سلیم شہزاد کا مہاجر وں کو مشورہ (فرید اشرف)

saleem shezadایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے سابق سینئررہنما سلیم شہزاد نے کافی عرصہ بعد کراچی واپس آکر مہاجر رابطہ کونسل کے رہنما سلیم حیدر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس  کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار،ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال کو مشورہ دیا ہے کہ اگر آئندہ ہونے والے عام انتخابات میں مہاجر وں کے ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانا ہے تو پھر ان تینوں کو سارے اختلافات بھلا کر آپس میں مل کر ایک ہونا ہوگا ورنہ مہاجروں یا اردو بولنے والوں کے لیڈروں کے اختلافات کی وجہ سے مہاجر ووٹ تقسیم ہوجائے گا جس کا فائدہ انتخابات میں دیگر سیاسی پارٹیوں کو پہنچے گا۔راقم کی نظر میں سلیم شہزاد نے آفاق احمد ،فاروق ستار اور مصطفی کمال کے ایک ہوجانے کی جو بات کی وہ انہوں نے اپنی محدود سوچ ،مہاجر ازم پر مبنی اپنے محدود طرز سیاست کی بنیا د پر ،مہاجر ووٹ کی طاقت برقرار رکھنے کی خواہش اور شایدکراچی وحیدرآباد سمیت پورے ملک میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ہونے والی غیرمتوقع سیاسی تبدیلیوں سے لاعلم ہونے کی وجہ سے کی ہے ورنہ اگر ان کو پاکستانی عوام کے بدلتے ہوئے سیاسی شعور اور جذبات کا ادراک ہوتا تو وہ تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی صورتحال کے پیش نظر اس طرح کی تقریباً ناقابل عمل بات ہی نہ کرتے۔

اگر سلیم شہزاد اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد اور ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فارو ق ستارکے آپس میں مل جانے کی بات کرتے تو یہ بات سب کو سمجھ میں بھی آتی کہ آفاق احمد اور فاروق ستار کی سیاست کا محور ومرکز آج بھی مہاجر ازم ہے اور ان دونوں کی ساری سیاست’’ جیئے مہاجر‘‘ کے نعرے کے گرد گھومتی ہے ،اس لیئے اگر یہ دونوں آپس میں مل بھی جائیں تو کسی کو کوئی حیرت نہیں ہوگی اور نہ ہی ایسا ہونا ناممکن ہے لیکن ان دونوں کے ساتھ سلیم شہزاد نے مصطفی کمال کو بھی اس بات کا مشورہ دیا ہے کہ وہ مہاجر وں کے ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لیئے سارے اختلافات بھلا کر آفاق احمد اور فاروق ستار کے ساتھ مل جائیں، سلیم شہزاد کی اس خواہش کو مصطفی کمال کی سچائی اور بے باکی سے بھرپور برق رفتار سیاست ، نئی سیاسی پہچان کے ساتھ ایک نئی سیاسی جماعت ’’ پاک سرزمین پارٹی ‘‘قائم کرکے وطن پرستی پر مشتمل وفاقی طرز سیاست اور ان کے ’’ پاکستانیت ‘‘ کے پرچار سے بھرپور فلسفے کی عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی کے بعد ایک دیوانے کا خواب ہی قرار دیا جاسکتا ہے جو بہت ہی غلط وقت پر دیکھا گیا ہے۔

مصطفی کمال کی سوچ ،نظریہ ، سچائی ،قول وفعل میں یکسانیت ،دلیری اور بے باکی سے بھرپورطرز سیاست ،پارٹی کا نام ،پارٹی کا جھنڈا ،پارٹی پالیسی اور علیحدہ انتخابی نشان سب کچھ ایم کیو ایم سے بالکل الگ اور منفرد ہے جبکہ مصطفی کمال اپنی تقاریر اور انٹرویو میں کئی بار برملا اپنے اس موقف کا کھل کر اظہار کرچکے ہیں کہ:’’ جو بھی شخص یا سیاسی پارٹی مہاجر مہاجر کی رٹ لگا کر مہاجر ازم کی سیاست کر رہا ہے وہ مہاجروں کا سب سے بڑا دشمن ہے‘‘۔ لہذا ایم کیوا یم کے سینئر سیاسی رہنما سلیم شہزاد کی جانب سے اس طرح کی غیر حقیقی اورخوابناک بات کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو سلیم شہزا د کراچی وحیدرآباد سمیت پورے ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال سے لاعلم ہیں،یا وہ مصطفی کمال کو پوری طرح جانتے اور پہچانتے نہیں ہیں یا پھر وہ یہ ساری بات کسی ایسے شخص یا ادارے کے اشارے پر کر رہے ہیں جو کراچی وحیدرآباد سمیت پورے پاکستان میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کی مثبت لہر کو سبو تاژ کرنے کے لیے اپنے مضموم مقاصد کی تکمیل کے لیئے آفاق احمد ،فاروق ستار اور مصطفی کمال کو استعمال کرکے عوام الناس کی نظروں میں چند اچھے اور باکردار سیاست دانوں کی ساکھ کو نقصان پہچانے کے مکروہ منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

