نواز شریف کی سزا اور انتخابی مہم

Political Dairyفاروق اعظم……. سیاسی ڈائری
احتساب عدالت کی جانب سے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں قید و جرمانے کی سزاﺅں کے بعد ملکی سیاسی منظر نامہ توجہ اختیار کرچکا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران نواز شریف کے خلاف یہ مسلسل چوتھا فیصلہ ہے۔ جب پاناما اسکینڈل سپریم کورٹ لے جایا گیا تو اول پانچ رکنی لارجر بنچ نے تین دو کے فیصلے سے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی تفتیش پر لارجر بنچ کے پانچوں ججز نے متفقہ طور پر نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے کیس نیب کے حوالے کردیا۔ اس دوران انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ءکے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ نے ایک اور فیصلہ سنادیا، جس کے تحت نواز شریف کو پارٹی صدارات کے لیے بھی نا اہل قرار دیا گیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے تیسرا فیصلہ تاحیات نااہلی کا سامنے آیا۔ اگرچہ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کی تشریح پر مبنی تھا، نواز شریف اس کی سماعت میں فریق نہیں بنے تھے۔ تاہم نواز شریف کی نااہلی اسی شق کے تحت ہوئی تھی، اس لیے اس فیصلے سے معروف سیاست دانوں میں سب سے زیادہ متاثر نواز شریف اور جہانگیر ترین ہی نظر آئے۔ یہ تمام فیصلے اس وقت ہوئے جب نواز شریف کی پارٹی برسر اقتدار تھی۔ اب جبکہ مسلم لیگی حکومت اپنی مدت پوری کرچکی اور عام انتخابات قریب ہیں، نواز شریف کے خلاف گزشتہ دس ماہ سے احتساب عدالت میں زیر سماعت ایون فیلڈ ریفرنس نمٹا دیا گیا۔ جس کے تحت نواز شریف کو دس سال قید بامشقت اور 80 لاکھ پاﺅنڈ جرمانہ، بیٹی مریم نواز کو سات سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی جب کہ نواشریف کے بیٹوں حسن اور حسین نواز کو مفرور ملزم قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے۔ مزید براں لندن میں واقع ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا گیا۔ احتساب عدالت نے نواز شریف کو آمدن سے زائد اور بے نامی دار کے نام پر جائیداد بنانے پر سزا سنائی، جب کہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو جرم میں معاونت پر سزا دی گئی۔

مسلم لیگ ن کے قائد کو قید کی سزا سے انتخابی مہم نے نئی شکل اختیار کرلی ہے۔ احتساب عدالت کے فیصلے پر نواز شریف کے سیاسی مخالفین خوش ہیں اور اسے ن لیگ کی شکست پر منتج کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ن لیگ اس فیصلے کے خلاف عوامی سطح پر بھرپور مزاحمت کا فیصلہ کر چکی ہے۔ کیپٹن (ر) صفدر گرفتار کرلیے گئے، نواز شریف اور مریم نواز نے 13 جولائی کو لندن سے واپسی کا اعلان کیا ہے۔ نون لیگ ایئرپورٹ پر نواز شریف کا بھرپور استقبال کرنا چاہتی ہے اور اس کے لیے تمام لیگی امیدواروں اور عہدیداروں کو کارکنان کے ہمراہ ایئرپورٹ پہنچنے کا پیغام دیا گیا ہے۔ ن لیگی امیدوار پہلے ہی حالات کو موافق نہ پاکر اور نواز شریف کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے اپ سیٹ تھے۔ اب نواز شریف وطن واپس آرہے ہیں، لیکن اس حال میں کہ وہ سزا یافتہ ہیں اور پاکستان پہنچتے ہی جیل پہنچادیے جائیں گے۔ اس تمام تر منظر نامے میں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ کیا نواز شریف کی موجودہ کیفیت نون لیگی امیدواروں کے لیے انتخابات میں معاون ثابت ہوسکتی ہے؟

یہ بات درست ہے کہ جب نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تو انہوں نے رائے عامہ کو اپنے حق میں موڑنے کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ نواز شریف کا فخریہ طور پر کہنا ہے کہ انہیں کرپشن پر سزا نہیں ملی۔ سپریم کورٹ نے پاناما اسکینڈل کیس میں نواز شریف کو کیپٹل ایف زیڈ ای سے متعلق کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے پر نااہل قرار دیا تھا۔ جس کا نواز شریف نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مہم کے دوران بارہا یہ کہا کہ پاناما سے کچھ نہیں نکلا تو اقامے پر نکال دیا گیا۔ اب بھی نواز شریف کا کہنا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں مجھ پر کرپشن ثابت نہیں ہوسکی۔ تاہم نیب ترجمان نے اس کی توضیح یہ کی ہے کہ آمدن سے زائد اثاثے کرپشن ہی کے زمرے میں آتے ہیں۔

موجودہ صورت حال میں اگرچہ نون لیگ کا انتخابی نعرہ ”ووٹ کو عزت دو اور خدمت کو ووٹ دو“ ہی ہے، تاہم یہ نعرہ گزشتہ مہم کی طرح اب نواز شریف عوام میں لے کر نہیں جاسکتے۔ گویا کہ نون لیگ کی انتخابی مہم پارٹی قائد کے بغیر ہوگی۔ ان حالات میں نون لیگ کے لیے نواز شریف کی وطن واپسی پر ان کا شاندار استقبال ان کی انتخابی مہم کے لیے اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ چونکہ انتخابات میں وقت کم ہے اورن لیگ پہلے ہی متعدد مشکلات کا شکار ہے۔ اس صورت حال میں نون لیگ کو عوامی ہمدردی کی اشد ضرورت ہے۔ اگر لیگی امیدوار پارٹی قائد کو عوام کی نظروں میں مظلوم ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے تو نواز شریف کی سزا ان کی انتخابی مہم کی کامیابی میں بدل سکتی ہے۔

Top