل سوختہ ہے۔

آج کراچی شہر خصوصاًایک اور مافیا کی زد میں ہے۔ یہ مافیا ایک ادارے کی صورت میں لوگوں کا خون چوس رہا ہے، اب تو احتجاج کرنے والوں نے بھی اس مافیا کو ریاست کے اندر ریاست قرار دے دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جوادارے اس کو کنٹرول کرسکتے ہیں وہ کہاں ہیں؟ کوئی اس ادارے کو پوچھنے والا بھی ہے؟

حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ راتوں رات کراچی شہر کے تمام تانبے کے تار کاٹ لیے گئے اور کسی کو یہ نہیں پتا کہ وہ تار کہاں گئے، اُس کی رقم کہاں گئی۔ نئے میٹر یہ میٹر ہیں یا فتنہ ؟خدارا وہ تمام بااختیارادارے اس ادارے کو ٹیک اور کرلیں تو بہتر ہے ، اس ادارے نے لوگوں کی نیندیں حرام کردی ہیں، غریب ، غریب سے بدتر ہوتا جارہا ہے۔ غریب سے اس طرح بل لیا جارہا ہے جس طرح گنے کی مشین سے رس نکالنے کے لیے باربار گنے کو مشین میں ڈالا جاتا ہے اور آخری قطرہ تک گنے سے نچوڑلیا جاتا ہے یہی کچھ حال اس ادارے کا بھی ہے جو عام آدمی کو گنا تصور کررہی ہے۔

کبھی کسی نے پوچھا کہ اس ادارے نے میٹر کا ٹیرف کیا بنایا ہے، کیوں بنایا ہے، اس ادارے کو جو کہ اب پرائیوٹ ہے اپنی مرضی سے ٹیرف بنانے کا اختیار کس نے دیا ہے؟ دنیا میں کہیں بھی صارف جواشیا استعمال کرتا ہے ،چاہے وہ کتنی ہی وافر مقدار میں کیوں نہ ہو، تمام لوگوں کو یکساں قیمت ادا کرنی ہوتی ہے استعمال کے حساب سے۔ یہاں تو تین تین ٹیرف بنادیئے گئے ہیں۔ پھر اُن پرٹیکس کی بہتات اُس پرمزیدیہ کہ لوڈشیڈنگ۔ صارف سے پیسے لیے جاتے ہیں فرنس آئل کے اور فرنس آئل کے ذریعے پاور پلانٹ نہیں چلائے جاتے۔ یہ میٹر جو نصب کیے گئے ہیں کس کی مرضی سے کیے گئے ہیں؟ پرانے میٹر کیوں نکالے گئے ہیں۔ جب کہ صارف ان کی قیمتوں کے مطابق بل ادا کررہا ہے تو پھر نئے میٹر کیوں؟ صارف کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ اس نئے میٹر میں کیا خامی ہے؟ اصولی طور پر ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ پرانے میٹر کے مطابق ان میٹرزکی رفتار ہوتی جب کہ بل آپ بڑھا کر لے رہے ہیں، اُس کے باوجود پرانے میٹر کے مقابلے میں نیا میٹر کم سے کم ایک یونٹ کے مقابلے میں پانچ یونٹ زیادہ گراتا ہے۔

ایک گھر میں اگر ایک میٹر ہے اور وہ دومنزلہ ہے تو اُس کو سب سے زیادہ نقصان ہورہا ہے۔ جب صارف شکایت کے لیے جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ میٹر الگ الگ لگوا لیں۔ جب میٹر کی درخواست دی جاتی ہے تو حیلے بہانے سے کام لیا جاتا ہے، جب زیادہ اصرار کیا جاتا ہے تو یہاں بھی بھتامافیا سرگرم ہوجاتی ہے ، میٹر لگوانے کے پیسے الگ دینے پڑتے ہیں اور کہیں جاکر تین چار مہینوں میں نمبر آتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ میٹر اب ٹھیکیداروں کے پاس ہیں، ادارہ اور ٹھیکیدار مل کر خوب عوام کو لوٹ رہے ہیں، اور اربوں روپے کمانے کے باوجود عوام کے لیے کوئی سہولت مہیا نہیں کی گئی۔

عرصہ دراز سے ایک خواب دکھایا جارہا ہے شنگھائی الیکٹرک کا ۔نہ جانے وہ خواب ہے یا حقیقت؟ اس بھتا مافیا سے کب جان بخشی ہوگی۔ اگر ارباب اقتدار اور ارباب اختیار نے اب بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا تو یقینا عوام مایوسی میں چلے جائیں گے ۔ لہٰذا گزارش ہے کہ عوام کی آواز میں آواز ملا کر اہل اقتدار اس ادارے کو گردن سے پکڑیں اور اب تک جو ہٹ دھرمی یہ ادارہ کرچکا ہے اس کا ازالہ کریں تو یقینا آئندہ عوام آپ کے ساتھ ہوگی ورنہ عوام مزیدبددل ہوجائے گی۔

Top