پاکستان اور کشمیر یک جان و دو قالب (حافظ عاکف سعید)

KASHMIR 1ایک بڑا ہی افسوسناک واقعہ یہ سامنے آیا ہے کہ آزاد کشمیر میں جو شرعی عدالتوں کانظام تھا اسے ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ صرف شرعی نظام ہی کشمیر اور پاکستان کو یک جان و دوقالب رکھ سکتا ہے۔کشمیر ی چاہے وہ آزاد کشمیر کے ہوں یا مقبوضہ کشمیر کے، ان سے ہمارا رشتہ صرف اسلام کا ہے۔1973ءمیں پاکستان کا آئین بنا تو قانون ساز اسمبلی میں موجود تما م سیاسی جماعتوں نے اس کی توثیق کی کہ یہاں پر لاالٰہ الا اللہ کا نظام ہونا چاہئے۔اس کا ایک مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے ہی سال آزاد کشمیر میں عدالتی نظام کو اسلامی نظام میں ڈھالنے کے لئے ایک نچلی سطح پرآپس کے جھگڑے نمٹانے کے لئے ایک انتظامی ڈھانچہ قائم کردیا گیا تھا گو کہ پاکستان میں یہ قائم نہیں سکا ۔ریاستی سطح کے جرائم الگ ہوتے ہیں۔
سوات میں بھی تقسیم سے قبل شرعی عدالتیں قائم تھیں۔سوات اپنی جگہ ایک الگ ریاست تھا اور پاکستان میں شمولیت انہوں نے اس بنیاد پر کی تھی کہ یہاں پورا اسلام آئے گا۔پورا اسلام تو کیا آتا، جو ان کی شرعی عدالتیں وہاں پر قائم تھیںوہ بھی پاکستان بننے کے بعدختم کردی گئیں۔صوفی محمد صاحب جنہیں بہت بدنام کیا گیا حالانکہ ان کا اصل مطالبہ یہ تھا کہ خدا کے لئے ہماری شرعی عدالتیں تو واپس کردو ۔ان کا یہ مطالبہ سوات کی حد تک تھا۔ان کے خلاف خاصا پروپگنڈا کیا گیا جس میں ہمارے میڈیا نے بھی بڑا کردار ادا کیا جس سے سب واقف ہیں۔یہ المیے یہاں پر بار بار ہوئے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ قلات کا علاقہ جو بلوچستان کا اہم ترین حصہ ہے، اس زمانے میں پاکستان کا حصہ نہیں تھا۔قائد اعظم وہاں تشریف لے گئے تھے اور خان آف قلات نے ان سے کہا تھا کہ اگر آپ اس ملک میں اسلامی شریعت نافذ کریں گے تو ہم آپ کو یہ علاقہ دینے کے لئے تیار ہیں۔
یہ بات مجھے خان آف قلات کے صاحبزادے نے بتائی تھی۔اس میں قائد اعظم کا کوئی قصور نہیں جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کیونکہ انہوں نے اسلامی نظام کے لئے یہاں علماءکا ایک ایک بورڈ بنادیا تھا ۔علامہ محمد اسدکو جو عالم اسلام کے جید علمائے دین میں سے تھے یہ ذمہ داری سونپی تھی ۔پشاور میںاسٹیٹ بینک کی عمارت کے افتتاح کے موقع پربھی اپنے خطاب میں قائد اعظم نے کہا تھا کہ سودی نظام نے دنیا کو فساد اور فتنے کے سوا کچھ نہیں دیا۔مسلمانوں کا اپنا معاشی نظام ہے اور میں دیکھوں گا کہ آپ اسلامی اصولوں کے مطابق ایک نیا نظام بنائیں گے۔ اس کے لئے انہوں نے ایک الگ ادارہ بھی بنا دیا تھا ۔یہ سارے کام انہوں نے شروع کئے تھے لیکن ان کو موقع نہیں ملا اور اس کے بعد بیوروکریسی نے سب کچھ تلپٹ کردیا۔قائد اعظم نے اپنا وعدہ پورا کیا تھا ۔انہوں نے اس رخ پر کام کو بڑھایا ۔سب اس لئے شامل ہوئے تھے کہ ہمیں پاکستان میں اسلام ملے گا لیکن جتنا کچھ اسلام ان کے پاس تھا اس سے بھی گئے۔ 1973ءمیں جب پاکستان کا آئین بنا تو آئین ساز اسمبلی میں موجود تمام مذہبی سیاسی جماعتوں نے اس کی توثیق کی لیکن اسلام یہاں اب بھی نہیں آیا۔یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
آزاد کشمیر میں ایک مثبت نتیجہ یہ نکلا تھا کہ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا عدالتی نظام کو اسلامی شریعت کے مطابق ڈھالنے کے لئے انتظامی ڈھانچہ قائم کردیا گیا تھا۔تحصیل اور ضلع کی سطح پر سماعت کے لئے عدالتی جج اور قاضی کے اشتراک سے دو رکنی عدالتی نظام قائم ہوا۔عوامی تنازعات شریعت کے مطابق طے ہونا شروع ہوئے ۔مزید برآں ، شریعت کورٹ، اسلام نظریاتی کونسل اور قاضی صاحبان کا تقرر عمل میں آیا ۔یہی عدالتیں قصاص ، حدود اور دیت کے مقدمات کی سماعت کرتی تھیں۔قاضی صاحبان کے لئے قرآن وسنت کے علم کے ساتھ قانون اور شریعت کی ڈگری کا حامل ہونابھی ہونا قرار پایا تھا۔ان مقدمات کی سماعت کے لئے اپیلیٹ شریعت کورٹ بھی قائم کردی گئی تھی ۔ریاست کے طول و عرض میں 62علمائے کرام جو واقعتا علمی حیثیت رکھتے تھے ،بطور قاضی کام کرتے تھے اور نظام بڑے احسن طریقے سے چل رہا تھا۔مگر آزاد کشمیر کے موجودہ وزیر اعظم نے آرڈیننس کے ذریعے اس سارے نظام کو تہ و بالا کردیا۔پاکستان میں اسلام کے ساتھ یہ ایک نیا ظلم ہوا ہے۔

Top