کشمیر‘ کلبھوشن اور ہم

kul bhushanیہ ہماری بدقسمتی ہے کہ بھارت ہمارا ہمسایہ ملک ہے‘ حالانکہ ہمسایہ تو ماں جایا ہوتا ہے لیکن ہمیں ایسا ہمسایہ ملا ہے جو ہمارے قیام کے پہلے دن سے لے کر آج تک پاکستان کے وجود ہی کےخلاف ہے نہ صرف خلاف ہے بلکہ اس کا بس نہیں چلتا کہ ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور تو اور خود وزیراعظم مودی نہایت ڈھٹائی کے ساتھ بنگلہ دیش میں کہہ چکے ہیں کہ ہم نے تمہیں آزادی دلائی اور پاکستان کو توڑا‘ جبکہ کشمیر میں جو کچھ یہ کر رہا ہے اس پر پردہ ڈالنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اب تو بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔

سابق وزیر داخلہ اور کانگریسی لیڈر چدم برم کا کہنا ہے کہ ”بھارت کشمیر کھو دینے کے قریب پہنچ چکا ہے‘ وادی کشمیر کے سات ملین لوگ خود کو بھارت سے دور اور الگ تھلگ سمجھ رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی فوج نے برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں طاقت کا ظالمانہ استعمال کیا ہے۔“ ایک اور سابق وزیر یشونت سنہا نے اپنی رپورٹ میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ کشمیر کی مائیں موت کے خوف سے آزاد نسلوں کو جنم دے رہی ہیں۔

جب سے مودی سرکار آئی ہے کشیدگی اور تناﺅ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اوپر سے انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو کو سنائی جانے والی سزا نے بھارتی سرکار کو پاگل کر دیا ہے۔  کمانڈر کلبھوشن یادیو انڈین نیوی کے ٹیکنیکل ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھتا ہے۔ 1987ءمیں اس نے نیشنل ڈیفنس اکیڈمی جوائن کی‘ 2022ءمیں اس کی ریٹائرمنٹ ہونی تھی‘ 2013ءسے ”را“ میں شامل تھا۔ پاکستان میں حسین مبارک پٹیل کے نام سے مصروف عمل تھا۔ چہار بہار ایران میں اس کا ڈیرہ تھا۔

یہ اپنے ”کارناموں“ کا اعتراف کر چکا ہے۔ بلوچستان اور کراچی میں اپنے رنگ دکھانا اس کی ڈیوٹی تھی بلوچ باغیوں سے مکمل رابطے میں تھا۔ کراچی میں اس کا نیٹ ورک تھا۔ بلوچستان اور کراچی میں تخریبی کارروائیاں اس کی معلومات کی روشنی میں کی جاتی تھیں۔ تنصیبات کو نقصان پہنچانا بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ شرپسندوں اور دہشت گردوں سے رابطے اور ان کو فنڈنگ کرنے کا بھی اسے علم ہوتا تھا۔ یہ بلوچستان میں 3مارچ 2016ءکو گرفتار کر لیا گیا۔  اس نے اعتراف کیا کہ اس کے ساتھ حراست کے دوران اچھے پیشہ ورانہ انداز میں برتاﺅ کیا گیا۔

پہلے پہل تو بھارتی حکومت نے اس کو اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا، پھر جوگیوں نے اپنا پینترہ بدلا اورکہا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی ہمارے بندے کو ایران سے اٹھا کر لے گئی۔ اگر آئی ایس آئی کلبھوشن کو ایران سے اٹھا کر لائی تھی تو کیا بھارت نے ایران سے احتجاج کیا تھا۔

سشما سوراج کا کہنا ہے کہ کلبھوشن بھارت کا بیٹا ہے اس کےلئے جو بن پڑا وہ کریں گے اور پاکستان کو بتا دیا گیا ہے۔ بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جو کرنا پڑے گا وہ سرکار کرے گی۔ اسد الدین اویسی بھی کلبھوشن یادیو کےلئے بولے ہیں۔ دشمن نے مشرقی اور مغربی دونوں محاذ گرم کیے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں اس کو امریکہ کی مکمل آشیرباد حاصل ہے۔  بھارت اب اس کا فرنٹ مین ہے جو اس کی سرپرستی میں افغانستان کے اندر رہ کر بلوچستان میں گل کھلا رہا ہے اور کراچی میں اس کی تخریب کاریاں پکڑی جا چکی ہیں۔ امریکہ مکمل طور پر بھارت کے ساتھ ہے مودی اس وقت طاقت کے نشے سے سرشار ہے۔ وہ حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کو اپنے رویئے پر غور کرنے اور سوچنے کی ضرورت ہے۔

مودی نہیں جانتا کہ اس کا مذموم عمل اسے کس جانب لے جائے گا۔ کلبھوشن یادیو دہشت گردی میں ملوث ہے اور انسانیت کا دشمن ہے۔ ریاستوں کوایسے مکروہ عمل میں ملوث فرد کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے اس کے سدباب اور تدارک کےلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان پر غیراعلانیہ جنگ مسلط ہے۔ بلوچستان اور کراچی میں بدامنی اور انتشار پیدا کرنا دشمن کی پہلی ترجیح ہے۔

افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینا اس کے اسی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ کئی دوسرے واقعات پاکستان کےخلاف بھارت کی مکارانہ چالوں کی واضح علامتیں ہیں۔ خاص طور پر مقبوضہ کشمیر اور کنٹرول لائن پر کی جانے والی جارحانہ سرگرمیاں اس امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہماری حکومت فعال سفارتکاری کے ذریعے اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کو بھارتی عزائم سے آگاہ کرے۔ اس سے پہلے کہ امریکہ ریمنڈ ڈیوس کی طرح کلبھوشن یادیو کی رہائی کےلئے ہمارے اوپر دباﺅ ڈالے ہمیں سفارتی چابکدستی اور اعلیٰ بصیرت کے ساتھ اپنا موقف عالمی برادری پر ظاہر کر دینا چاہیے کیونکہ بھارتی حکمران اور سلامتی کے مشیر اپنے گھر میں لگی آگ بجھانے کی بجائے پاکستان میں آگ لگانے میں دن رات جتے ہوئے ہیں۔

Top