قلم ایک طاقت (موسیٰ غنی)

penتاریخ انسانیت پر ایک عقابی سی نظر ڈورائیں تو پتا چلتا ہے کہ ہر دور میں اہل اور اہل قلم لوگوں نے دلوں پر راج کیا۔ اہل قلم نے پوری دنیا میں قلم سے دنیا میں علم ، محبت ، اخوت و بھائی چارے اور امن و آتشی کا درس و پیغام دیا۔ اہل علم و ادب نے قلم کی روشنی سے دنیا کی تاریکی کو مٹانے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔ اہل علم و ادب نے وقت کے ظالموں ، انسانیت کے دشمنوں ، لاقانونیت کے فرعونوں کے خلاف قلم سے جہاد کیا اور کیونکہ اہل حکمت و دانش جانتے ہیں کہ قلم ہر طرح کے ہتھیارسے زیادہ طاقت ور ہے۔ قلم کی نوک کے نیچے سیاہی آ کر روشنائی میں بدل جاتی ہے۔ یعنی دہنوں کا اندھیرا قلم کی روشنی سے اجالے میں بدلا جاسکتا ہے۔

قلم کی اپنی طاقت ہے۔ سیاہی کی اپنی اندھیروں کی فسادی فوج ہے مگر قلم کی طاقت نے ہمیشہ سے ہی اندھیروں کا سر کچلا ہے۔۔ تلوار و ہتھیار کے زور پر کبھی بھی کسی سے ذہنی طور پر کوئی بات قبول نہیں کروائی جاسکتی۔کوئی بھی چیز دلی طور پر مسلط نہیں کی جاسکتی۔۔ ہتھیار سے محض مجبور کر کرکے کسی سے بظاہر طور پر منوائی جاسکتی ہے مگر دلی طور پر وہ کبھی بھی ایسی اپنے اوپر مسلط کی گئی سوچ کو قبول نہیں کریگا۔ اگر قلم اورہتھیار کی طاقت کا موازنہ کریں کہ تلوار کی دھار تیز ہے یا قلم کی نوک۔ ارے قلم کو امن کی علامت اور ہتھیار و تلوار دہشت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر قلم سے زیادہ تلوار میں طاقت ہوتی تو رب کائنات سروردو عالم کو سب سے پہلے قلم کی بجائے شمشیر اٹھانے کا درس دیتے۔

کشمیر سے لیکر فلسطین تک مسلمانوں کو مدرسے اور تعلیم سے نااشناءکیا جارہا تاکہ وہ اپنادین ،قرآن نہ سمجھ سکیں کیوں ہم اتنے کمزور ہیں کہ ان کے اس کارنامے کو پورا کرررہے ہیں میری سمجھ ہے اتنی اور نہ میری اتنی طاقت لیکن عالمی محاذ لے کر موجودہ امت مسلمہ فقدان صرف اور صرف شعور کا ہے ۔جس دن اس قوم اور امت کو ہوش آیا اس دن اس کو شکست دینے کا خواب دیکھنے والے خود شکست خوردہ ہونگے لیکن اس کا آغاز ہم کو کہیں نہ کہیں سے کرنا ہوگا اس میں میڈیا سے لے کر اساتذہ تک کا کردار بہت اہم ہے۔

قلم کی روشنی سے ڈرکر بھاگنے والے کوئی اور نہیں اندھیروں کے باسی جاہل دہشت گرد ہیں۔۔ انھیں قلم کی روشنی سے ہی شکست دینا ہوگی۔۔ ہتھیار سے اس دہشت گردی کا اس طرح بدلہ نہیں لیا جا سکتا جیسا کہ قلم سے لیا جاسکتا ہے۔۔ جہنوں نے قلم کی طاقت کو روکنے کی ناکام کوشش کی ، اور معصوم طالبِ علموں اور اساتذہ کو شہید کیا۔ انکے اس تعلیم کام کوروکنے کی سازش کا موثر جواب تعلیم اور قلم کی برتری سے جواب دے سکتے ہیں تعلیم عام کر سکتے ہیں۔یعنی دہشتگردی کا بدلہ ان جاہل اندھیروں کے باسیوں کے بچوں کو روشنی پہنچا کر انہیں تعلیم دے کر انھیں دہشت گرد بننے سے روک سکتے ہیں اور یہی اس کا موثر جواب ہوگا۔

آج بھی دنیا کا گلوبل ویلج سے گلوبل سٹی کا سفر قلم کے زور پر ہورہاہے۔ دنیا کے عظیم ترین معائدے ہتھیار سے نہیں تحریر کیے گئے بلکہ قلم کی سیاہی سے۔ دعا ہے رب دوجہاں سے کہ ہمیں ہتھیار سے زیادہ قلم کی طاقت عطا ءفرمائے۔ آمین

Top