میڈیا مذہب سے دوری اور اخلاقی بگاڑ کا سبب (اسریٰ نوشین)

mediaموجودہ دور میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جو ٹیلی وژن سے خالی ہو۔ ٹی وی (ٹیلی وژن) جیسی سائنسی ایجادات کے فوائد تو کم ہی نظر آتے ہیں مگر ان کے نقصانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ڈش، کیبل اور انٹرنیٹ یہ وہ آلات ہیں جن کے ذریعے فحش فلمیں، غیر اخلاقی گانیں، عریاں تصاویر مسلم معاشرے میں دکھائی جاتی ہیں۔ اس قسم کی تمام ایجادات کو مسلم معاشرے میں جنسی بے را روی اور شہوانی خواہشات کو پھیلانے کا بہترین ذریعہ سمجھ سکتے ہیں۔

ٹی وی کے ذریعے پھیلنے والی تباہ کاریاں اور خرابیاں کسی بھی ذی شعور سے مخفی نہیں اور اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جس گھر میں بھی ٹی وی، کیبل جیسی لعنت داخل ہوئی ہے اس گھر کے افراد کے اعتقادی، ایمانی اور اخلاقی اقتدار ضرور تباہی و بربادی کا شکار ہوئے ہیں۔ بچیوں کے لباس اور لباس پہننے کاڈھنگ بدل گیا، اولاد کا والدین کے سامنے اور بہن کا بھائی کے سامنے حجاب بدل گیا۔

مسلمان تو پہلے ہی اپنی اعتقادی اور ایمانی کمزوری کے سبب اور قرآن و سنت کی صحیح تعلیمات کو پس پشت ڈالنے کے سبب دنیا میں اپنی اقتدار کھو چکے ہیں۔ رہی سہی قدریں مسلمانوں کے پاس ہیں وہ ٹی وی، ڈش، کیبل اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے ختم ہو رہی ہیں۔ مسلمانوں کے الفاظ و اصطلاحات کی تشریحات باطل کی سوچ و فکر کے مطابق ہو رہی ہے۔ جو سیدھی ہماری نئی نسل پر حملہ آور ہو رہی ہے۔نہ کہ صرف نئی نسل پر بلکہ ہماری موجودہ نسل کا 90فیصد طبقہ اس کا شکار ہو چکا ہے۔ نہ تو ہم قرآن و سنت کے ماحول میں پلے بڑھے اور نہ ہی ہماری نئی نسل قرآن و سنت کی پاکیزہ تعلیمات کے درمیان پنپ رہی ہے۔ غیر مسلموں کے رواج، ان کے رہن سہن، عبادات اور ان کی عادات و اطوار دیکھ کر پل بڑھ رہی ہے جو کہ یقینا امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکرہے۔ ٹی وی کے ذریعے ہمارے معاشرے میں پھیلنے والے چند نقصانات مختصراً ذکر کیے جاتے ہیں۔

عبادات کا زیاں
ٹی وی پروگرامز کی وجہ سے مسلمان اپنی عبادات کو ٹھیک طریقے سے ، خشوع و خضوع کے ساتھ ادا نہیں کر پاتے ہیں اور بعض اوقات تو پسندیدہ ڈراموں ، ٹالک شوز، انٹرٹینمنٹ اور پسندیدہ فلموں یا مارننگ شوز کی وجہ سے نمازیں تک قضاءہو جاتی ہیں۔ وقت پر مساجد میں باجماعت نمازوں کی ادائیگی متاثر ہوتی ہے اور وہ مردوں زن جو دن رات ٹی وی اسکرین کے سامنے قسط وار ڈرامے، کرکٹ میچ یا دوسرے کھیلوں کے عادی ہوتے ہیں آہستہ آہستہ ان کا دل عبادات سے ہٹ جاتا ہے کیونکہ ان کا دل ٹی وی کے ساتھ چسپا ہو جاتا ہے۔

عقائد میں خرابی
ٹی وی پر غیر مسلموں کی تہذیب، ان کے رسم و رواج اور کفریہ ثقافت پر مبنی فلمیں اور ڈرامے دکھائے جاتے ہیں، جن کے ذریعے مسلمانوں کے اعتقاد کی خرابی پیدا ہوتی ہے اور ایک واحد اللہٰ کا تصور انسانی ذہنوں سے ہٹ کر کئی دیوی، دیوتاوں کا تصور ذہنوں میں رچ بس جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کی فکر اور سوچ غلبیت سے ہٹ کر مغلوبیت کی طرف آجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان قوم ہندوستان سے علیحدہ ہو جانے کے باوجود ہندو کلچر میں رچی بسی ہوئی ہے۔ آج بچوں کے معصوم ذہنوں میں مسلمانی ثقافت اور مسلمانوں کی عبادت اتنی پختہ نہیں ہیں جتنا ہندوانی رسم و رواج اور عیسائی نظریات پختگی اختیار کر چکے ہیں۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کو پیچھے چھوڑ کر مسلمانوں نے آج خود اپنی نسل کو ڈش، ٹی وی اور کیبل جیسی لعنت کی گود میں بٹھا دیا ہے۔

