ملک میں سیاسی بے یقینی (عثمان الدین)

politics confusionملک میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری سیاسی بے یقینی اور افراتفری تا حال برقرار ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہورہا ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ یہ سیاسی بے یقینی کب تک جاری رہتی ہے اور اس کا منطقی انجام کیا سامنے آتا ہے۔ مارچ 2018میں سینیٹ کے انتخابات ہونے ہیں ،توقع یہ کی جارہی ہے کہ اس سے قبل ہی اونٹ کسی ایک کروٹ بیٹھ جائے گا۔لیکن سر دست ملک اس سیاسی بے یقینی کی وجہ سے ایک بحران کا شکار ہے، اس وقت ملک کو بنیادی طور دو وسنگین مسائل در پیش ہیں ۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کو مضبوط اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی حکومت دستیاب نہیں ہے ، ملک میں اس وقت ایک کمزور حکومت قائم ہے جو عملی طور پر مفلوج اور بے بس ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ وزیر اعظم اور تمام اہم وفاقی و زراءانتہائی دباو میں ہیں ،وزیر اعظم ایک جانب نواز شریف کے احکامات ماننے کے پابند ہیں تو دوسری جانب ان کے لیے ریاستی اداروںکو بھی اپنے ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے ،ایک ایسے وقت میں جب نواز شریف اور ریاستی اداروں کے مابین ایک بڑی خلیج موجود ہے ،وزیر اعظم کے لیے دونوں کو راضی رکھتے ہوئے حکومت کا نظام چلانا ایک بہت بڑی آزمائش سے کم نہیں ہے ،وزیر داخلہ کی اگر بات کی جائے تووہ خودہی اپنی لاچاری اور بے بسی کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں ، ان کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ ان کے ماتحت ادارے کہیں اور سے احکامات لیتے اور ان پر عمل کرتے ہیں جبکہ وزیر دا خلہ کو اس کی خبر تک بھی نہیں ہوتی ہے ،وزیر خارجہ پر عدالت میں اقامہ کی وجہ سے نا اہلی کی تلوار لٹک رہی ہے اور وہ بھی بے بس ہی دکھائی دےتے ہیں،وزیر خزانہ ملک سے باہر اور احتساب عدالت کے مفرور ہیں،وزیر دفاع بھی منظر سے غائب ہیں ، اب ظاہر ہے حکومت انہیں ارکان مملکت سے چلتی ہے اورجب وہ اس قسم کی صورت حال سے دو چار ہیںتو حکومت میں مضبوطی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت و طاقت کہاں سے آئے گی ۔اس لیے حکومت کا مقصدبھی اب وقت گزاری سے زیادہ کچھ نہیں ہے کیونکہ سیاسی نقطہ نظر سے شاید اسی میںحکمران جماعت کے لیے فائدہ ہے۔
دوسرا ہم مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت ریاستی اداروں کے درمیان تناو اور کشیدگی ہے ،ادارے آپس میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف عمل ہیں،حکمران جماعت اور عدلیہ کے درمیان نواز شریف کی نااہلی کے بعد سے سخت تناو ہے،نواز شریف سے لے کر حکومتی وزراءتک ،یہ سب مسلسل عدلیہ پر انتہائی سخت تنقیدکرتے نظر آتے ہیں ، آپ پانامہ کیس کے فیصلہ کے خلاف نواز شریف کی ریویو پٹیشن پر سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ اور اس کے جواب میں حکمران جماعت کا اعلامیہ دیکھ لیں آپ کو اس تناو کی شدت کا اندازہ ہوجائے گا ،ساتھ ہی حکمران جماعت کے اسٹبلیشمنٹ کے ساتھ بھی تعلقات ٹھیک نہیں ہیں، ایک جانب سے کبھی اشارات اور کنایات میں تو کبھی کھل کر الزامات کاسلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب سے بھی مخصوص اندازمیں جواب دینے کاسلسلہ جاری ہے ۔پھر گزشتہ دنوں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے فوج کے حوالہ سے جو غیر معمو لی ریمارکس سامنے آئے ہیں ، اس نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عدلیہ میں بھی اختلاف نظر آرہاہے کیونکہ ایک جانب اسلام آباد ہائیکورٹ فیض آباد دھرنے کے حوالہ سے فوج کے کردار پر انتہائی سخت برہم ہے تو دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ فوج کے کردار کی تعریف کررہی ہے ۔خلاصہ یہ کہ ادارے اس وقت ایک دوسرے کے خلاف آمنے سامنے کھڑے نظر آرہے ہیں ۔
یہ دو اہم اور بنیادی مسائل ہیں جن کا اس وقت ملک وقوم کا سامنا ہے،افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کو ان سنگین مسائل کا سامنا ایک ایسے وقت میں ہے جب عالمی حالات اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں ملک میں سیاسی استحکام،مخلص ومضبوط قیادت اور اداروں کے درمیان اتفاق و اتحاد اور تعاون کا ہوناانتہائی نا گزیر ہے، عالمی طاقتوںکے شروع دن سے پاکستان کے بارے میں مذموم مقاصدہیںاور اب وہ ان مقاصد کی تکمیل کے خواہاں ہیں، عالمی طاقتیں اس کے لیے ملک میں اسی قسم کی صورت حال کو دیکھنا چاہتی ہیں،بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اپنی ہی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ان کی خواہش پوری کررہے ہیں ،اگر ملک میں یہی صورت حال جاری رہتی ہے تو عالمی طاقتوں کے لیے ان مقاصد کی تکمیل آسان سے آسان تر ہوتی جائے گی۔

غرض یہ کہ ملک اس وقت جس بحرانی صورت حال سے دوچار ہے اس سے ملک کوفوری طور پر باہر نکالنا انتہائی ضروری ہے اور یہ کسی ایک فرد یا ادارہ کی نہیںبلکہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، ریاستی اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرزکی مشترکہ ذمہ داری ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ سب اس وقت آپس کے اختلافات اور ضد و انا کو پس پشت ڈال دیںاور ملکی مفاد کے لیے خلوص کے ساتھ متحد و متفق ہوکر ملک کو اس بحران کی کیفیت سے باہر لانے میں اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ مسئلہ اس وقت ملک اور ریاست کا ہے جس کے تحفظ کی ذمہ داری سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں ہے ۔
musmanuddin786@gmail.com

Top