پاکستان میں سیاسی تبدیلوں کی تازہ لہر اور عوام کے بڑھتے ہوئے سیاسی شعور کے پیش نظر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سلیم شہزا د کی اپنی خواہش ہو یا کسی کادیا ہوا ٹارگٹ،مصطفی کمال کا فاروق ستار اور آفاق احمد کے ساتھ مل جانا ’’ پاک سرزمین پارٹی ‘‘ کے قیام کے بعد ممکن نہیں رہا اور اب ایسا ہونا بھی نہیں چاہیئے کہ سادہ لوح پاکستانی عوام ،سیاست کے نام پر نام نہادمفاد پرست اور کرپٹ سیاست دانوں سے اتنی بار فریب کھا چکی ہے کہ اب اس کے اندر مزید دھوکہ کھانے کی ہمت اور برداشت باقی نہیں رہی لہذا اس بار اگر کسی بھی سیاست دان یا سیاسی پارٹی نے اپنے ذاتی یا پارٹی مفادات کو حاصل کرنے کے لیئے عوامی جذبات کا استحصال کرتے ہوئے ان کی امیدوں کا خون کیا تو وہ اس بات کو اچھی طرح یاد رکھے کہ جب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے تو پھر انقلاب آتا ہے اور انقلاب ایک سیلاب جیسا ہوتا ہے جو آجائے تو بہت مشکل سے رکتا ہے اور اپنے سامنے آنے والی ہر شے اور جاندار کو بلا کسی تخصیص کے تہہ وبالا کرتا ہو،ا روندتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے اور پیچھے صرف تباہی ہی باقی رہ جاتی ہے ۔

