میری ذات کو نشان چاہیے (زہرا تنویر)

crimeمیری ذات ذرہ بے نشان ہے مجھے اس کا کوئی نشان چاہیے یہ گھاؤ جو آئے روز مجھ پر لگتے ہیں یہ الفاظ کے نشتر کیا کم تھے یہ ناقدری کے دکھ کیا کم تھے جو اب میرے جسم پر بھی وار ہونے لگے۔ یہ زخم پہلے ذات اور روح میں کہیں میں چھپا لیتی تھی لیکن یہ جو میرے بدن کو تیزاب کے نشان تو کبھی چاقو سے چھلنی کیا جاتا ہے۔  یہ کیا میرا وہ مقام ہے جو مجھے میرے اور تیرے مذہب نے دیا کہ عورت کی یوں تذلیل کرو کہ وہ اپنی ناقدری اور خود پر ہونے والے ظلم پر بولے بھی تو ریاست کے کچھ بااثر افراد اور سب سے بڑھ کر عدلیہ سے وابستہ لوگ اس کو صلح پر آمادہ کرنے کے لیے کوششیں کریں اور کرمنل کو سپورٹ کریں اور اس کو باعزت بری کر کے یہ تاثر دیا جائے کہ مظلوم کی آواز اس معاشرے اس ریاست اور اس کے اداروں کو چلانے والے کچھ افراد کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔

ایسی ہی صورت حال خدیجہ صدیقی کے کیس کے حوالے سے دیکھنے اور سننے میں آ رہی ہے۔ ایک مقامی ٹی وی چینل پر چلنے والی رپورٹ کے مطابق کہا گیا کہ جج صاحب کا کہنا ہے ’’کہ آپ نے ملزم کی انسلٹ کی ہو گی اس لیے شاہ حسین نے آپ پر چاقو سے وار کیا‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہوا آپ کی کوئی انسلٹ کرے بات سے انکار کرے تو آپ اس پر تشدد کریں مارپیٹ کریں اگر پھر بھی دل نا بھرے تو آپ کا انجام خدیجہ کی طرح چاقو سے وار سہنا ہو گا اور پھر جب انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا تو عدالت اپنے دوستوں کے حق میں فیصلہ سنائے گی اور مجرم کو باعزت طور پر بری کر کے کیس نمٹا دے گی۔

یہی وہ لوگ ہیں جو ریاستی اداروں کو بدنام کرنے پر تلے ہیں آئین اور قانون کے تحت ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنا ریاست اور اس کے اداروں پر فرض ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں تحفظ ہمیشہ  کرمنلز  کو دیا جاتا ہے شاذونادر ہی کوئی مظلوم ہو گا جس کی فریاد رسی کی گئی ہو۔ بھلا ہو سوشل میڈیا کا اور لکھنے والوں کا جو ایسے واقعات پر اپنی آواز حق کے لیے بلند کرتے ہیں اور کچھ بہتری کی امید نظر آتی ہے۔

خدیجہ کے کیس میں بھی سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ سراپا احتجاج ہیں اور سب کی نظریں چیف جسٹس کے لیے گئے نوٹس پر ہیں جس کی سماعت 10 جون کو ہو گی امید ہے کہ خدیجہ کے زخموں کے نشان اس کے حق میں فیصلہ ہونے سے کچھ مندمل ہو جائیں ورنہ زخم کوئی بھی ہو بھرتے بھرتے بھی وقت لگتا ہے اور یہ وہ زخم ہیں جو جسم کے ساتھ ساتھ انصاف نا ملنے کا کرب لیے اپنے مرہم کے انتظار میں ہیں۔ یہ مرہم کون لگائے گا یہ معاشرہ؟ حکمران یا پھر عدلیہ جو ایک دفعہ اپنا فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزم کو بری کر چکی ہے۔

اگلے عدالتی فیصلے پر امید ہے کہ میری ذات ذرہ بے نشان کو اپنی پہچان اور نشان ملے گا کیونکہ میری ذات کو بھی ذرہ نشان چاہیے میں کب تک ذرہ بے نشانی کا دکھ جھیلوں۔ ہر ذات کا ایک نشان ہے اور مجھ سے یہ حق چھینا نا جائے۔ میں عورت ہوں تو کیا ہوا ہوں تو انسان نا اور اس معاشرے اور ریاست کا فرد۔ میری آواز کوئی تو سنے گا نا۔

Top