غیر معیاری فوڈ کا استعمال (زوبیہ صدیقی)

fast-food-1آج کل ہم دیکھتے ہیں نئی نسل، نوجوان، بچے سب پیزا، برگر، نوڈلز، سموسہ وغیرہ اور بہت سی نقصان پہچانے والی اشیاءکھانا پسند کرتے ہیں۔ کیا یہ سب کھانے نقصان سے باہر ہیں۔ نہیں بالکل نہیں بلکہ یہ بیماریاں پیدا کرنے کی جڑ ہیں۔ ایسے کھانوں سے بہت سی بیماریاں جنم لیتی ہیں جو کہ آج کل کے بچوں میں بڑھتی جا رہی ہیں۔ جس میں ہڈیوں کے درد، جسم کی کمزوری، تھکاوٹ اور بہت سی بیماریاں جو ایسے نقصان دہ کھانوں کی وجہ سے بڑھ رہی ہیں۔

ایک وقت تھا کہ جب  لوگ دیسی گھی، اناج، روٹی اور قدرتی غذائیں وغیرہ کھاتے تھے اور کام بھی بہت کرتے تھے جیسے کہ ورزش وغیرہ اور ایک صاف ستھرے ماحول میں پرورش پاتے تھے۔ مگر آج کل کا ماحول اور عادتیں بہت بدل چکے ہیں۔ اس وجہ سے ہم بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں۔گھنٹوں وقت ضائع کر کے کمپیوٹر اور موبائل استعمال کرتے ہیں ۔ جو ہر انسان کے لیے نقصان دہ ہے۔

بہت سی بڑی بڑی کمپنیاں بھی اب بھروسے کے قا بل نہیں ہیں۔ بہت سی جگہوں پر بیکری سامان اور جنک فوڈ جس طرح بن رہا ہے اسے دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہم کس ماحول میں پرورش پا رہے ہیں وہاں صفائی کا کوئی انتظام نہیں۔ گندہ آلودہ پانی استعمال ہوتا ہے۔ ہر طرف کیڑے اور گندگی ہوتی ہے۔ ایسی جگہوں پر بنی چیزیں جب ہمارے بچے کھائےں گے تو کئی بیماریوں کا سبب بنیں گے۔

پنجاب میں اس پر کام ہورہا ہے اور اس طرح کے غیر معیاری کھانوں پر مکمل پابندی لگائی جارہی ہے تاہم سندھ گورنمنٹ کی بھی ذمے داری بنتی ہے کہ ان سب کمپنیوں پر پا بندی لگائیں تاکہ کوئی بھی کسی انسان کی جان سے نہ کھیل سکے۔ ساتھ ساتھ شہری بھی بازار کے ایسے کھانوں سے پرہیز بھی کریں جو آج کل تیزی سے نوجوان نسل کو کمزور کرنے میں مبتلا ہیں۔یہ ایک اہم ترین مسئلہ ہے اور اس پر توجہ دینی کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت کو فوری اس مسئلے پر اقدامات کرنے چاہیں تاکہ معصوم انسانی زندگیوں کو بچایا جا سکے۔ کراچی جیسے شہر کو صاف ستھری اور نقصان سے پاک غذائی اشیاءفراہم کی جائیں۔

Top