چیئرمین نیب توجہ فرمائیں (محمد سمیع)

Sindh Nabجیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کراچی دنیا کے بڑوں شہروں میں سے ایک ہے جس کی آباد ی دو کروڑ سے زیادہ ہے جو دنیا کے کئی ملکوں سے بھی زیادہ ہے۔ کراچی کے شہریوں کو ٹرانسپوٹ کے جن مسائل کا سامنا ہے ، یقینا ہے کہ آپ اس سے اچھی طرح واقف ہوں گے۔کھٹارہ بسیں اس شہر کا مقدر ہیں۔ حکومتی سطح پرچلنے والی بسوں کی کوئی اسکیم یہاں کامیاب نہ ہوسکی۔ وقتاً فوقتاً شہریوں کو کثیر تعداد میں بسوں کی فراہمی کے وعدے کئے جاتے ہیں جو اب تک پورے نہیں ہوئے۔ ایسے میں عوام کو چنگچی رکشوں کی صورت میں کچھ ریلیف ملا تھا ۔تاہم کبھی ان رکشوں کومختلف بنیادوں پر بند کردیا جاتا ہے۔ تو کبھی دوبارہ اجازت دے دی جاتی ہے۔ یہ کھیل عرصے سے جاری ہے۔ ہمارے ملک کی ایک عدالت نے ان رکشوں پر یہ پابندی لگادی تھی کہ ایک رکشے میں زیادہ سے زیادہ چھ یا آٹھ افراد سوار ہوسکتے ہیں ۔پہلے ایسے رکشوں میں خواتین کے لئے الگ بیٹھنے کا انتظام تھا لیکن اس عدالتی فیصلے کے بعد اس کی گنجائش ختم ہوچکی ہے لہٰذا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں خواتین ایک تنگ سی جگہ پر آمنے سامنے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ جن جج صاحب نے یہ فیصلہ دیا تھا ، انہیں چاہئے تھا کہ خواتین کے لئے الگ انتظام کا حکم دیتے ۔ہماری اشرافیہ کلاس کی خواتین کو تو ان رکشوں یا بسوں میں سوار ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔حیرت یہ ہے کہ خواتین کی اس تذلیل پر نہ تو خواتین کے حقوق کی دعویدار این جی اوز کی جانب سے کوئی آواز بلند کی جاتی ہے اور نہ وہ حلقے اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جو women empowerment کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔عوام کو اچھی طرح پتہ ہے کہ عورتوں کے حقوق کے نام پر کن کا ایجنڈا پورا کیا جارہا ہے۔
بہرحال مذکورہ عدالتی فیصلے کے بعد ہونا تویہ چاہئے تھا کہ گاہے بگاہے ان رکشوں کو بند کرنے کا سلسلہ ختم ہوجاتا ،لیکن یہ ہنوز جاری ہے۔ یہ چیئر من نیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھیں کہ ایسا کیوں ہورہا ہے ۔ظاہر ہے کہ دیگر شعبوں کی طرح یہاں بھی متعلقہ شعبوں میں کرپشن کا بازار گرم ہے۔ اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ تحقیقات کروائیں کہ وہ کون کون سے شعبے ہیں جو ان رکشوں کو وقتاً فوقتاً بند کرنے کے ذمہ دار ہیں اور وہ ایسا کیوں کررہے ہیں جس کے نتیجے میں ایک طرف عوام کو دشواریوں کا سامنا ہے تو دوسری جانب رکشہ چلانے والوں کے خاندان کے افراد کو روزی کی فراہمی بند ہورہی ہے۔ چیئر مین ، نیب کو حکومت کوپابند کرنا چاہئے کہ یا تو وہ کراچی کے شہریوں کے لئے ٹرانسپورٹ کا معقول انتظام کرے یا پھر ان رکشوں کی وقتاً فوقتاً بندش کو بندکرے اور بندش کے ذمہ داروں کے خلاف نیب تحقیقات کا انتظام کرے اور اس بندش کے ذریعے کرپشن میں ملوث افراد خواہ وہ کسی محکمے کے اعلیٰ سے اعلیٰ عہدیدارہی کیوں نہ ہوں، کے خلاف سخت اقدامات کرے ۔
ان دنوں صورتحال یہ ہے کہ رکشہ چلانے والوں نے متعلقہ محکموں کے خوف سے اپنا روٹ نمبر رکشے کے سامنے سے اتار دیا ہے اور اس کے بغیر ہی رکشا چلارہے ہیں۔ظاہر ہے کہ وہ اپنی روزی جاری رکھنے کے لئے ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ اس قسم کی بندش پورے شہر میں نہیں ہوتی بلکہ وقتاً فوقتاً شہر کے مختلف علاقوں میںہوتی ہے۔ توقع ہے کہ چیئر مین نیب صاحب اس جانب توجہ فرمائیں گے اور کراچی کے شہریوں اور غریب رکشے والوں کے مصائب کو دور کرنے کے لئے ضروری اقدامات کریں گے۔

Top