پاکستان ایک طویل داستان (میرب خان)

pakistanحصول ارض پاکستان فقط چند دنوں کا قصہ نہیں بلکہ ایک طویل داستان ہے انتھک محنت کی، بے لوث جزبوں کی، لازوال جدوجہد کی اور بے مثال قربانیوں کی۔اگر ہم جدوجہد آزادی میں اٹھائے گئے اپنے بزرگوں کے ایک ایک قدم کو اسی ترتیب کے ساتھ قرطاس پہ لکھنا شروع کریں تو شاید صفحات ختم ہو جائیں مگر داستان بے نظیر تمام نہ ہو۔
جب ارادے پختہ ہوں۔قدم ڈگمائیں نہیں تو منزل حاصل ہو کر رہتی ہے۔ ہمارے قائد ملت قائد اعظم محمد علی جناح۔ ہمارے مفکر ملت علامہ محمد اقبال اور دیگر رہنماوں کی ثابت قدمی اور پختہ ارادی کا نتیجہ ہے ہمارا پاکستان۔ جنہوں نے ہندووں۔ سکھوں اور انگریزوں جیسی تعصب پسند قوموں کے غلبے سے مسلمانوں کو نجات دلانے کی جب ٹھانی تو پھر عزم و استقلال کی طاقت سے قافلے کو منزل پر پہنچا کر ہی دم لیا۔ہمیں ہمارا پاکستان دیا جس کی آزاد فضاوں میں ہم سانس لیتے ہیں پورے استحقاق کے ساتھ کہ یہ ملک یہ دیس پاکستان ہمارا ہے۔ ہم اس کے وارث ہیں۔ہم جناح کے وارث ہیں۔ مگر کیا واقعی ہم جناح کے وارث ہیں؟؟ کیا واقعی ہم نے قائد کی وراثت کو سنبھال کر رکھا ہے؟ کیا واقعی ہم احسان مند ہیں؟
افسوس صدافسوس کہ وہ عمارت جو قائد نے ہمیں بطور محفوظ پناہ گاہ کے سونپی تھی تاکہ ہم دنیا کے ظالموں۔ غاصبوں کے جبر سے محفوظ رہیں اور اس عمارت کے چپے چپے کو نکھاریں۔اسے اپنے گھر کی طرح سجائیں سنواریں آج آزادی کے ستر سال بعد بھی یہ عمارت جوں کی توں ہے بلکہ پہلے سے زیادہ خستہ حال ہوئی جا رہی ہے۔ افسوس کہ آج ہمارے پاس پاکستان تو ہے مگر نظریہ پاکستان کہیں کھو گیا ہے۔وہ بنیادی فکر جو جدو جہد حصول پاکستان کی اساس تھی ظلم و بربریت۔ ناانصافی۔منافع و سود خوری۔کرپشن قتل و غارت۔ منافقانہ سیاست اور نفسا نفسی کے غبار میں کہیں دب کر رہ گئی ہے۔ ہم شجر پاکستان کے سائے میں تو بیٹھے ہیں مگر اس شجر کی آبیاری کرنا بھول گئے ہیں۔ہم بھول چکے ہیں کہ جناح اوران کے ساتھیوں کے کچھ خواب تھے جنہیں ہم نے تعبیر دینی تھی۔مگر وہ خواب شاید ہم نے ان کی قبروں میں ان کے ساتھ ہی دفنا دیے تھے
آج اس وطن کے نوجوانوں کے پاس موبائل فونز اور انٹرنیٹ کی سہولت تو موجود ہے۔ ٹیکنالوجی کی جدید سے جدید ایجاد تک رسائی تو ہے مگر ان کے دل محب الوطنی کے جزبات سے اور ذہن مقصد ذندگی اور مقصد ملت سے خالی ہیں۔اگر کہیں ارادہ ہے تو فقط ذاتی خوشحالی اور نمود نمائش کا رجحان غالب ہے۔اجتماعی فلاح و بہبود اورخوشحالی کی سوچ سکڑ کر ذاتی ترقی اور خوشحالی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ قومی سطح کی سیاست ہو یا چھوٹے سے قصبے میں دوکانداری۔ہر جگہ نفسا نفسی کا عالم ہے اک خانہ جنگی ہے جو ذاتی مفادات کے درپردہ جانے کب سے شروع ہے۔ قائد نے پاکستان سب کے لیے بنایا مگر پاکستان کے شہری کی مثبت تعمیری سوچ صرف اپنی ذات کے لیے ہے اور ہم وطنوں کے لیے طرز فکر اور طرز عمل منفی ہے۔
اگر کوئی باشعور دردمند شہری اجتماعی مفاد کے لیے باطل کے خلاف حق کا نعرہ بلند کرتا بھی ہے اگر فرسودہ نظام کےخلاف آواز اٹھاتا بھی ہے تو نا صرف ملک کے اندر عوام کے خون پر پلنے والی کالی بھیڑیں بلکہ دنیا بھرمیں شیطانی سامراجی قوتیں اس کا سر کچلنے کی سازشیں کرنے لگتی ہیں۔ مگر کیا یہ خوف ہے سولی پہ چڑھائے جانے کا؟ کہ ہم کرپشن بدعنوانی اور غریب کے استحصال کرنے والوں کے رنگے ہاتھوں کو پھر بھی چومے جاتے ہیں۔جب وہ غلاموں کی تعداد گننے کو اپنی بڑی بڑی گاڑیوں میں سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ہم ان کی گاڑی کے شیشے کو چھونے کو سعادت سمجھتے ہیں۔ ہجوم در ہجوم موسم کی پرواہ کیے بغیر استقبال میں کھڑے رہتے ہیں۔کیا ہمیں خوف ہے کچلے جانے کا؟ مگر مرد مومن تو خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔ وہ تو ہر حال میں حق کا علم بلند کرتا ہے اور باطل کے خلاف سرگرم رہتا ہے۔مرد مجاہد کی یہ شان نہیں کہ وہ کبوتر کی مانند آنکھیں موند لے یا چوہے کی طرح بل میں دبک کربیٹھ جائے۔
پماری قوم میں ایسے مرد مجاہد بہت کم رہ گئے ہیں جو لا الہ کی صدائیں بلند کرتے ہیں اور مانتے ہیں کہ اقتدار کی مالک صرف اللہ تعالی کی ذات ہے۔ انہیں قرآنی شعور حاصل ہے اور بہت ضرورت ہے پوری قوم میں اس قرآنی شعور کو بیدار کرنے کی جس سے ملک میں عدل و انصاف کا نظام قائم ہو۔ امیر غریب کا فرق مٹےاور حق دار کو اس کا حق ملے اور یہ شعور ہی دراصل نظریہ پاکستان کہلاتا ہے۔
یارب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے

Top