آفاق احمد اور فاروق ستار کی سابقہ اور حالیہ سیاست اور ان کے کردار اور قول وفعل کے بارے میں کوئی کچھ جانے نہ جانے کراچی وحیدرآباد کے عوام سب کچھ بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور جو کچھ عرصے پہلے تک ذرا کم جانتے تھے وہ بھی مصطفی کمال کی جانب سے دیئے گئے سیاسی شعورکی وجہ سے اتنے سمجھدارہوگئے ہیں کہ اب وہ کسی بھی سیاست دان پر آنکھ بند کرکے اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں لہذا کراچی وحیدرآباد میں سیاست کرنے والا کوئی بھی سیاست دان کراچی وحیدرآباد کے عوام کو بے وقوف سمجھنے کی غلطی نہ کرے کہ پورے ملک میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور باشعور عوام کراچی کی ہے جس کی محبت ،خلوص ،عقیدت اور ووٹوں کو الطاف حسین جیسے ’’ را‘‘ کے ایجنٹ نے گمراہ کرکے اپنے ذاتی مضموم مقاصد کی تکمیل کے لیئے استعمال کرکے دنیا بھر میں مہاجر کمیونٹی کا نام بدنام کیا وہ تو بھلا ہو مصطفی کمال کا جس نے ایم کیو ایم اور الطاف حسین سے اعلانیہ اور کامیاب بغاوت کرکے اپنے قول وفعل اور کردار سے مہاجروں کے ماتھے پر لگے ہوئے ’’دھشت گرد‘‘ ہونے کے بدنما داغ کو دھونے میں وہ زبردست کردار ادا کیا ہے کہ جب بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کراچی وحیدرآباد کو دھشت گردوں کے چنگل سے آزاد کروانے کے حوالے سے قابل ذکر افراد اور اداروں کا تذکرہ تحریر کیا جائے گا تو ان میں سرفہرست مصطفی کمال کا نام شامل ہوگا جس نے ظلم ودہشت کے خلاف پوری سچائی ،بہادر ی اور قوت کے ساتھ آواز بلند کرتے ہوئے ایم کیو ایم کی شکل میں چھپے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کو بے نقاب کرکے کراچی و حیدرآباد کی سیاست کا نقشہ ہی پلٹ کر رکھ دیا۔اسی تناظر میں یہ بات نہایت اہمیت رکھتی ہے کہ وہ مصطفی کمال جسے اب لوگ ایک سچے ،بہادر اور باکردار لیڈر کے طور پر جانتے ہیں جس نے کراچی وحیدرآباد کے لوگوں کو ’’جئے مہاجر ‘‘کے نعرے میں گھرے ہوئے اردوبولنے والوں کو پھر سے پاکستانی بنانے کے لیئے بھر پور عملی کردار ادا کیا اب اگر یہی مصطفی کمال کسی بھی وجہ ، سیاسی مصلحت یا مجبوری کی وجہ سے مہاجر ازم کی سیاست کرنے والے آفاق احمد اور فاروق ستار کے ساتھ خود جاکر مل جاتا ہے تو پھر مصطفی کمال اور موجودہ دور کے جھوٹے ، مفاد پرست اور کرپٹ سیاست دانوں میں کیا فرق باقی رہ جائے گا۔لہذا مصطفی کمال کا فاروق ستار اور آفاق احمد کی طرف خود چل کر جانا ان کے لیئے سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا جس کے بعد پھر شایدکراچی وحیدرآباد سمیت پورے ملک کی عوام کسی بھی سیاست دان کی کہی گئی باتوں پر یقین کرنا ہی چھوڑ دے گی جس کا نتیجہ انتخابات میں عوام کی غیر دلچسپی کی صورت میں ظاہر ہوگا جو نہ صرف ہر سیاست دان اور سیاسی پارٹی کے لیئے نقصان دہ ہوگا بلکہ ملکی معاملات سے عوام الناس کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ایک بار پھر وہی لوگ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے جن سے جان چھڑانے کے لیئے پاکستانی عوام نے حالیہ چند سالوں میں بھرپور سیاسی شعور کا ثبوت دیتے ہوئے عمران خان اور مصطفی کمال کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان کا ساتھ دیا اور جو آج بھی یہ امید قائم کیئے بیٹھے ہیں کہ 2018 کے الیکشن کے بعد ان کے ووٹو ں کی وجہ سے عمران خان اور مصطفی کمال جیسے اچھے اور سچے محب وطن پاکستانی سیاسی لیڈر برسراقتدار آکر ان کے دیرینہ مسائل کو حل کرکے پاکستان اور پاکستانی عوام کی تقدیر بدل دیں گے۔اﷲ کرے کہ عمران خان اور مصطفی کمال پر عوام کا یہ بھروسہ اور اعتماد ہمیشہ قائم رہے کہ اسی میں پاکستان اور پاکستانی عوام کی ترقی اور استحکام کا دارومدار ہے ورنہ پاکستانی سیاست میں اس وقت جو طاقتور سیاسی گدھ اپنے پنجے گاڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں وہ پاکستان کے وسائل کو لوٹنے کے لیئے پھر سے اپنے ناخن تیز کرنے میں مصروف ہیں۔

البتہ آفاق احمد ،فاروق ستار اور مصطفی کمال کے ایک ہوجانے کے حوالے سے سلیم شہزاد کی خواہش یا مشورے کو قابل عمل بنانے کے حوالے سے صرف ایک راستہ ایسا ضرور باقی ہے کہ اگر اس پر فاروق ستار اور آفاق احمد عمل کرلیں تو شاید سلیم شہزاد کا خواب حقیقت بن جائے اور وہ راستہ یہ ہے کہ فاروق ستار اور آفاق احمد ،مصطفی کمال کو اپنا قائد تسلیم کرتے ہوئے اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کا اعلان کریں اور ’’ پاک سرزمین پارٹی‘‘ میں غیر مشروط طور پر شامل ہوجائیں تو پھر مصطفی کمال ،فاروق ستار اور آفاق احمد کے ایک سیاسی پلیٹ فارم پر اکٹھا نظر آنے کی صورت پیدا ہوسکتی ہے اور اس میں بھی سارا دارومدار مصطفی کمال اور پاک سرزمین پارٹی کی پالیسی پر ہوگا کہ وہ آفاق احمد اور فاروق ستار سمیت ان کی پارٹیوں میں شامل کن کن سیاسی رہنماؤں کو پاک سرزمین پارٹی میں شامل کرنے پر رضا مندی ظاہر کرتے ہیں اور کن کی شمولیت سے انکار کردیا جاتا ہے۔ اﷲ تعالی مجھ سمیت تمام پاکستانیوں اور خاص طور پر اس ملک کے سیاسی رہنماؤں کو صراط مستقیم پر چلنے اور درست فیصلہ کرنے کی سمجھ بوجھ اور توفیق عطا فرمائے (آمین)

Top