آخرت میں کامیابی کا راز (مدیحہ مدثر)

islamکیا آپ نے کبھی کائنات پر نظر ڈالی ہے۔ ایک اتنا بڑا نظام کیسے اتنے منظم اندازسے چل رہا ہے۔ الحمدللہ ہم مسلمان ہیں ۔ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ ہی اس پورے نظام کو چلارہا ہے لیکن صرف یہ سوچ لینے سے کام پورا نہیں ہوجاتا ۔اللہ نے ہمارے لیے پوری کائنات سجادی اور ہمارے پاس اتنا وقت بھی نہیں کے اس کو دیکھیں اور اس کے بارے میں سوچیں۔ جب ہم سوچیں گے توہی ہم اللہ کی تمام نعمتوں کے شکرگزار بنیں گے اور ساتھ ہی سیکھیں گے کہ اللہ نے ہمیں کیا حکم دیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے”پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انھوں نے عرض کیا ”کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے انتظام کو بگاڑدے گا اور خوں ریزیاں کرے گا؟ آپ کی حمدوثنا کے ساتھ تسبیح اورآپ کی تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں“ فرمایا”میں جانتا ہوں،جو کچھ تم نہیں جانتے“۔ (البقرة آیت نمبر30)
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ کیا خاص مقصد تھا کہ اتنی بڑی کائنات بنادی گئی اور انسانوں کو پیدا کیا گیا۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ”میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے“۔ حالانکہ اللہ کی عبادت کرنے والوں کی تو کمی نہیں ۔انسانوں سے زیادہ عبادت گزار فرشتے موجود تھے۔ انسان نا ان کی جیسی عبادت کر سکتے ہیں اور نا ہی ان کی طرح فرمابرداری سے بڑھ کی فرمانبرداری۔ مگر انسان کو پیداکرنے کا مقصد ایک ایسی عبادت ہے کہ جس میں تمام تر نافرمانیاں ہونے کے باوجود خالص اللہ کی عبادت کروانا تھا۔ جبھی کئی مقام پر ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے مخاطب ہوکر پوچھتا ہے کہ بتاﺅ میرے بندے نہ ایسا کیا، کیا وہ ایسا کر رہے تھے۔ پھر اس کو جزا کیسی ملنی چاہیے۔ وغیرہ

پھر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو دنیا میں بھیجا اور ساتھ ہی رہنمائی کے لیے پیغمبر بھی بھیجے۔ یوں یہ سلسلہ چلتا ایک کے بعد دوسرے پیغمبر مبعوث ہوئے بالآخر یہ سلسلہ نبی مکرم جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک جاری رہااور پھر آپ کو پیغمبر آخرالزماں کا لقب دے کر یہ سلسلہ مکمل طور پر بند کردیا گیا۔ پھر ساتھ ہی ارشاد فرمادیا کہ ” اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایماندار بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیشتر افراد نافرمان ہیں۔ (ال عمران آیت نمبر 110)
اچھائی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کا کام پیغمبروں کاہے۔ اب چونکہ کوئی پیغمبر نہیں آئیں گے تو لہٰذا اب ہر دور کا مسلم ہی اس کام کو کرے گا۔ یعنی صرف عبادت مقصد نہیں ہمیں تو ایک خاص کام دے کر دنیا میں بھیجا گیا اور خلیفہ بنایا گیا اور وہ کام اقامت دین ہے۔ اللہ کی سرزمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا۔ دین کی دعوت پوری دنیا میں پھیلانا ہمارا کام ہے۔حق کو فریب سے الگ کرنا سچ کو جھوٹ سے پاک کرن ہمارا کام تھا۔
اب یہ سوچنا ہے کہ کیا ہم اپنی ذمے داری پوری کر رہے ہیں۔ پوری تو دور ہمیں تو ذمہ داری کے بارے میں معلوم ہی نہیں۔ کیا اسلام کے بنیادی اصول نماز، روزہ، حج، زکوٰة بس یہ چار فرائض پر عمل کرنا مکمل اسلام ہے؟ جبکہ جہاد بھی بنیادی اصول کی فہرست میں شامل ہے لیکن ہم دین کو اپنے حساب سے لے کرچلنا جانتے ہیں۔ آخرت میں نجات اسی صورت ملے گی ۔ جب تک مکمل اسلام ہمارے دلوں میں نہیں اترے گا تب تک ہم سچے مومن نہیں بن سکتے۔ فرمان ربانی ہے ”اے ایمان لانے والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاو ¿ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ تمہارا کھلا دشمن ہے“ (البقرة آیت نمبر 208)

اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ فرمانِ الہٰی کو ماننے والے مومن بندو کی فہرست میں شمار ہونا ہے یا نہیں ۔سوچیں غوروفکر کریں۔ بہتری اس میں ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے کو اپنالیںتاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوجائیں۔

Top