کراچی عالمی شہر یا کچرا گھر؟ (عارف میمن)

karachi-bad-pic14میئر کراچی وسیم اختر نے جس دن اپنے عہدے کا چارج سنبھالا اُس دن سے ہم صرف ایک ہی بات سنتے آرہے ہیں کہ ’ہمیں اختیارات دیئے جائیں‘۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن اختیارات کی بات میئر صاحب کررہے ہیں، اُن سے عوام کو کچھ لینا دینا نہیں۔ عوام تو صرف یہ چاہتی ہے کہ اُن کے مسائل کا سدباب کیا جائے، اُنہیں ریلیف دیاجائے، اُن کے گھر کے باہر اور پارکوں و میدانوں میں موجود گندگی کے ڈھیر ختم کیے جائیں، سیوریج کا نظام بہتر کیا جائے اور پینے کا صاف پانی مہیا کیا جائے۔ ہم ناجانے کیوں ہر بار اپنی عوام کو بھولی اور بیوقوف سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ بات ٹھیک نہیں، کیونکہ عوام یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ بلدیاتی نمائندوں سے وہ جو مطالبات کررہے ہیں اُن کو پورا کرنے کا اختیار تو یو سی چیئرمین کو بھی حاصل ہیں، لیکن ناجانے پھر میئر صاحب کن اختیارات کی بات کررہے ہیں جو انہیں اِن کاموں سے روک رہے ہیں۔

یہاں اہم ترین بات یہ ہے کہ اگر مان لیا جائے کہ میئر صاحب کے پاس عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے اختیارات بھی نہیں تو پھر وہ کس بنیاد پر عہدے پر تاحال براجمان ہیں؟ یہ عوام کا حق ہے کہ وہ اِن سے اِس بارے میں سوال کریں اور میئر صاحب کا فرض ہے کہ وہ اِن سوالوں کا سیدھا اور سمجھ آنے والا جواب دیں۔
بلدیہ ٹاﺅن، اورنگی ٹاﺅن، سائٹ، لیاری، کیماڑی، کورنگی، لانڈھی سمیت شہر کے ہر علاقے میں گندگی کے ڈھیر ہر جانب نظرآرہے ہیں۔ میئر کا 100 دن میں کچرا ختم کرنے کا وعدہ بھی ’اُن اختیارات‘ کی زد میں آکر وفا ہونے سے رہ گیا۔ مون سون کی بارشیں ہر سال ہوتی ہیں اور اِس کے پیشِ نظر اقدامات میں غفلت انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔

کراچی ایک ایسی سونے کی چڑیا ہے جس کے نام پر اربوں روپے لیے جاتے ہیں، تاہم بدلے میں صرف چند سکے ہیں جو اِس بدنصیب شہر کے حصے میں آتے ہیں۔ کراچی کے لیے جو بجٹ مختص کیا جاتا ہے وہ کہاں استعمال ہوتا ہے یہ جاننا عوام کا حق ہے۔ نالوں کی صفائی اور حفاظتی اقدامات کے معاملے پر ہر سال شور اُٹھتا ہے، بجٹ مختص ہوتے ہیں، متعلقہ اداروں تک رقم پہنچتی ہے مگر حاصل حصول کچھ نہیں ہوتا۔ بارشیں تباہی مچا کر چلی جاتی ہیں اور نالوں کی صفائی اور حفاطتی انتظامات کے نام پر لیے جانے والے فنڈز کہاں جاتے ہیں کچھ خبر نہیں۔

عوام بارشوں میں سڑکوں پر ماری ماری پھرتی ہیں اور سندھ اور کراچی کے کرتا دھرتا سوٹ بوٹ پہن کر مہنگی گاڑیوں میں بارش کو انجوائے کرتے نظر آرہے ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ بھی ایک عرصے سے چلا آرہا ہے۔ کراچی کو پاکستان کی ماں کا درجہ حاصل ہے مگر اب اِس ماں کی گود اُجڑ چکی ہے، کیونکہ اِس کے بیٹوں نے اِسے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اِس ماں نے اپنے حصے کی روٹی تک اپنے بیٹوں میں تقسیم کردی مگر یہ ہی بیٹے آج بھی اِسی کے نام پر کھا کر اِسی کو دنیا میں بدنام کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

اگر بات کی جائے بلدیہ ٹاﺅن کی تو اِس وقت یہ علاقہ ایک ڈسٹ بن نظر آتا ہے، جہاں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر انتظامیہ کا منہ چڑا رہے ہیں، وہیں سڑکوں کا کہیں نام و نشان تک نہیں رہا۔ اب سڑکوں کی جگہ گڑھوں نے لے لی ہے۔ یہاں گزشتہ چار پانچ سال سے پینے کا پانی میسر نہیں، لائنیں خشک ہوکر بند ہوچکی ہیں، ٹینکر مافیا اور جگہ جگہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس سرکاری سرپرستی میں چل رہے ہیں۔ بیماریاں ان گنت پھیل چکی ہیں مگر کہیں بھی کوئی سرکاری ڈسپنری موجود نہیں۔ عطائی اور نجی کلینک عوام کا خون چوسنے میں مصروف ہیں۔
اِس شہرِ قائد میں صرف ایک چیز پوری ایمانداری سے کی جاتی ہے اور وہ ہے سیٹ کے لیے لڑائی۔ باقی مسائل کے لیے صرف اجلاس ہی اجلاس منعقد ہوتے ہیں جن میں اعلیٰ طعام اور انتخابات میں سیٹوں کی ایڈجسٹمنٹ کے سوا کوئی بات بھی قابلِ ذکر نہیں ہوتی۔

میری کراچی کے کرتا دھرتاﺅں سے صرف اتنی سی گزارش ہے کہ وہ اِس شہر کو مزید تباہی کی جانب نہ دھکیلیں اور اپنی سیاست کو چمکانے کے ساتھ ساتھ کچھ عوامی بھلائی کے کام بھی کرلیں۔ ہم اور آپ اپنا وقت پورا کرکے چلے جائیں گے مگر ہماری نسلیں ہمیں قبر تک بد دعائیں دیتی رہیں گی۔ ہمیں اس مِنی پاکستان کو پھر سے گلدستہ بنانا ہے نہ کہ سیاسی اکھاڑا، جہاں صرف اور صرف اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑی جاتی ہے۔

Top