عریانی اور فحاشی
جب ٹی وی اسکرین پر عریاں عورتوں کو مردوں کے لیے اور خوبصورت نوجوان مردوں کو عورتوں کے لیے پیش کیے جاتے ہیں تو شہوانی خواہشات کا ابھرنا ایک لازمی امر ہے۔ عورتوں کو مختصر لباس زیب تن کرا کر معاشرے میں جنسی خواہشات کو ابھارا جاتا ہے جس کی وجہ سے اخلاقیات تباہ و برباد ہو جات ہیں۔

شریعت اسلامیہ نے مرد و زن کے لیے ستر و حجاب کے احکامات مفصل ذکر کیے ہیں اور ٹی وی پر سترو حجاب کی وہ دھجیاں بکھیری جاتی ہیں کہ الامان والحفیظ۔ ٹی وی ، ڈش اور کیبل فلمی اداکاراوں کو دیکھ کر ہزاروں گھروں کی پاک دامن عورتیں بھی کئی ایسے امور کا ارتکاب کر بیٹھتی ہیں جو کہ شرعاً بالکل حرام ہوتے ہیں۔ مثلاً چہرے کے بال اکھیڑنا، بھویں باریک کرنا، میک اپ کر کے ننگے منہ بازاروں میں نکلنا، دوپٹہ سر پر اوڑھنے کے بجانے صرف گلے میں ڈالنے کو کافی سمجھنا، باریک لباس پہننا، ناخن بڑھانا، غیر محرم مردوں سے خلوتیں اختیار کرنا، گھروں سے فرار اختیار کرنا۔ اور غیر محرم مردوں کو دیکھ کر ان کی خوبصورتی کا اندازہ لگانا۔

ٹی وی ڈراموں کے ذریعے مرد و زن کو باہمی تعلقات و رابطہ قائم کرنے کے طریقے بتلائے جاتے ہیں اور ایک دوسرے کا تعارف حاصل کرنے اور نا محرم مرد و عورت کے درمیان دوستی کے رشتے قائم کرنے کے طریقے بتلائے جاتے ہیں۔غرض کے آج ہمارے معاشرے میں جو لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان عشق و معاشقی کے معاملات ہیں وہ اسی ٹی وی، ڈش اور کیبل پر دکھائے جانے والے رومانوی ڈراموں اور فحش فلموں اور گانوں کی ہی مرہون منت ہے۔جس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔

غیرت ختم ہوجاتی ہے
ٹی وی جس قدر فحاشی و بے حیائی پھیلا رہا ہے یہ کسی ذی شعور سے مخفی نہیں گویا کہ ٹی وی کے فحش پروگرام لوگوں کو بے حیا و بے غیرت بننے کا درس دیتے ہیں۔ جب انسان سے حیا ختم ہو جاتی ہے تو اس کا ایمان بھی برباد ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ مرد حضرات جو بظاہر شریف نظر آتے ہیں ان کے باطن میں غلاظت اور گندگی بھرتی جاتی ہے۔ہیجان انگیز مناظر اسے اچھے برے کی تمیز بھلا دیتے ہیں۔

انگریزی اور اردو فحاشی سے بھر پور فلمیں، جن میں کھلم کھلا جنسی معاملات ، نوجوانوں کے عشق و معاشقی کے قصّے، پیار و محبت کے مکالمے، عورتوں کے شرم و زینت کے خدوخال کو نمایاں کر کے، اس کی بے حرمتی کے مناظر دکھلائے جاتے ہیں وہ بیان کرنے کے قابل نہیں۔گندی اور عریاں فلموں اور ڈراموں کے ذریعے زنا اور بے حیائی کوفروغ دیا جاتا ہے۔ جس کی پاداش میں غیرتوں کے جنازے گھروں سے اٹھ جاتے ہیں اور ماں، بیوی، بہن ، بھائی اور باپ جیسے خوبصورت رشتوں میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔

وقت کا ضیاع
یہ دنیا کی چند روزہ زندگی انسان کے لیے امتحان گاہ ہے اور اس زندگی کے بارے میں اللہ تعالیٰ انسان سے سوال کرے گا کہ میں نے تجھے عمر دی تھی تو نے کہاں گزاری؟ اگر اس دنیا کی زندگی کو اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں گزارا ہوگا تو کامیاب ہوگا ورنہ خائب و خاسر و نامراد ہوگا۔

ان تمام وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں ٹی وی کا استعمال محدود سے محدود کرنا چاہیے۔ گھر کا پاکیزہ ماحول فراہم کرنا ہماری ہی ذمے داری ہے۔ گھر کو جس قدر ہم اچھا اور پاکیزہ ماحول مہیا کریں گے ہمارے بچوں میں اچھائی کی شرح بھی اس قدر بڑھے گی۔ نہ صرف ٹی وی بلکہ گندے رسائل، فحش لٹریچر، جنسی خواہشات پر مبنی کتب ودیگر مواد سے بچنے کی ضرورت ہے۔

Top