خوشی کا راز (ربیعہ طیب)

2ہمیں دن میں نہ جانے کتنی دفعہ یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ خوشی نصیب نہیں ہوتی ہر طرف غم ہی غم ہیں ہم سب جاننا چاہتے ہیں کہ آخر یہ خوشی کس چڑیا کا نام ہے اگر یہ زندگی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے تو لوگ اسے پانے کے لیے کیوں ترستے ہیں؟ اور کیوں ہر کسی کو نصیب نہی ہوتی؟ تو اس کا سادہ اور آسان جواب یہ ہے کہ خوشی کے معنی ہر ایک کے لیے الگ ہیں اگر ہم اپنی زندگی پر نگاہ دوڑائیں تو ہمیں علم ہوگا کہ زندگی کے سب سے خوشگوار لمحے تو بچپن کے تھے جہاں کوئی فکر تھی اور نہ کوئی ذمہ داری تھی۔ یہاں تک کہ غم کے مطلب کا بھی علم نہیں تھا لیکن جیسے جیسے ہم بچپن کی وادیوں سے نکلتے گئے اور ہم وہ خوشی کھوتے چلے گئے اب نہ تو کوئی عید بچپن کی عید کی طرح ہے اور نہ ہی کسی اور تہوار میں وہ مزہ ہے۔ ہمارے ذہن میں یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ ہمیں بچپن سے ہی خوشی کو قائم رکھنے کے طریقے کیوں نہیں سکھائے جاتے؟ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ اس خوشی کو اپنے ساتھ بچپن سے جوانی اور پھر جوانی سے بڑھاپے کی طرف کیسے منتقل کرنا ہے؟ یا اس خوشی کو اپنے ساتھ کیسے باندھے رکھنا ہے؟ اس کے لیے سب سے پہلے اس بات کو ذہن نشین کرنا ہو گا کہ زندگی خوشی اور غم کے مرکب کا نام ہے جہاں ہمیں خوشیاں ملتی ہیں وہیں کچھ لمحے غم کے بھی ہوتے ہیں، جیسے خوشیوں کے لمحے گزر جاتے ہیں ویسے ہی غم کے لمحے بھی گزر جاتے ہیں لیکن ہمارا دماغ ہمیں اس دھوکے میں رکھتا ہے کہ غم کے لمحے کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ کائنات میں کوئی چیز ایک جیسی نہیں رہتی دن بدل جاتے ہیں، موسم بدل جاتے ہیں، واقعات بدل جاتے ہیں یہاں تک کہ انسان بھی بدل جاتے ہیں بالکل اسی طرح لمحے چاہے خوشی کے ہوں یا غم کے بالآخر بدل ہی جاتے ہیں۔
اب ہم ان چند طریقوں پر غور کریں گے کہ خوشی کیسے حاصل کی جائے یا خوش کیسے رہا جائے تو سب سے پہلا طریقہ یا اصول یہ ہے کہ ’’قبول کرنا سیکھیں‘‘ حالات بلاشبہ اللہ کی رضا سے ہی بدلتے ہیں اس لیے جیسے بھی حالات ہوں ان کو قبول کریں اور ان میں خوش رہنا سیکھیں واصف علی واصف کے مطابق ’’اللہ کی مرضی اور تمہاری مرضی کے درمیان فرق کا نام غم ہے اور جب اللہ کی مرضی اور تمہاری مرضی ایک ہو جائیں تو اس کیفیت کا نام خوشی ہے‘‘ خوش رہنے کا دوسرا اصول یہ ہے کہ ’’خواہشات کم پالیں‘‘ ہماری زندگی میں لامحدود خواہشات ہوں اور ہم ان کو پانے کے لیے کوشش کرتے ہیں تو ضروری نہیں کہ ہماری ہر خواہش پوری ہو جائے تو ہم ان خواہشات کو دیکھ کر خوش نہیں ہوتے جو پوری ہو گئیں ہیں بلکہ ہم ان خواہشات کا سوگ پوری زندگی مناتے ہیں جو کسی وجہ سے پوری نہیں ہوسکیں۔ اس لیے جس شخص کی خواہشات کم ہیں وہ زیادہ خوش ہے۔ خوشی حاصل کرنے کا تیسرا اصول یہ ہے کہ ہم اپنی چیزیں بانٹیں خواہ وہ مادی ہیں، اخلاقی یا روحانی اگر کسی کے پاس دولت ہے تو وہ غریبوں میں بانٹے اگر کسی کے پاس علم ہے تو وہ اپنا علم پھیلائے اور پھر دیکھیں کہ سچی خوشی کیسے حاصل ہوتی ہے۔
یاد رکھیں! جو شخص دل کا غریب ہے وہ کبھی خوش نہیں ہو سکتا بہت سی مثالیں دیکھی ہیں کہ بڑے بڑے بنگلوں اور محلات میں رہنے والے لوگ خوشی اور سکون کو ترستے ہیں لیکن وہی خوشی ایک فقیر کو چھوٹی سی جھونپڑی میں بھی میسر ہوتی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ خوشی کا تعلق ہر گز پیسے سے نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اگر خوش رہنا ہے تو اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریں کیوں کہ اچھے لوگ اچھائی پھیلاتے ہیں اور اچھی محفل سے بڑھ کر کوئی چیز خوشی نہیں دے سکتی۔ واصف علی واصف کا قول ہے ، ’’اچھا دوست آپ کے غم کو کم کرتا ہے اور خوشی کو بڑھاتا ہے‘‘ مزید یہ کہ جو لوگ دوسروں کو خوشیاں دیتے ہیں اللہ انہیں خوشیوں سے محروم نہیں رکھتا چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو محسوس کرنا سیکھیں ہم بڑی خوشیوں کو حاصل کرنے کے لیے چھوٹی خوشیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس سے بڑی خوشیاں بھی ہم سے دور چلی جاتی ہیں۔ آخری لیکن سب سے اہم بات کہ اگر خوش رہنا چاہتے ہیں تو اللہ کی قربت حاصل کریں جو اللہ سے لُو لگا لیتا ہے کوئی چیز ڈرا نہیں سکتی، کوئی چیز ہرا نہیں سکتی اور کوئی چیز پریشان نہیں کر سکتی جبکہ خوش رہنے کا سب سے بڑا راز یہی ہے۔

Top